رسائی کے لنکس

اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ سالہا سال سے امریکیوں کو علم ہے کہ جارج بُش کے دور حکومت میں مُشتبہ دہشت گردوں کو کس طرح اذیّت رسانی، بے عزّتی اور قید و بند کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اور یہ کام غیر ممالک میں کالے زندان خانوں میں ہوتا رہا ہے


کیلی فورنیا کے کثیر الاشاعت روزنامے ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے ایک ادرائے میں مطالبہ کیا ہے کہ سی آئی اے میں ملزموں پر روا رکھے جانے والے تشدّد کےطریقوں پر جو رپورٹ تیار کی گئی ہے اُسے منظر عام پر لایا جائے ۔ اخبار کہتاہے کہ سی آئی اے کی قید اور تفتیش کرنے کی پالیسیوں پر یہ رپورٹ سینیٹ نے تیار کی ہے جو6000 صفحوں پر مشتمل ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ سالہا سال سے امریکیوں کو علم ہے کہ جارج بُش کے دور حکومت میں مُشتبہ دہشت گردوں کو کس طرح اذیّت رسانی ، بے عزّتی او ر قید و بند کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور یہ کام غیر ممالک میں کالے زندان خانوں میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن اُنہیں اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے کہ نائن الیون 11/9) کے بعد ، بقول سابق نائب صدر ڈک چینی کے، انہیں کیوں تاریک جانب کے سفر پر بھیج دیا گیا۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ رپورٹ جاری کرنے سے اُن سوالوں کا جواب مل جائے گا جو اخباری اطلاعات ، اس سے متعلقہ مقدّموں اور مختلف سرکاری دستاویزوں کی وجہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اب اسامہ بن لادن پر بننے والے فلم زیرو ، ڈارک تھرٹی کے آنے کے بعد یہ بحث اور بھی تیز ہو گئی ہے۔ لیکن، یہ سب کُچھ بدل سکتا ہے اگر سینیٹ ، سی آئی اے کے قید میں ڈالنے اور تفتیش کرنے کے اُن طریقوں پر اس رپورٹ کو منظر عام لائے جن کی سینیٹ منظوری دے چُکی ہے۔البتّہ، اخبار کی دانست میں یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ رپورٹ اُس وقت تک صیغہٴ راز میں رہے گی جب تک اوبامہ انتظامیہ کی رائے معلوم نہیں کی جاتی۔
بہر حال، اخبار کہتا ہے کہ یہ رپورٹ جاری کرنے سے سی آئی اے کے تفتیشی طریقوں کے اخلاقی جواز اور یا اُن کے موثّر ہونے پر جاری بحث ختم نہیں ہوگی۔ لیکن، یہ حقیقت ہے کہ یہ رپورٹ جسے سا ٹھ لاکھ صفحوں پر مُشتمل سی آئی اے اور دوسرے اداروں کے ریکارڈ کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے ۔اس بات کی وضاحت کرنے کی نہائت ہی پُر عزم کوشش ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ ، کیوں اور کیسے اپنے اخلاقی معیاروں سے گٕر گیاَ ، اور امریکی عوام کو یہ سب کُچھ جاننے کا حق پُہنچتا ہے۔

’شکاگو ٹربیون‘ کہتا ہے کہ امریکہ نے باقاعدہ طور پر جنوبی کوریا کو تر قّی یافتہ ڈرون طیارے فروخت کرنے کی پیش کش کی ہے، تاکہ بھاری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کے خلاف اُس کا دفاع اور مضبوط ہو۔

رپورٹ کے مطابق سئیول نے گلوبل ہاک قسم کے بغیر ہوا باز کے چلنے والے ڈروں طیاروں کی فراہمی کے لئے کہا تھا، جو دیکھ بھال کے بُہت ہی ترقی یافتہ سازو سامان سے آراستہ ہیں۔

امریکی محکمہٴ دفاع کے ایک بیان کے مطابق جنوبی کوریا کو اس قسم کے نظام کی ضرورت ہے، تاکہ وُہ امریکی قیادت میں قائم مشترکہ فورسز سے سنہ 2015 میں انٹلی جنس معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری سنبھال سکے۔ امریکہ رواں عشرے کے دوران کوریائی فوجوں کی زمانہٴ جنگ کی کما ن سئیول کو منتقل کرنے پر تیا رہو گیا ہے۔ موجودہ انتظا م سنہ 50کے عشرے میں کوریا کی اُس جنگ کے دوران طے ہوا تھا، جس کے نتیجے جنوب کو شمالی کوریا کے قبضے سے آزاد کرایا گیا تھا۔

شمالی کوریا کی طرف سے دو ہفتے قبل خلا میں ایک سیارچہ بھیجنے کے دو ہفتے سے کم مُدت بعد محکمہٴ دفاع نے جنوبی کوریا کو یہ ہتھیا ر بیچنے کا نوٹس کانگریس کو دیا ہے۔ امریکہ نے شمالی کوریا کی اس حرکت کی مذمت کی تھی کیونکہ بین الاقوامی تعزیرات کے تحت شمالی کوریا کو مزائیل یا جوہری ٹیکنالو جی کے تجربے کر نے کی ممانعت ہے۔

اگر گلوبل ہاک ڈرون طیارے کی فروخت کا سودا ہوگیا تو یہ ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے میں اس قسم کی پہلی فروخت ہوگی۔

ایسے طیارے نیٹو ممالک کو پہلے ہی فرو خت کئے گئے ہیں۔

اور اب ایسو سی ایٹد پریس کی یہ رپورٹ کہ رضاکار اُس کچرے کی باقیات جمع کرنے کے لئے کیلی فورنیا کے ساحل کا گشت رہے ہیں۔ جو پچھلے سال کی سُنامی کے بعد جاپان کے ساحل سے سمندر میں گرا تھا اور امریکہ کے مغربی ساحل کی طرف تیرتا رہا ہے۔ یہ لوگ پانی کی بوتلیں پلاسٹک کی چیزیں پچھلی پکڑنے کا سامان وغیرہ اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے۔ جو جاپان کے ساحل سے گیارہ سو میل کی مسافت طے کر کے اس طرف آئے گا۔ مارچ2011ء میں اس سُنامی میں پچاس لاکھ ٹن سے زیادہ مال اور کچرہ سمندر میں ڈُوب گیا تھا اور تقریباًٍپندرہ لاکھ ٹن سطح سمندر پر تیرتا رہا، جس میں سے بُہت سارا بحرالکاہل کے شمال مغرب اور ہوائی تک پہنچ چکا ہے۔

اس قسم کا کچرا ، عام طور پر ایشیا کے ساحلوں سے امریکی کی جانب تیرتا رہتا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ اس کاامکان نہیں ہے کہ سمندر کا ہزاروں میل سفر کرنے کے بعد اس کچرے میں تاب کاری کی آلائش ہوگی۔
XS
SM
MD
LG