رسائی کے لنکس

کابینہ کی حلاف برداری کے بعد، اخوان المسلمین کے ایک ترجمان نے نئی حکومت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اُسے ردّ کر دیا

مصر کے عبوری صدر نے ایک نئی کابینہ سے حلف لیا ہے، جو اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کے مطابق، لبرل اور سیکیولر اور عیسائی ارکان اور خواتین پر مشتمل ہے، اور اس میں اسلام پسند پارٹیوں کا ایک بھی فرد شامل نہیں ہے۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس سے فوج کے سربراہ کے اختیارات میں اضافہ ہو گیا ہے، جس نے دو ہفتے قبل ملک کی پہلی جمہوری طور پر منتخب ہونے والی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔

حلف برداری سے چند گھنٹے قبل، قاہرہ میں پولیس اور معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں سات افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ سب کُچھ امریکی نائب وزیر خارجہ ولیم برنز کے مصر پہنچنے کے بعد ہوا۔ مسٹر مرسی کی برطرفی کے بعد، یہ کسی اعلیٰ امریکی عہدہ دار کا مصر کا پہلا دورہ تھا۔

کابینہ کےارکان سےچیف جسٹس عدلی منصور نےحلف لیا، جنہیں اسلام پسند صدر مرسی کے خلاف چار روز کے وسیع پیمانے کے مظاہروں کے بعد عبوری صدر مقرر کیا گیا تھا۔ فوج کے سربراہ جنرل ابو الفتح السِیسی کے پاس وزارت دفاع کا عہدہ برقرار ہے، اور اُنہیں نائب وزیر اعظم کا اضافی عہدہ سونپا گیا ہے۔ مرسی کے دور حکومت کے خلاف قومی نجات کا جو محاذ سرگرم عمل تھا اُس کی کم از کم تین شخصیّتوں کو نئی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ۔ اور اس کے چوٹی کے لیڈروں میں سے محمّد البرادی کو نائب صدر کا عہدہ سونپا گیا ہےِ۔

عبوری حکومت کے ذمّے، ایک منصوبے پر عمل در آمد کرنا ہے، جس کے مطابق مسٹر مرسی کے دور میں اسلام پسندوں کے تیار کردہ آئین میں ترمیم کرنے کے لئے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، اور اگلے سال کے اوائل میں ایک نئی پارلیمنٹ اورصدر کے انتخابات منعقد ہونگے۔

کابینہ کی حلاف برداری کے بعد، اخوان المسلمین کے ایک ترجمان نے نئی حکومت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اُسے ردّ کر دیا۔ سلفی پارٹی النُور نے، جس نے پہلے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی حمائت کی تھی، اب یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نئی حکومت وہی غلطیاں کر رہی ہے جو مرسی کی حکومت سے سرزد ہوئی تھیں، اور جن کی وجہ سے اس کی دانست میں مکمل طور پر متعصّب حکومت وجود میں آتی ہے۔

یہاں واشنگٹن میں، محکمہٴ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کو اس پر تشویش ہے کہ مصر میں تمام اطراف سے خطرناک حد تک دُوریاں بڑھ رہی ہیں، جب کہ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہناتھا کہ ہم پُرامن حل کی حمائت کرتے ہیں، جس کی بنیاد مغائرت نہیں بلکہ مصالحت ہونی چاہئے۔

امریکہ میں حقوق انسانی کی تنظیمیں فلوریڈا کی ایک عدالت کے فیصلے کے خلا ف اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں جیوری کی سفارش پر جارج زمرمان نامی ایک شخص کو قتل کے الزام سے برّیُ الذمہ قرار دیا گیا تھا اور اُس کا یہ موقّف تسلیم کر لیا گیا تھا کہ اس نے 17 سالہ سیاہ فام نِہتّے لڑکے ٹرےوان مارٹن کو اس لئے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا کہ اُس سے اُس کی جان کو خطرہ لاحق تھا۔ اس طرح، اس کی یہ دلیل مان لی گئی تھی کہ فلوریڈا کے قانون کے تحت اُسے اپنی جان بچانے کے لئے گولی چلانے کا حق حاصل تھا۔

امریکی اخبارات سی این این کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ شہری آزادیوں کی تنظیمیں ملک بھر میں مظاہروں کا اہتمام کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر 10 لاکھ سے زیادہ لوگ اس درخواست کی حمائت کر چُکے ہیں کہ پچھلے سال فروری میں گولی چلانے کا اقبال کرنے والے زمرمان کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے فرد جُرم عائد کی جائے اور اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کا محکمہ یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ آیا ٹرے وان مارٹن کےقتل کا مقدّمہ دائر کیا جائے یا نہیں۔

’یُو ایس اے ٹوڈے‘ کے مطابق، فلوریڈا کی عدالت فیصلے پر اپنے اعلانیہ تبصرے میں اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ٹرے وان مارٹن حرام موت مارا گیا ہےاور اُنہوں نےعہد کیا ہے کہ وُہ زمرمان کو قتل سے بریُ الذمّہ قرار دئے جانے کے بعد شہری آزادیوں کی تحقیقات کرائیں گے۔

سیاہ فام خواتین کی ایک تنظیم سے خطاب کرتے ہوئے ایرک ہولڈر نے کہا کہ اس سانحے نے اس قوم کو ایک موقع فراہم کیا ہے کہ اس سے پیدا ہونے والے پیچیدہ امُور پر ایمانداری سے بات کی جائے۔ وفاقی تحقیقات پر روشنی ڈالتے ہوئے،مسٹر ہولڈر نے کہا کہ یہ حقائق اور قانون کے عین مطابق ہوگی، تاکہ انصاف کے تقاضے پُورے ہوں۔

اُدھر وہائٹ ہاؤس کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فرد جرم عائد کی جائے یا نہیں۔ اس میں صدر اوبامہ کا کوئی کردار نہیں ہوگا، جنہوں نے مارٹن کی ہلاکت کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئےکہا تھا کہ اس سے جذبات بھڑک اُٹھے ہیں۔ لیکن، عوام کو صبر کی تلقین کی تھی۔

قانونی ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوجداری مقدّمہ نہ ہوا، تو بھی ٹرے وان مارٹن کے خاندان والوں کو زمرمان سے ہرجانہ حاصل کرنے کے لئے اُس کے خلاف دیوانی مقدّمہ دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن، ایسے مقدّمے میں قید کی سزا نہیں ہوتی۔
XS
SM
MD
LG