رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے:فسکل کلف، توقعات اور حقیقت


امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے اب اُس بل کی منظوری دے دی ہے جس کا ایک مقصد قومی معیشت کو نام نہاد فسکل کلف یا مالیاتی چٹان سے گرنے سے بچانا تھا اور جیسا کہ ’ واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے اس کے تحت ری پبلکن کو ارکان صدر اوبامہ کے اس مطالبے کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے ہیں کہ ملک کی آبادی کے امیر ترین طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھ جانا چاہئیے۔ اس کے ساتھ ساتھ, اس سے ملک کے متوسط طبقے کےکروڑوں افراد اپنے ٹیکسوں میں اضافے کے خطرے سے محفوظ ہو گئے ہیں۔

لیکن، ایک ادارئے میں ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے کہاہے کہ کانگریس سے منظور ہونے والے سمجھوتے کے اس بل کی بدولت فسکل کلف کے بدترین نتائج کو روکنے کی جو توقّع کی جا رہی تھی وُہ دراصل اُس سے کم ہیں۔

اخبار نے اسے ایک ایسے نامکمل پیکیج سے تعبیر کیا ہےجس سے ملک کےطویل المیعاد قرضے کے مداوے میں بُہت ہی کم مدد ملے گی۔ ایک ابتدائی تخمنیے کے مطابق آمدنی پانے والی اُوپر کے ایک فی صد افراد موجودہ سطح کے مقابلے میں اوسطاً 51 ہزار ڈالر زیادہ ٹیکس ادا کریں گے۔۔ لیکن، اخبار کے خیال میں ملک کو زیادہ ٹیکس کی ضرورت ہے، خاص طور پر آمدنیوں کی بڑھتی ہوئی ناہمواریوں کے پیش نظر ٹیکسوں کے ضوابط کو زیادہ ترقّی پسندانہ خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

’شکاگو ٹریبیون‘ میں ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق کانگریس سے منظور ہنے والی ٹیکس پیکیج سے ملک کی آبادی کا 99 فیصد حصّہ انکم ٹیکس میں اضافے کے خطرے سے بچ گیا ہے۔ البتہ، اُن میں سے بیشتر کو سنہ 2013 کے سال کے دوران وفاقی ٹیکسوں کی مد میں زیادہ اقم ادا کرنی ہوگی۔

نئے ٹیکس پیکیج کے تحت ساڑھے چار لاکھ آمدنی پر انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے بڑھا کر 39 اعشاریہ چھ فیصد کر دی گئی ہے۔ زیادہ آمدنی والے خاندانوں سے اوبامہ کے صحت کی نگہداشت کے قانون کے تحت بھی زیادہ ٹیکس ادا کریں گے۔ چنانچہ، نئے ٹیکس پیکیج اور اور صحت کی نگہداشت کے نئئے قانون کی وجہ سے بُہت سے زیادہ آمدنی والے افراد کے ٹیکس میں خاصہ اضافہ ہو جائے گا۔


’یو ایس اے ٹوڈے‘ نے ایک ادارئے میں فسکل کلف پر ہونے والے اس سمجھوتے کو ایک مکروہ کام چلاؤ ترکیب سے تعبیر کیا ہے جس سے نئے سال کے اس موقع پر قرضے اور خسارے کے چکرا دینے والے مسائل کا ایک معمولی سےاقدام سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے محض 650 ارب ڈالر حاصل ہونگے۔حالانکہ، اگر کُچھ بھی نہ کیا گیا ہوتا اور ٹیکسوں کو بڑھنے دیا گیا ہوتا اور اخراجات کی مد میں تخفیف ہونے دی جاتی، تو اس کے نتیجے میں 46 کھرب ڈالر کی رقم ہاتھ میں آجاتی۔

