رسائی کے لنکس

قطع نظر اِس کے کہ تشدد کا آغاز کس جانب سے ہوا، اِس کی وجہ سے فوج کی اُن کوششوں کو دھچکہ پہنچا ہے جو وُہ مرسی کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں کی حمائت سے ایک عبوری حکومت کے قیام کے لئے کر رہی ہے: واشنگٹن پوسٹ

’کرسچن سائینس مانٹر‘ کا کہنا ہے کہ پیر کے اِن ہنگاموں کے بعد مصر میں ایک و سیع البنیاد حکومت کے قیام کی امیدیں معدوم ہوگئی ہیں، جِن میں اخوان المسلمین کےاحتجاجی مظاہروں میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ۔ یہ مظاہرے فوج کے ری پبلکن گارڈز کے باہر ہوئے تھے۔

مظاہرین باور کرتے ہیں کہ معزول صدر محمد مرصی کو وہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔

اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ فجر کی نماز کے دوران پُرامن مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن، ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مسلّح دہشت گردوں کی طرف سے بھرپور حملے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اِسی کے جواب میں، پھر فوج نے گولی چلا دی۔

ادھر، ’واشنگٹن پوسٹ‘ کا کہنا ہے کہ قطع نظر اِس کے کہ تشدد کا آغاز کس جانب سے ہوا، اِس کی وجہ سے فوج کی اُن کوششوں کو دھچکہ پہنچا ہے جو وُہ مرسی کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں کی حمائت سے ایک عبوری حکومت کے قیام کے لئے کرر ہی ہے۔

سلفی عقیدے کی ’النُور پارٹی‘ وُہ واحد اسلام پسند جماعت ہے جِس نے صدر مرسی کو برطرف کرنے کی حمائت کی تھی۔ لیکن، اب اِس تشدد کے بعد اُس نے فوج کی حمائت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

اخبار کی نظر میں یہ بات اُس کمزور سی سیاسی کوشش کے لئے ایک دھچکہ ہے جِس کا مقصد اسلام پسندوں کو اقتدار سے باہر رکھنا نہیں تھا۔

’نیو یارک ٹائمز ‘ کہتا ہے کہ پچھلے ہفتے اقتدار پر فوج کا قبضہ ہونے تک، مصر کا معاشرہ اخوان المسلمین اور اُس کے مخالفین کے درمیان بُری طرح بٹ گیا، تو النُور پارٹی تقریباً اکیلے ہی اِس کوشش میں تھی کہ دونوں فریقوں کے درمیان ملک کی بھلائی کی خاطر مصالحت ہوجائے۔ چنانچہ، النور نے اُن احتجاجی مظاہروں سے اپنے آپ کو علٰیحدہ رکھا تھا جو محمد مرسی کی حکومت کے خلاف شروع ہوئے تھے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ ایک طرف اخوان المسلمین اور اُس کے اتّحادیوں نے صدر مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاجی مظاہرے وسیع تر کرنے کا عہد کیا ہے، تو دوسری طرف، اُن کےمخالفین نے بھی اِن کے جواب میں بھاری مظاہرے منعقد کئے ہیں، جبکہ، اخبار کے بقول، امریکی سفارت کاروں کی یہی کوشش رہی ہے کہ اسلام پسندوں کو مرسی کی حکومت کے خاتمے کوتسلیم کرنے کا قائل کیا جائے۔

ہفتے کے روز ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادراے کے سابق سربراہ ، محمّد البرادی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ لیکن، بعد میں اِس کی تردید کی گئی جب انتہا درجے کے قدامت پسند سلفیوں نے یہ اعتراض اُٹھایا کہ مسٹر البرادی حد سے زیادہ سیکیولر واقع ہوئے ہیں، اورا ُنہوں نے بظاہر اُن کے تقرّر کو مسترد کر دیا۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران مصر میں زبردست مظاہرے ہوئے ہیں جِن کا مقصد پہلے تو محمد مرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹنا تھا اور اب جوابی مظاہروں میں اُن کی حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اِس کے علاوہ، سابق صدر کے اسلام پسند حامیوں اور اُن کے سیکیُولر حامیوں کے درمیان بھی اکّا دکا جھڑپیں ہوتی آئی ہیں۔

اخبار کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حصول اقتدار کی کشمکش میں سعودی عرب کو برتری حاصل ہوئی ہے اور اُسے اخوان المسلمین اور اُن دوسری اسلام پسند سیاسی تحریکوں کے خلاف تقویت حاصل ہوئی ہے جِن کے حوصلے دنیائے عرب کی رواں انقلابی تحریکوں سے بُلند ہوئے تھے۔
XS
SM
MD
LG