رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے:2011ء، مصر کی عوامی بغاوت


اخبار ’بوسٹن گلوب‘ کہتا ہے کہ مصری دارالحکومت میں کشیدگیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور مصری فوج کے حامیوں اور اُن کے اسلام پسند مخالفیں نے اپنے اپنے موقّف کی حمائت میں ایک دوسرے کے مدّ مقابل جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے

مصر میں سنہ 2011 کی جس عوامی بغاوت نے ملک کو حسنی مبارک کی آمریت سے نجات دلائی تھی، اُس کی تیسری سالگرہ سے ایک دن پہلے قاہرہ کے گرد و نواح میں بم پھٹنے کی متعدد وارداتوں نے شہر کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ ان میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں، اور ان میں ایک خود کُش کار بم دہماکہ شامل ہے، جس کی وجہ سے اسلامی نوادرات کا ایک عجائب گھر تباہ ہو گیا ہے۔

اخبار ’بوسٹن گلوب‘ کہتا ہے کہ مصری دارالحکومت میں کشیدگیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور مصری فو ج کے حامیوں اور اُن کے اسلام پسند مخالفیں نے اپنے اپنے موقّف کی حمائت میں ایک دوسرے کے مدّ مقابل جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ تازہ بم دہماکوں کی ذمّہ داری کا کسی نے دعویٰ نہیں کیا ہے۔ تین جولائی کو صدر مُرصی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد، اسلامی عسکریت پسندوں کی طرف سے پولیس اور فوج پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تازہ حملوں سے ایک روز قبل، مصر کے فوجی اور سیکیورٹی کے لیڈروں نے پولیس کے اعزاز میں ایک دن منایا تھا، جس میں سیکیورٹی فوجوں کی تعریف کرتے ہوئے، اُنہیں دہشت گردی کے خلاف صف آراء قومی ہیرو قرار دیا گیا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ ’انصار بیت المقدس‘ نامی ایک تنظیم نے، جو القاعدہ سے متاثر ہے، مصر کے اندر حال میں ہونے والے حملوں میں سے بیشتر کی ذمّہ داری کا دعویٰ کیاہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ یہ کئی مہینوں سے مُرصی کے حامیوں کا جو قتل ہوا ہے، یہ حملے اس کا انتقام لینے کے لئے کئے گئے۔ اس کا اشارہ اُن احتجاجی مظاہرین کے خلاف پولیس کے کریک ڈاٴؤن کی طرف تھا جو فوجی بغاوت کی مذمّت کر رہے تھے اور مُرصی کی صدارات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ایک ادارئے میں چین کی کمیونسٹ قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ اُنہیں زُو ذی یونگ جیسے سرگرم کارکنوں کو اپنا اتّحادی تصوّر کرنا چاہئے، کیونکہ وہ ملک کی معیشت کی اصلاح کرناچاہتے ہیں، بدعنوانیوں کو جڑ سے ختم کرنا اور ملک میں زیادہ نمایندہ اور دیرپا نظام تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بدلے، ہو یہ رہا ہے کہ اس چالیس سالہ وکیل اور اس کے چھ پیروکاروں کے خلاف بیجنگ میں مقدّمہ چلایا گیا ہے۔

مسٹر زُو نے عدالت میں بیان دیا کہ بجائے اس کے کہ اُن کی نئے شہریوں کی تحریک کو تعمیری تسلیم کیا جائے، زی جِنگ پِنگ کی حکومت اس سے خوف زدہ ہے۔


اخبار کہتا ہے کہ صحافیوں اور مغربی سفارت کاروں کو عدالت میں جانے سے منع کیا گیا تھا، اور اخبار کا سوال ہے کہ اس تنظیم سے خوف کھانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، جس کا پُرامن مطالبہ یہ ہے کہ ذمّہ دار عہدہ دار اپنے اپنے اثاثوں کی تفصیل لوگوں کو بتائیں۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ مقدّمہ شروع ہونے سے پہلے، واشنگٹن میں قائم تحقیق کے ماہر صحافیوں کے ایک کنسورشیم نے اُن کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا، جب اُسے 25 لاکھ افشاء کردہ دستاویزوں کے مطالعے سے پتہ چلا کہ چین اور ہانگ کانگ کے شہریوں کے مندر پار ملکوں میں 22 ہزار بنک اکاؤنٹ ہیں۔


اقتدار میں آنے کے پہلے سال، مسٹر زی نے عوام کا دل موہنے کی کوشش میں رشوت ستانی کے خلاف مہم چلانے کا عہد کیا تھا۔ لیکن، مسٹر زُو کی تحریک کو جس طرح ہراساں کیا جارہا ہے، اُس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ چین کے نئے لیڈر کا اصل مقصد حکومت کے اندر موجود کرپشن کے بھاری بھرکم نیٹ ورک کو تحفّظ فراہم کرنا ہے۔ اور جیسا کہ مسٹر زُو نے عدالت کو بتایا، اُن کی تحریک کو دبا کر چین کے لئے وہ راستہ بند کیا جا رہا ہے، جس پر چل کر پُر امن اصلاحات کی مد د سے جمہوری اور آئینی حکومت کا قیام ممکن ہے۔

اور اب، ذکر ہے جنوبی کوریا کے نام شمالی کوریا کی طرف سے اُس کُھلے خط کا، جس میں این بی سی ٹیلی وژن کے بقول دونوں ملکوں کے مابین دُشمنی ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ یہ خط جنوبی کوریا اور امریکہ کی جنگی مشقیں شروع ہونے سے پہلے لکھا گیا ہے، اور اس میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ عشروں سے جاری باہمی کشیدگی جوہری جنگ میں بدل سکتی ہے، جس میں کوئی بھی کوریائی باشندہ نہ بچ پائے گا۔
XS
SM
MD
LG