رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ایران جوہری مذاکرات

  • عمیر ریاض

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین مذاکرات ایک سال کے تعطل کے بعدگزشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں ہوئے تھے جب کہ مذاکرات کا دوسرا دور 23 مئی کو بغداد میں ہونا ہے۔

اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر جاری عالمی مذاکرات کی ایک واضح سمت متعین کرنے پر زور دیا ہے۔

اخبار کے کالم نگار ڈیوڈ اگنیشیس لکھتے ہیں کہ حال ہی میں امریکی ماہرین کے ایک گروپ نے ان مذاکرات کا ایک فریم ورک تجویز کیا ہے جس میں ایران کےجوہری پروگرام کی قابلِ قبول اور ناقابلِ قبول جہتیں متعین کی گئی ہیں۔

فریم ورک میں تجویز دی گئی ہے کہ ایران کو بجلی گھروں، طبی مقاصد اور بنیادی تعلیمی اور سائنسی تحقیق کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کی اجازت دیدی جائے۔ اس کے برعکس ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے سامان کی خریداری اور سرگرمیوں پر مکمل پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ ایران کو یورینیم کی پانچ فی صد سے کم افزودگی کی اجازت دیدی جائے جو صرف پرامن تحقیقی مقاصد کے لیے ہی کارآمد ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایسے کسی بھی فریم ورک کی کامیابی اور ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اسی وقت ممکن ہے جب فریقین اپنے معاملات میں شفافیت لائیں تاکہ ہر فریق کو یہ یقین ہوسکے کہ اسے دھوکہ نہیں دیا جارہا۔

یاد رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین مذاکرات ایک سال کے تعطل کے بعدگزشتہ ماہ ترکی کے شہر استنبول میں ہوئے تھے جب کہ مذاکرات کا دوسرا دور 23 مئی کو بغداد میں ہونا ہے۔

مغربی دنیا کے سفارتی حلقے ایک مدت تک اس سوال پر بحث کرتے رہے ہیں کہ کیا اسلام اور جمہوریت ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟ لیکن اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کے بقول 'عرب اسپرنگ' کے زیرِ اثر مسلم ممالک میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد یہ سوال اب اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے خائف حلقوں کو مطمئن ہوجانا چاہیے کہ وہ جن لوگوں کو جمہوریت کا مخالف سمجھتے تھے، بدلتے حالات نے انہیں عرب ممالک کی قانون ساز اسمبلیوں میں لا بٹھایا ہے۔

اخبار کے بقول عرب حکمرانوں کے ہاتھوں اسلام پسندوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انہیں دیوار سے لگانے کی پالیسی نے ہی درحقیقت انتہا پسندی کو جنم دیا تھا۔ اخبار کے بقول اگر اسلام پسندوں کو دبانے کی کوشش نہ کی جائے تو وہ جدت کی جانب مائل ہوں گےاور حکومت کی ذمہ داریاں انہیں سیاسی میدان میں مزید فعال کردار ادا کرنے پر ابھاریں گی۔

اخبار لکھتا ہے کہ اس ضمن میں ترکی کی حکومت - مصر، تیونس اور دیگر ممالک کے اسلام پسندوں کے لیے ایک مثال قائم کرسکتی ہے جس نے اپنی اسلامی شناخت کے باجود کئی لبرل اصلاحات کی ہیں اور ترک معاشرے کی گھٹن کا بتدریج خاتمہ کیا ہے۔

اخبار 'کرسچن سائنس مانیٹر' اپنی ایک رپورٹ میں کہتا ہے کہ چین میں شمالی کوریا کی خواتین کی خرید فروخت کا خفیہ کاروبار زوروں پر ہے اور ہر برس ایسی سینکڑوں خواتین کو جبری مشقت کی بھٹی میں جھونک دیا جاتا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور حکام کے اندازوں کے مطابق شمالی کوریا کےحالات سے پریشان ہو کر بہتر مستقبل کی تلاش میں چین پہنچنے والی 70 فی صد خواتین کو سرحد پار کرانے والے ایجنٹ چینی کاشت کاروں کے ہاتھوں فروخت کردیتے ہیں۔

شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے ایک عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ چین میں شمالی کوریا کے اندازاً ایک سے دو لاکھ شہری پناہ گزین ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان پناہ گزینوں میں شامل 20 سے 30 ہزار خواتین سے جبری مشقت لی جارہی ہے یا انہیں اپنے لیے دلہنوں کے متلاشی افراد کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والی ان خواتین کو انتہائی سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کی قیمت 300 ڈالر سے بھی کم ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG