رسائی کے لنکس

اخبار ’ٹولیڈو بلیڈ‘ کے مطابق، اس معاہدے کے بعد، دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں ایک نئے امید افزا پہلو کا اضافہ ہو گیا ہے

چین اور ہندوستان نے ایک تاریخی سرحدی معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ ایسو سی ایٹد پریس کی اس رپورٹ کے مطابق، جس کی تفصیلات اخبار ’ٹولیڈو بلیڈ‘ میں چھپی ہیں، اس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں ایک نئے امید افزا پہلو کا اضافہ ہو گیا ہے۔ معاہدے کے تحت، دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان زیادہ ملاقاتیں ہوا کریں گی، تاکہ اُس قسم کی کشیدگی اور محاذ آرائی کا اعادہ نہ ہو جو اس سال ان کی متنازعہ سرحدوں پر دیکھنے میں آیا تھا۔

یہ معاہدہ بیجنگ میں چینی وزیر اعظم لی کی چانگ اور دورے پر آئے ہوئے ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے درمیان ایک اجلاس میں طے پایا ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین سرحد پر کی جانے والی مشقوں کے بارے میں ایک دوسرے سے رابطے بڑھانے، سرحدی گذرگاہوں پر وقفے وقفے کے بعد میٹنگیں منعقد کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ اور اس پر بھی کہ فوجی گشتی دستے اشتعال انگیزی کی حرکتوں سے احتراز کریں گے۔ اور متنازعہ علاقوں میں ایک دوسرے کے گشتی دستوں کا تعاقب نہیں کریں گے۔ اس پر چینی وزیر اعظم نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس سے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے سے چین ہند تعلقات کو نئی تقویت ملی ہے اور عنقریب دونوں ملک جنوب مغربی چین میں انسداد دہشت گردی کی مشترکہ تربیت میں شرکت کریں گے۔ اور بین الاقوامی اور علاقائی امور میں باہمی تعاون بڑھانے کے علاوہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، ایک اور معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے ہیں، جس کے تحت چین توانائی کے سازو سامان کی سروسنگ کا ایک سنٹر ہندوستان میں قائم کرےگا۔

چین نے ہندوستانی ریلوں کی تعمیر میں مدد دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اس موقع پر ہندوستانی وزیر اعظم کہا کہ دونوں ملک ایک تجارتی کاریڈار قائم کرنے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

چین ہند تعلقات، کئی عشروں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ ایسو سی ایٹد پریس کی اس رپورٹ کے مطابق، چین نے ہندوستانی ریاست ارُنا چل پرادیش کے 35 ہزار مربع میل علاقے پر اپنا حق جتایا ہے، جب کہ مغربی ہمالیائی سطح مرتفع میں 15000 مربع میل علاقے پر اُس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ دونوں ملکوں کو اور بھی کشیدگیوں کا سامنا ہے۔ چین ہندوستان کے حریف پاکستان کا اتحادی ہے جسے وہ ہتھیار بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چین، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کر رہا ہے، جس سے ہندوستان کو خدشہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے گھیرے میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، چین کو یہ فکر ہے کہ ہندستان کے امریکہ کے ساتھ تعلّقات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اس ماہ ری پبلکن کانگریس اور صدر اوبامہ کے درمیان اختلافات کی وجہ سے امریکی انتظامیہ کے جُزوی طور پر سولہ دن تک بند رہنے پر ’شکاگو ٹربیون‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ یہ دور مہنگا ثابت ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں ری پبلکن پارٹی کو جو گھاؤ لگا ہے، وہ اس کا خود کا لگایا ہوا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس کی ٹی پارٹی کی شاخ سے جو ارکان باہر ہیں وُہ تسلیم کرتے ہیں کہ پبلک اُنہیں کو حکومت کے بند ہونے کا الزام دیتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ڈیموکریٹ اپنے آپ کو فتح یاب محسوس کرنے میں حق بجانب ہیں۔ لیکن، انہوں نے بھی ایسی کوئی بات نہیں کی ہے جس سے وفاقی حکومت کی مالی ساکھ کو مدد مل سکے۔

اسی موضوع پر قدامت پسند اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کاسولہ روز تک بند رہنے کا دور صدر اوبامہ کی مکمل فتح کی صورت میں اختتام کو پہنچا۔

اخبار کہتا ہے کہ ان سولہ دنوں میں ری پبلکن پارٹی نے مزید نوجوان، اقلیتی اور خواتین ووٹروں کی حمائت کھو دی ہے اور ووٹروں کا یہ طبقہ اب کہہ رہا ہے کہ ایوان نمائیندگان پر ری پبلکنوں کا قبضہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
XS
SM
MD
LG