رسائی کے لنکس

امریکہ کے وفاقی بجٹ میں غیر ملکی امداد کا تناسب ایک فی صد ہوتا ہے، یا دوسرے الفاظ میں، 31 ارب ڈالر جِس کی مدد سے سیاسی استحکام کو فروغ ملتا ہے، غیر ممالک کے ساتھ تجارت کےمواقع بڑھ جاتے ہیں اور حقوقِ انسانی کو تقویت پہنچائی جاتی ہے

’بوسٹن گلوب‘ ایک اداریے میں کہتا ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ امداد فراہم کرنے والا ملک ہے۔ اُس کے وفاقی بجٹ میں غیر ملکی امداد کا تناسب ایک فی صد ہوتا ہے، یا دوسرے الفاظ میں، 31ارب ڈالر جِس کی مدد سے سیاسی استحکام کو فروغ ملتا ہے، غیر ممالک کے ساتھ تجارت کےمواقع بڑھ جاتے ہیں اور حقوقِ انسانی کو تقویت پہنچائی جاتی ہے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ غیر ملکی امداد کا قانون 1961ء میں منظور کیا گیا تھا جب سرد جنگ عروج پر تھی۔ اِس لیے، یہ حد سے زیادہ فرسودہ ہو چکا ہے اور اس کو مکمل طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً اس کے تحت صدر کے لیے ضروری ہے کہ وہ کانگریس میں یہ حلفیہ بیان دیں کہ امداد لینے والے ملکوں پر بین الاقوامی کمیونسٹ سازش کا کنٹرول نہیں ہے۔ الغرض ،غیر ملکی امداد سے متعلق قانون کا ایک مقصد جو کئی عشرے پہلے بنایا گیا تھا سویت سونین کو شکست دینا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ کیلی فورنیا کے ایک رکن کانگریس ہاورڈ برمن نے پانچ سال کی محنتِ شاقہ سے غیر ملکی امداد کی اس قانون کی مکمل طور پر اصلاح کرنے کے خیال سے 923صفحات پر مشتمل ایک ترمیمی بل تیار کیا ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ امریکہ کو ہر چارسال بعد غیر ملکی امداد سے متعلق ایک وسیع حکمتِ عملی وضع کرنی چاہئیے۔ بجائے اس کے کہ علی الٹپ پیسے کی تقسیم کی جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگرچہ مسٹر برمن اگلے سال سے کانگریس میں نہیں ہوں گے، ایوان نمائندگان میں دونوں پارٹیوں میں اِس بل کی حمایت موجود ہے۔

اخبار نے کہا ہے کہ مسٹر برمن نے جِس نیک کام کا بِیڑا اٹھایا تھا اُسے ناتمام نہیں چھوڑنا چاہئیے۔

شمالی کوریا نے دور مار کرنے والے ایک راکیٹ کا جو کامیاب تجربہ کیا ہے اُس پر ’ یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ یہ ایک حیرت کی بات تھی، کیونکہ دو گھنٹے قبل پیانگ یانگ نے کہا تھا کہ ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے اِس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

شمالی امریکی ایئرو سپیس ڈیفنس کمانڈ نے بعد میں شمالی کوریا کے اس سیارچے کی خلا میں جانے کی تصدیق کردی۔

اخبار نے کوریا یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر ٹانگ کِم کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیانگ یانگ کے اِس مزائلی پروگرام کے پیچھے اُس کا اپنا ایک ایجنڈا ہے۔ وہ بین الاقوامی انتباہوں کی پرواہ نہیں کرتا، نا اُسے چینی مؤقف کی کوئی پرواہ ہے۔

پروفیسر ٹانگ کا کہنا ہے کہ اِس کامیابی کی بدولت شمالی کوریا کے ایک سال سے برسرِ اقتدار نئے لیڈر کِم جانگ اِل کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔

شمالی کوریا کے مختلف گروہوں کو متحد کرنے میں بھی مدد ملے گی اور وہ اپنے عوام کو جتا سکے گا کہ وہ اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ بدھ کے اِس تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف نئی تعزیرات لگنے کا امکان ہے جسے وہائیٹ ہاؤس نے نہایت ہی اشتعال انگیز حرکت اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نئی تعزیرات لگانے کی قرارداد پر اصرار کریں گے جس کے لیے چین تیار نہیں ہوگا۔ چین کا اصرار ہے کہ صرف مزید جوہری تجربوں کی صورت میں نئی قرارداد آ سکتی ہے۔

’یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ راکیٹوں کےتجربے، شمالی کوریا کے جوہری عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت اہم مانے جاتے ہیں۔ اُس کے پاس ابتدائی نوعیت کے چند گنے چنے جوہری بم ہیں اور باور کیا جاتا ہے کہ اُس کے پاس اتنے چھوٹے وار ہیڈز بنانے کی صلاحیت نہیں ہے جِس کو ایک میزائل میں نصب کرکے وہ امریکہ کے لیے خطرے کا باعث بن سکے۔
فروری میں امریکہ نے شمالی کوریا کو دو لاکھ 40ہزار ٹن خوراک فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی، بشرطیکہ شمالی کوریا اپنی جوہری اور میزائیلی سرگرمیاں بند کردے۔ لیکن، شمالی کوریا کے میزائل داغنے کے اصرار پر ایسا نہ ہوسکا۔

بدھ کے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے صفحہ اول پر مالی کے ایک جواں سال باشندے کی تصویر چھپی ہے جس کا دایاں ہاتھ کٹا ہوا ہے۔ تصویر کے ساتھ یہ عبارت درج ہے کہ 22سالہ مامان دے ویُو نامی اِس جوان کو شمالی مالی کی ایک اسلامی عدالت نے چوری کرنے کا مجرم قرار دیا تھا۔ چناچہ، اُس کو بے ہوش کرکے اُس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اِس کے ساتھ ہی ایک رپورٹ میں اسلامی انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کی تفصیل ہے جِس کا آغاز ایک خاتون سے ہوتا ہے جسے پولیس والے پکڑ کر لے گئے اور کئی روز کی حراست کے بعد ایک عدالت نے اِس عورت کو بجلی کے تار سے 100کوڑے مارنے کی سزا سنائی۔اُس کا جرم یہ تھا کہ اُس نے ایک اجنبی مرد راہ گیر کو پینے کا پانی دیا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ مالی کے وسیع شمالی علاقے پر اسلامی انتہا پسندوں نے قبضہ کر رکھا ہے جہاں وہ لوگوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے ہیں۔

امریکہ، یورپی ممالک اور علاقائی ملک کئی ماہ کی ہچکچاہٹ کے بعد اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے ایک افریقی فوج تیار کررہے ہیں جس کی اگر سلامتی کونسل نے منظوری دے دی تو یہ فوج مشکل سےہی موسم گرما یا خزاں سے پہلے کام شروع کرے گی اور اس کی وجہ سے یہ خدشے پیدا ہوگئے ہیں کہ تب تک انتہا پسند ٹیکسس کے رقبے کے برابر اِس علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرچکے ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG