رسائی کے لنکس

بُہت سے اخوان کارکن اس قتل عام، عیسائیوں اور سیکیولر طبقے کی بے حسی پر برہم ہیں، جن کے بارے میں اسلام پسند کہتے ہیں کہ یہ لوگ ان ہلاکتوں کو نہ صرف نظرانداز کر رہے ہیں: نیو یارک ٹائمز

مصر میں محمد مُرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد ملک کے تمام اسلام پسند مل کر دھرنے دے رہے ہیں، اپنی برہمی کا اظہار کر رہے ہیں، تبلیغ کر رہے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں۔ قاہرہ سے اِن الفاظ میں ملک کی ہیجانی کیفیت بیان کرتے ہوئے ’نیو یارک ٹائمز ‘کہتا ہے کہ اخوان المسلمین کے دسیوں ہزاروں ارکان کیچڑ سے لت پت خیموں میں ہفتوں سےدھرنا دئے ہوئے ہیں۔

اور اسلامی پوشاک میں ملبوس افراد، اس جمِّ غفیر میں یہ کتبے اُٹھائے ہوئے نظر آرہے ہیں، جِن پر یہ بے جوڑ عبارت درج ہے لبرل مُرسی کے حامی، عیسائی مُرسی کے حامی، اداکار مُرسی کے حامی۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ دراصل اخوان کی مُرسی کو دوبارہ اقتدار کے مسند پر بٹھانے کے لئے ہر کس و ناکس کی حمائت حاصل کرنے کی کوشش کا حصّہ ہے جن کا 3 جولا ئی کو فوج نے تختہ اُلٹ دیا تھا۔ اور دھرنے کےاس علاقے سے ہفتے کو علی الصُبح بازاروں میں جو خُونریز جھڑپیں ہوئی تھیں، اُن میں اخوان کے کم از کم72 حامیوں کو گولی مار ہلاک کیا گیا تھا، اور سینکڑوں کو زخمی کیا گیا تھا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ بُہت سے اخوان کارکن اس قتل عام، عیسائیوں اور سیکیولر طبقے کی بے حسی پر برہم ہیں، جن کے بارے میں اسلام پسند کہتے ہیں کہ یہ لوگ ان ہلاکتوں کو نہ صرف نظر انداز کر رہے ہیں، بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ وُہ اُن کی حمائت کر رہے ہیں بلکہ در پردہ وزیر دفاع جنرل عبدالفتح سِسی کے اس کریک ڈاؤن کو جاری رکھنے کے فیصلے کے بھی حق میں ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اخوان والے اس کے لئے تیار ہیں کہ اُن کا دھرنا زبردستی تتّربتّر کر دیا جائے گا، اور اُن کی تنظیم کو پھر انڈر گراؤنڈ جانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اسے جس بُحران کا سامنا ہے، اُسی کی روشنی میں اُس کی سالہا سال کی پالیسی تشکیل پائے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ چونکہ مسٹر مُرسی سمیت اخوان کی بیشتر قیادت زیر حراست ہے، اس لئے وُہ مستقبل کے بارے میں کوئی صلاح مشورہ نہیں کر پائی ہے، اور یُوں بھی اُس کے پاس محدود چارہ کار ہیں۔ کیونکہ، اگر وُہ پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوتی ہے، تو اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اُس پر مستقبل میں اس سے بھی زیادہ سختی نہیں برتی جائے گی، اور اس طرح، ایسا کرنا اُس کے لئے خُود کُشی کے مترادف ہوگا۔

اخبار کہتا ہے کہ حالیہ برسوں میں اخوان کی جدوجہد ایک طرح سے ماضی کے حالات کی طرف مراجعت ہے جب کئی عشروں تک اُس کی حیثیت غیر قانونی تھی۔

ادھر، ’لاس انجلیس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ حکومت کےخلاف مظاہرے کرنے والوں کا مصری فوج کے ساتھ پھر تصادم ہوا، اور مزید لوگ ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

مصری ٹیلی وژن سٹیشنوں پر خون سے لت پت بے ہوش مظاہرین کے مناظر اور مصر ی پرچموں میں لپٹی ہوئی میّتیں دکھائی گئیں۔

اخوان کے ترجمان جہاد حدّاد نے الجزیرہ ٹیلی وژن کو بتایا ۔کہ مصر محض پانچ سال کے اندر پھر ایک پولیس سٹیٹ میں بدل گیا ہے۔ ً

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ اتوار کو سابق صدر مُرسی کے حامیوں تہِ تیغ کرنے کے بعد مصر کی عبوری حکومت نے سابقہ آمرانہ حکومت کی بحالی کی طرف ایک اور قدم اُٹھایا،۔ جب صدر عدلی منصور نے وزیر اعظم ہاضم ببلوی کو اختیار دیا، جس کے تحت فوجی عام شہری کو حراست میں لے سکتے ہیں۔ اس سے پہلے وزیر داخلہ کہہ چُکے ہیں کہ دہشت گردی اور مذہبی سیاست کا مقابلہ کرنے والی ڈئرکیٹوریٹ کو بحال کیا جارہا ہے، یہ مصری خفیہ پولیس کی ایک یونٹ ہوا کرتی تھی۔ کئی عشرےتک اس کے ذمّے ایسے لوگوں کو دبا کر رکھنا تھا جو حکومت کی نظر میں دہشت گرد تھے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ ہے کہ تین ہفتے قبل مصری فوج کے ہاتھوں ملک کے پہلے مُنتخب صدر کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد پُرتشدّد بغاوت، وادئ سینا کی طرف پھیل رہی ہیں جہاں کے صحراؤوں کی خاموشی مشین گنوں کی گولیوں اور راکیٹ سے چلنے والے گرینیڈوں کی گونج سے پاش پاش ہو گئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس نئے بُحران نے مصر کی فوج کے لئے اپنے اسلام پسند مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کا ایک اور عُذر فراہم کیا ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق کہ اب جب اسرائیل نے 104فلسطینی قیدی رہا کرنے کی حامی بھری ہے، مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات دوبارہ شرو ع ہونے والے ہیں۔ قیدیوں کی رہائی مذاکرات کی بحالی میں ایک بڑی روکاوٹ تھی۔ دونوں فریقوں کو امن مذاکرات کے لئے آمادہ کرنے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی سفارت کاری کو بُہت زیادہ دخل رہا ہے۔

امریکی محکمہٴخارجہ کے مطابق اسرائیل وزیر خارجہ زپّی لِونی اور فلسطینی سفارت کار صائب ارکات منگل کو وُہ دائرہٴکار طے کریں گے، جس میں رہتے ہوئے جامع مذاکرات منعقد کئے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG