رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ایران امریکہ مذاکرات کا امکان


Iranian Foreign Minister Ali Akbar Salehi (file photo)

Iranian Foreign Minister Ali Akbar Salehi (file photo)

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ممکن ہیں، بشرطیکہ اس قسم کے اہم اقدام کی ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنئی پہلےمنظوری دیں: ’ہوسٹن کرانیکل‘

’ہوسٹن کرانیکل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ممکن ہیں، بشرطیکہ اس قسم کے اہم اقدام کی ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنئی پہلےمنظوری دیں۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے واشنگٹن کے ساتھ دوبدو مکالمے پر غور کرنے کی حامی بھری ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ آیا یہ مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے یا اُن میں وسیع تر امور پر بھی بات ہوگی۔
رہبرِ اعلیٰ نے ابھی کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ آیا وہ واشنگٹن کے ساتھ دوبدو مذاکرات کی حمایت کریں گے۔

سنہ 1979میںٕ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ نے اُس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔ ایران اور امریکہ چھ فریقی مذاکرات میں شریک ہوتے رہے ہیں جو فی الوقت معطل پڑے ہوئے ہیں۔ دو ملکوں کے مابین افغانستان اور عراق پر بھی مذاکرات ہوئے ہیں۔

فلسطین میں امن کیوں نہیں قائم ہو سکتا؟ اِس عنوان سے معروف مصنف دیپک چوپڑہ ’ سین فرانسسکو کرانیکل‘ میں رقمطراز ہیں کہ پچھلے ہفتے جب غزہ میں جنگ بندی کے لیے مصر ثالثی کے فرائض انجام دے رہا تھا تو پتہ چلا کہ تاخیر اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ دونوں فریق یعنی اسرائیل اور حماس ایک ہی کمرے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جو کچھ ایک فریق کو کہنا ہوتا وہ ایک پیغام بر کی وساطت سے دوسرے فریق کو پہنچا دیا جاتا۔ دیپک کہتے ہیں کہ اس قسم کی عدم رواداری کم و بیش اس بات کی علامت ہے کہ فلسطین میں امن کیوں نہیں قائم ہو رہا۔ مذاکرات کی بنیادی لوازمات ہی پوری نہیں کی گئیں۔

ماضی کی طرح آج بھی عقل کا تقاضا یہی ہے کہ دو مملکتوں والا حل ناگزیر ہے۔ لیکن، وہاں تک پہنچنے والا راستہ اب تک ڈھونڈا نہیں جاسکا ہے۔

امریکہ نکسن کے دور سے فلسطین مناقشے میں ایک مخلص ثالث کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے لیکن عراق کی جنگ نے دنیائے عرب میں امریکہ کے خلاف جذبات بھڑکائے اور حالات پلٹا کھاتے رہے اور لڑائیاں شروع اور بند ہوتی گئیں۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ معروضی حالات وہی رہے جو 1948ء میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے وقت تھے یعنی امن کا مسلسل فقدان اوردونوں فریق کا اِس طرح رہنا انسان کی حالات سے سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف اسرائیل ایک دیوار کے عقب میں مغربی طرز کی جمہوریت پر عمل پیرا ہے اور اپنے شہریوں کو فوج میں بھرتی کرتا جا رہا ہے اور ترقی یافتہ جنگی سامان جمع کرتا جارہا ہے اور دوسری جانب بے بس فلسطینی نکبت و افلاس کے ایک باڑے میں مقیم ہیں جسے ایک خوشحال علاقےمیں بدلا جاسکتا ہے، اگر دنیائے عرب کے تیل کے محاصل کا ایک معمولی سا حصہ بھی اس پر لگا دیا جائے۔

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ میں برطانوی پریس پر مجوزہ نئے کنٹرول عائد کرنے سے متعلق ایک تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے لندن سے ایلن کوویل ایک مراسلے میں رقمطراز ہیں کہ امریکی اخبار نویس اِس بات پر فخر محسوس کرسکتے ہیں اور اطمینان کا سانس لے سکتے ہیں کہ امریکی آئین میں پہلی ترمیم کی بدولت اُنھیں آزادی ٴ اظہار کا جو تحفظ حاصل ہے وہ اُنھیں اِس قسم کی قدغنوں سےبچائے ہوئے ہے۔ لیکن اِس تجزئے میں برطانوی طرز کی صحافت کے پیروکاروں کی طرف سے جنھیں اپنی تندو تیز اور ہنگامہ خیز صحافت پر فخر ہے۔ یہ جوابی نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ امریکیوں کو اِن آزادیوں کی قیمت حد

درجے کی بے حسی اور پھیکے پن کی شکل میں ادا کرنی پڑی ہے۔
اور اِس کالم نگار کی نظر میں یہ متضاد نظریے اُس کردار کے بارے میں ایک دوسرے سے
مختلف تصور پیش کرتے ہیں جس کی پریس سے توقع کی جاتی ہے۔

کوویل کہتے ہیں کہ امریکی پریس نیویارک، بوسٹن، لاس ایجلیس اور واشنگٹن جیسے شہروں میں بلند ہونے والی صداوؤں سے پروان چڑھا اوراِس پریس میں سے چند ہی ایسے اخبار ہیں جو پوری امریکی قوم کے قارئین کے لیے لکھے جاتے ہیں۔

اِس کے برعکس، برطانیہ کے بڑے بڑے روزناموں نے قومی سٹیج پر اپنی لڑائی لڑی ہے جِنھوں نے طبقاتی تقسیم کے معاشرے کا تجزیہ کیا ہے اور جن میں ایک طرف ’گارڈین‘ جیسے لبرل اخبار ہیں تو دوسری طرف ’ٹیلیگراف‘ جیسے قدامت پسند اخبار۔
XS
SM
MD
LG