رسائی کے لنکس

اخبار ’بالٹی مور سن‘ ایک مضمون میں کہتا ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے سرگرم لیڈر کارل رؤو کے دو بھاری سیاسی فنڈ تھے جنہوں نے ری پبلکن امید وار مٹ رامنی کی بھر پور مدد کی اور صرف ٹیلی وژن اشتہاروں پر127 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی

امریکہ میں رواں سال کے انتخابات میں کروڑپتی طبقے نے نتائج پر اثرانداز ہونے پر پانی کی طرح جو پیسہ لُٹایا ہے اُس پر ایک ممتاز ماہر معاشیات اور سابق وفاقی وزیر محنت، رابرٹ رائش ’بالٹی مور سن‘ میں ایک مضموں میں کہتے ہیں کہ سنہ 2012 کے انتخابات سے سب سے بڑا سبق کیا ملتا ہے۔

اس کا جواب بعض لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ باوجودیکہ ارب پتیوں نے ان انتخابات پر بھاری رقوم جھونک دیں، اُن کو بھاری نُقصان ہوا ہے اور کیا اب اُنہوں نے سبق سیکھ لیا ہے اور کیا اب دوبارہ ایک اورانتخاب خریدنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ رابرٹ رائش کہتے۔ ہیں کہ یہ سوچ غلط ہے، باوجودیکہ اب کی بار اس سیاسی سرمایہ کاری سے اُنہیں فائدہ نہیں ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ ری پبلکن پارٹی کے سرگرم لیڈر کارل رؤو کے دو بھاری سیاسی فنڈ تھے جنہوں نے ری پبلکن امید وار مٹ رامنی کی بھر پور مدد کی اور صرف ٹیلی وژن اشتہاروں پر127 ملین ڈالر کی رقم خرچ کی ۔ ایک اور مثال ارب پتی شیلڈن ایڈ ل سن کی ہے جن کا ایک سو ملین ڈالرایسے امید وارو پر خرچ ہوئے ، جو ہار گئے۔یہی حال ارب پتی صنعت کار چارلز اور جو ریکیٹ کے چار سو ملین چندے کا ہوا ۔ رائش کہتے ہیں ، کہ اس کا مطلب نہیں ہے کہ اس طرح کی سیاسی سرمایہ کاری ختم ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ 2012 کے نقصانوں کی وجہ سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور جیسے جیسے دولت کا ارتکازبڑھتا جائےگا، اس قسم کی سرمایہ کاری بھی بڑھتی جائے گی۔

اسی موضوع پر کرسچن سائینس مانٹر میں نیتھن کارڈیلز نے ایک مضموں میں خبر دار کیا ہے ، کہ دولت کے اس طرح کے ارتکاز سے تمام لوگوں کے لیے مساویانہ بنیادوں پر مواقع کی دستیابی کی امریکی روائت کو خطرہ لاحق ہے۔ اور امریکیوں کی وسیع اکثریت کے لئے جو حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اُن میں نہائت ہی مالدار طبقہ سب سے اُوپر اپنی گرفت مضبوط کرتا دکھائی دے رہا ہے، جب کہ سب سے نیچے روزگار کے جو مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ وُہ کم اُجرتوں والی ملازمتیں ہیں۔ کیونکہ مصنوعات تیار کرنے والی فیکٹریاں ملک سے باہر برآمد ہوئی ہیں، اور ان کی جگہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی لے رہی ہے۔ اور بنک ٹیلر اور ائرلائنوں میں کام کرنے والوں کی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔

مضمون نگار نے کرسٹیا فری لینڈ کی تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں اوپر کے بیس فیصد طبقے کا قومی دولت کے 84 فی صد حصے پر قبضہ ہے ۔ اور سنہ 2008 کے مالی بُحران کے بعد دولت کی یہ تقسیم اور بھی غیر مساویانہ ہو گئی ہے۔اس دولت کا بیشتر حصّہ مالیات پر انتہا ئی دولتمندطبقے کا قبضہ ہے جس نے سنہ 2008 کے بُحران کے وقت تمام کارپوریٹ منافع کا چالیس فی صد حاصل کیا تھا

مضموں نگار کا کہنا ہے کہ پچھلے دو عشروں کے دوران امریکی مصنوعات کا مجموعی قومی پیداوا ر کے ساتھ تناسُب 24 فیصد سے گر کر ، بارہ فیصد رہ گیا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں روزگار کے جتنے مواقع ملک نے کھو دئے اُن کا ایک چوتھائی چین چلا گیا۔

مضمون نگار نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ایک اور پہلو کی طرف توجّہ دلاتے ہوئے کہاہے کہ اس سے بلاشُبہ پیداواریت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ لیکن روزگار کے مواقع میں اضافہ نہیں ہوا ہے ۔اے ٹی ایم مشین سفید پوش کارکُن کے لئے ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔

نوبیل انعام یافتہ ماہر، مائیکل سپینس کے حوالے سے مضمون نگار کہتاہےکہ پچھلے بیس سال کے دوران روزگار کے جو دو کروڑ ستّر لاکھ مواقع پیدا کئے گئے ہیں۔ اُن میں سے نوے فی صد ایسے ہیں ، جن کی اُجرتوں کی شرح کم ہے۔

تاہم، مضمون نگار کو اس میں شُبہ نہیں کہ امریکہ کی روائتی جدّت طرازی اصلاح احوال کی صورت نکالے گی اور اس کے ساتھ ساتھ آمدنیوں کی ناہمواریوں کو روکنے میں حکومت کی پالیسیوں کا بھی اہم کردار ہوگا۔

امریکی اخباروں میں سابق پاکستان وزیر اعظم بے نظیر بُھٹو کے بیٹے بلاول بھٹّو کے اپنے سیاسی کیرئر کا باقاعدہ آ غاز کرنے کا نوٹس لیا ہے۔ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی یہ رپورٹ چھاپی ہےکہ اپنی والدہ کی برسی پر گڑھی خدا بخش میں اُن کے ہزاروں عقیدتمندوں کے سامنے بلاول بھٹو نے پُرجوش تقریر کی۔

رپورٹ کے مطابق، ابھی عام انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں جن میں شرکت کرنے کے لئے وہ شائد ابھی چھوٹےہوں۔ البتہ، رپورٹ کے بقول، وہُ حکمران پیپلز پارٹی کے لئے ایک کلیدی اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG