رسائی کے لنکس

پھانسی کے چند گھنٹوں بعد, ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو رام مورتی نے بتایا کہ اِس میں شک نہیں کہ اُس نے بہت سے بے گناہ لوگوں کی جانیں لیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے جِنھوں نے قصاب کو اِس کام کے لیے ورغلایا اور اِس سازش کا منصوبہ تیار کیا

نومبر 2008ء میں ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ آوروں میں سے زندہ پکڑے جانے والے واحد حملہ آور اجمل قصاب کو پُونے میں پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نےایک ٹی وی اخباری کانفرنس میں اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اُن لوگوں کے لیے خراج کی حیثیت رکھتا ہے جو ان دہشت گردوں کےہاتھوں ہلاک ہوئے۔

اخبار کہتا ہے کہ 73سالہ کے آر رام مورتی کو اِن حملوں کے دوران ہاتھ پاؤں باندھ کر کئی گھنٹوں تک تاج محل ہوٹل کے ایک کمرے میں یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔

رام مورتی نے اخبار کو بتایا کہ قصاب کی موت سے اُس کی کوئی تشفی نہیں ہوئی ، کیونکہ اُس کی نظر میں قصاب حقیقت میں ایک بڑی ساز ش کا محض ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔

پھانسی کے چند گھنٹوں بعد’ وال سٹریٹ جرنل‘ کو رام مورتی نے بتایا کہ اِس میں شک نہیں کہ اُس نے بہت سے بے گناہ لوگوں کی جانیں لیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہےجنھوں نے قصاب کو اِس کام کے لیے ورغلایا اور اِس سازش کا منصوبہ تیار کیا۔

’وال سٹریٹ جرنل ‘کہتا ہے کہ ہندوستان کا پاکستان کی حکومت پر یہ الزام ہے کہ وہ اُن دوسرے لوگوں پر مقدمہ چلانے میں لیت لعل سے کام لے رہا ہے جو مبینہ طورپر پاکستان سے ہونے والے اِن حملوں میں ملوث تھے۔ پاکستان کا اس پر یہ مؤقف ہے کہ ہندوستان نے اُسے قانون نافذ کرنے والوں اور عدلیہ کے اُن اہل کاروں تک رسائی نہیں دی جنھوں نے قصاب کا اقبال ِجرم قلمبند کیا تھا جس کی اُسے پاکستان میں جاری مقدمات کے لیے ضرورت ہے۔

اجمل قصاب ممبئی کے بڑے ریلوے اسٹیشن پر چلتے ہوئے زندہ پکڑا گیا تھا۔ اُس کی پیٹھ پر ایک تھیلا اور ایک بندوق تھی۔

’وال سٹریٹ جرنل ‘کہتا ہے کہ ممبئی پولیس کے بقول اجمل قصاب نے، جِس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، ہندوستانی تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ وہ تلاشِ معاش کے سلسلے میں لاہور گیا تھا جب پاکستان کی جنگجو تنظیم لشکر طیبہ نے اُسے بھرتی کر لیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ اِس کے بعد اُس نے محسوس کیا تھا کہ اُس کی زندگی کا کوئی مقصد ہے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی بے دردانہ بمباری کو ’لاس اینجلس ٹائمز‘ میں فلسطینی صحافی داؤد قطب نے ناکام حکمتِ عملی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں اس کی خوف و ہراس کی پالیسی کے نتیجے میں تشدد کو مزید ہوا لگ رہی ہے۔
مضمون نگار کا کہنا ہے کہ سالہا سال اسرائیلی منطق یہ رہی ہے کہ اگر غزہ کے عوام اپنے آپ کو کافی تکلیف میں محسوس کریں تو وہ اسرائیل پر حملہ کرنے سے گریز کریں گے۔

لیکن، اس قسم کی حکمتِ عملی کارگر نہیں ہوتی، بلکہ غزہ کے لوگوں کوجتنی زیادہ تکلیف اور عذاب سے گزرنا پڑے ۔اِسی تناسب سے اُن کا عزم بڑھ جاتا ہے کہ وہ حملہ آوروں پر بھی عذاب اور کرب نازل کریں۔ اِس کے علاوہ ایک سیاسی تصفیے کی عدم موجودگی سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ پاگل پنے کا یہ چکر غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔

داؤد قطب کہتے ہیں کہ اِس ڈرانے دھمکانے کی حکمت عملی کا بدترین پہلو یہ ہے کہ اِس میں اسرائیل اور اِس کے پڑوسیوں کے باہمی تعلقات کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔

سنہ 1948 میں اور اُس کے 1967ء میں دوبارہ فلسطینیوں کو برطانیہ کے قائم کردہ علاقے سے نکال کر اُس کے محض 22فی صد حصے پر قناعت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور فلسطینی اب مزید پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو کوئی ایسا فارمولا وضع کرنا پڑے گا جس کی بدولت وہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہ سکیں۔ایک ایسی جارحانہ پالیسی جس سے بے گناہ لوگ دُکھ اٹھاتے ہیں، طویل وقتی نقطہٴ نظر سے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی اور ایسی پالیسی کی بین الاقوامی برادری کو بشمول امریکہ کے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئیے۔

امریکہ میں ’تھینکس گِونگ ڈے‘ یا یوم شکرانہ پر فیل مرغ ضیافت کا رواج عام ہے اور ہر سال اِس موقع پر امریکہ کا صدر ایک فیل مرغ کی جان بخشی کرتا ہے اور وہ ذبح ہونے سے بچ جاتا ہے۔

اخبار ’ہفنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ پچھلے سال جن دو فیل مرغوں کی صدر اوباما نے جان بخشی کردی تھی ، کیونکہ اُن میں سے ایک بیمار تھا جو بعد میں مرگیا۔

امریکہ میں ہر سال تقریباً 25کروڑ فیل مرغ ذبح کیے جاتے ہیں، اِن میں سے ساڑھے چار کروڑ یوم شکرانہ پر کھائے جاتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG