رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: دواسازی، ہندوستانی عدالت کا فیصلہ


بھارتی سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ

’ہندوستان جنرک اور سستی دوائیں تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہےاور سپریم کورٹ کے اِس فیصلے کے نتیجے میں تاحال یہ دوائیں سستے داموں برابر دستیاب رہیں گی‘: انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون

ہندوستانی سپریم کورٹ نے سوٹزر لینڈ کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی کی سرطان کے علاج کے لئے اُس کی بنائی ہوئی دوا کو پیٹنٹ دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

اُس پر ’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ کہتا ہے کہ اِس کے نتیجے میں دنیا بھر کے ترقُی پذیر ملکوں کو کم قیمت والی وُہ جنرک دوائیں ملتی رہیں گی جو سرطان اور ایڈز جیسے مُوذی امرض کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ہندوستان جنرک اور سستی دوائیں تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور سپریم کورٹ کے اِس فیصلے کے نتیجے میں تاحال یہ دوائیں سستے داموں برابر دستیاب رہیں گی۔

دواؤں کی قیمتوں کا تعیُّن ساری دُنیا میں ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین ایک مُتنازعہ فیہ مسئلہ رہا ہے، غریب ملکوں کا موقّف یہ ہے کہ اُن پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے عوام کو سستی جنیرک دوائیں مہیّا کریں۔ اِس کے برعکس، خاص برینڈ کی دوائیں بنانے والی کمپنیوں کا یہ کہنا ہے کہ وُہ اپنی دوائیں فروخت کرکے جو بھاری منافع کماتے ہیں وُہ ضروری ہے، کیونکہ اُسی منافع کی بدولت نئی نئی دوائیں بنانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے اِس فیصلے کی بدولت ہندوستانی دوا سازوں کے لئے سرطان کے علاج کے لئے ’گلی ویک‘ جیسی دوا کی نقل تیار کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔یہ دوا لوکیمیا مرض کی بعض اقسام کا اتنا موٴثر علاج کرتی ہے کہ امریکہ کی خوراک اور ادویات کے انتظامیہ نےسنہ 2001 میں جتنے کم وقت میں اس کی منظوری دی تھی وہ ایک ریکارڈ ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہندوستان کے لئے دنیا کو سستی ادویات فراہم کرنے والے سب سے بڑے ذریعے کی حیثیت کو برقرار رکھنا ممکن ہوگا، جس کی نہائت مہلک بیماریوں کے خلاف عالمی جنگ میں انتہائی اہمیت ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سوٹزر لینڈ کی بنی ہوئی گلی ویک دوا کی ایک سال کی خوراکوں کی قیمت 70 ہزار ڈالر بنتی ہے، جب کہ ہندوستان میں جنیرک شکل میں بنی ہوئی اِس دوا کی سال بھر کی خوراکوں پر محض ڈھائی ہزار ڈالر لاگت آتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ ایک ایسے مشکل وقت آیا ہے جب دوا ساز کمپنیوں کی اُ بھرتے ہوئے ملکوں کی منڈیوں پر نظر ہے، تاکہ امریکہ اور یورپ میں گرتی ہوئی بِکری کا خسارہ پورا کیا جائے۔ اِن دوا ساز کمپنیوں کو اپنے پیٹنٹس کو بچانے میں آرجنٹینا ، فلیپینز، تھائی لینڈ اور برازیل جیسے ملکوں میں بھی اِسی قسم کا چیلنج درپیش ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ہندوستان ہر سال دس ارب ڈالر مالیت کی جنیرک ادویات بر آمد کرتا ہے، اور امریکہ میں ادویات کی تیاری میں جو اہم اجزا استعمال ہوتے ہیں اُن کا اسّی فی صد ہندوستان اور چین میں تیار ہوتا ہے۔اور حالیہ برسوں میں امریکی حکومت نے دوسرے ملکوں پر اصرار کرنا شروع کیا ہے کہ وہ پیٹنٹ کے تحفّظ سےمتعلّق زیادہ سخت قوانین نافذ کریں۔

’نیو یارک ٹائمز ‘ کے مطابق، باوجودیکہ شمالی کوریا کی طرف سےبڑی جارحانہ دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں، وہائٹ ہاؤس کو ایسے کوئی شواہد نظر نہیں آرہے کہ اُس ملک کے لیڈر کِم جان اُن نے اپنی فوجوں کوکسی فوری حملے کے لئے تیار کیا ہو۔

اخبار نے امریکی عہدہ داروں کے حوالے سے یہ بھی بتایاہے کہ اُنہیں شمالی کوریا کی دُشنام طرازیوں پر تشویش ہے۔ اور اُدھر جنوبی کوریا کے صدر نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کر دی ہے کہ وُہ شمال کی طرف سے کسی قسم کی اشتعال انگیز حرکت کا فوری اور دنداں شکن جواب دیں۔ لیکن، اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے اس حقیقت کی طرف توجّہ دلائی گئی ہے کہ مسٹر کِم کے قول اور فعل میں کوئی مطابقت نظر نہیں آ رہی۔

عہدہ داروں کے مطابق، اُن چند دنوں کے بعد ، جن میں مسٹر کِم امریکہ پر مزائلوں کی بارش کرنے کی دھمکی دیتے رہے اور امریکہ نے اس کے جواب میں جوہری صلاحیت والے بمبار طیارے کوریا کے جزیرہ نُما پر اُڑائے، وہائٹ ہاؤس کی حکمت عملی کے پیچھے یہ بات کارفرما تھی کہ کشیدگی کو کم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اخبار کہتا ہے کہ محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ اُس نے بحریہ کے ایک مزائیلی دفاعی جہاز کو جاپان سے ہٹا کر کوریا کے قریب پانیوں میں لنگر انداز کیا ہے۔

امریکہ نےایک غیرمعمولی قدم اُٹھاتے ہوئے اس کی بھی تشہیر کی کہ اُس نےامریکہ کی سرزمین سے دو بی ٹُو بمبار طیاروں کو روانہ کر کے اُن سے جنوبی کوریا پر واز اور نقلی بمباری کرائی ۔ا

اخبار نے تجزیہ کاروں کے حوالے بتایا ہے کہ جنوبی کوریا اورجاپان کا ہر حال میں دفاع کرنے کے عزم کا مظاہرہ کرنے کے لئے یہ غیر معمولی قدم اُٹھانےکے بعد اب لگ رہا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ حالات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں ہے۔
XS
SM
MD
LG