اس کے ساتھ ساتھ، اخبار کہتا ہے کہ بھلائی شائد یہی قدم اُٹھانے میں تھی جس کی بیشتر وجہ یہ ہے کہ ایک سال کی تُوتُو میں میں کے بعد یہی ایک چارہ رہ گیا تھا جس کو بروقت پاس کرنا ممکن تھا۔ لیکن، بہرحال کوئی شخص اسے حتمی حل ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہ تو محض خانہ پُری کرنے کے مترادف ہے جس کا مقصد اُس اقتصادی خطرے اور انسانی پریشانی سے بچنا تھا جو فسکل کلف سے لُڑھکنے نتیجے میں یقینی تھی۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق ٹیکسوں کے نظام میں جو تبدیلی کی گئی ہےاس کی رُو سے تقریباً بیس سال میں پہلی بار سب سے زیادہ آمدنی والوں کی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس میں امیر لوگوں کے لئے نئےضوابط مقرر کئے گئے ہیں، جب کہ بیشتر لوگوں کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

ایک ماہر معاشیات کے بقول آبادی کے ننیانوے فیصد کی انکم ٹیکس کی شرح میں کم و بیش ً کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’لاس انجلس ٹائمز‘ کہتاہے کہ صدر اوبامہ نے انتخابی مہم کے دوران، امیروں پر ٹیکس بڑھانے کا جو دعدہ کیا تھا وہ انہوں نے پورا کر دکھایا ہے اور سینیٹ میں فسکل کلف سے بچنے کے لئے جس معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کانگریس میں ری پبلکن ارکان اب ایک ایسے بل کی حمائت کر رہے ہیں جس کی رُو سے ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا، جو، اخبار کی نظر میں، قوم کے مالی مسائل اور صدر اوبامہ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اُن کی طرف سے غیر معمولی مراعات سمجھی جائیں گی۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ مالیاتی مسئلے کا جو یہ معتدل معاہدہ طے پایا ہے جارج بُش کےاُس دور کے بعد پہلا ہے جب سنہ 2001 میں ٹیکسوں میں تخفیف کی گئی تھی اور ملک پر بتدریج قرض کا بوجھ چڑھتا گیا، اور اسی اعتبار سے، اس کی اہمیت ہے۔ لیکن، اخبار کی نظر میں یہ ایک کمزور معاہدہ ہے جس میں دولت مندوں کے ساتھ حد سے زیادہ فیاضانہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔ اور اس کی بدولت آمدنی اس حد تک نہیں آ سکے گی، جس کی کہ سرکاری سرمایہ کاری کے لئے شدید ضرورت ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ چونکہ، بُش دور کی ٹیکسوں کی مراعات یکم جنوری کو ویسے ہی ختم ہونے والی تھیں اس لئے ری پبلکن پارٹی کے لئے اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ ان کے پارٹی کے فلسفے میں ٹیکس بڑھانے کی جو ممانعت ہے اس سے روگردانی کی جائے۔

ری پبلکنوں کے ساتھ اس سمجھوتے کی رو سے انکم ٹیکس کے لئے آمدنی کی شرح ساڑھے چار لاکھ ڈالر مقرّر کی گئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ حد ڈھائی لاکھ ڈالر کی اُس حد سے کہیں زیادہ ہے جس پر صدر اوبامہ اپنی انتخابی مہم کے دوران زور دیتے آئے ہیں۔

اخبار نے اس پر بھی اُنگلی اُٹھائی ہے کہ انکم ٹیکس کے علاوہ قوم کی بھاری وراثتوں پر لگنے والے ٹیکس پر بھی صدر نے معمولی سے اضافے پر اکتفا کیا ہے اور امیر ترین خاندانوں کو بھاری رعائتیں دی ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کے اس دعوے پر کہ اُس نے محصولات کے اہداف کا 85 فی صد حاصل کر لیا ہے اوردس سال میں چھ سو ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوگی، جبکہ ری پبلکن اخراجات میں انتہائی بھاری کٹوتیاں کرانے میں ناکام ہوئے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ، دفاعی اور ملکی بجٹوں میں ایک سو دس ارب ڈالر کی کٹوتی پر ابھی مُذاکرات ہونے ہیں۔
XS
SM
MD
LG