رسائی کے لنکس

ایک اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے موٴقّف پر ڈٹّے رہنے پر تُلے ہوئے ہیں، اور مذاکرات کی ناکامی کے لئے ایک دوسرے پر اُنگُشت نُمائی کر رہے ہیں‘

امریکہ نے اسرائیلی فلسطینی مذاکرات کے لئے نو ماہ کی جو مدت مقرر کی تھی اس میں سے آدھی سے زیادہ ختم ہو چکی ہے۔ اور ’لاس انجلس ٹائمز‘ نے ڈیووس کےعالمی اقتصادی فورم میں وزیر خارجہ جان کیئری کے اِس انتباہ کی طرف توجّہ دلائی ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ آبادی کے رُجحانات اسرائیل کو ہمیشہ یہودی یا جمہوری نہیں رہنے دیں گے۔ اور موجودہ صورتِ حال ہمیشہ برقرار نہیں رہے گی۔ اِسی کے ساتھ ساتھ، اُنہوں نے فلسطینیوں کو بھی خبردار کیا کہ اگر اُنہیں اس وقت ریاست کا درجہ حاصل نہ ہوا، تو اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اُنہیں ایسا موقع مستقبل قریب میں دوبارہ نصیب ہوگا۔

اخبار کے بقول، ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے موٴقّف پر ڈٹّے رہنے پر تُلے ہوئے ہیں، اور مذاکرات کی ناکامی کے لئے ایک دوسرے پر اُنگُشت نُمائی کر رہے ہیں۔

اخبار نےخاص طور پر ڈیووس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتین یاہو کی تقریر کے اُس حصّے کی طرف توجُّہ دلائی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امن کے اس مرحلے کے تحت، اُن کا ایک بھی یہودی بستی یا ایک بھی یہودی شہری کو وہاں سے ہٹانے کا ارادہ نہیں۔ اگر اُن کا روئے سُخن فلسطینیوں کی طرف تھا، تو اعلیٰٰ فلسطینی مذاکرات کار، صائب ارکات کا جواب یہ تھا کہ فلسطینی مجوّزہ فلسطینی مملکت پر ایک بھی یہودی آبادکار کا وجود برداشت نہیں کریں گے۔ نیتن یاہو کے اپنے وزیروں نے نیتن یاہو پر کڑی تنقید کی، معیشت کے وزیر نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یہودیوں نے دو ہزار سال اسرائیل کے لئے اس لئے جدو جہد نہیں کی کہ فلسطینیوں کی رعایا بن کر رہیں۔

’ہاتھی دانت کی دہشت کاری کو ختم کیا جائے‘ کے عُنوان سے ’یو ایس اے ٹُوڈے‘ کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں جنگل میں چرند و پرند کو کاروبار کا ذریعہ بنا رہے ہیں اور یہ ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے کہ کئی ملکوں میں فعال مجرموں کے سنڈیکیٹ، دہشت گرد تنطیمیں اور اسلامی انتہا پسند اپنی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے جنگل کے چرند و پرند کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور صومالیہ کی دہشت گرد تنطیموں اور القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کے بجٹ کا بیشتر حصّہ اب ہاتھیوں اور گینڈوں کے دانتوں کی تجارت سے پورا کیا جاتا ہے۔ اور اخبار کہتا ہے کہ اب تک اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانے کے لئے، وہائٹ ہاؤس اور بیس الاقوامی اداروں نے اس پر قابو پانے کے لئے موثّر کاروائی نہیں کی ہے۔

اقوام متحدہ نے جنگلات سے اس قسم کی اشیاٴ میں ایسےکاروبار کو ناجائز قرار دیا ہے، تاکہ ان جانوروں کو تحفّظ فراہم کیا جائے جن کے دانتوں کا ناجائز کاروبار کیاجاتا ہے۔

ایشیا، افریقہ اور مغرب میں ان کی بہت زیادہ مانگ ہے، اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان سے سالانہ 19 ارب ڈالر کی ناجائز آمدنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ آمدنی جس کاروبار سے حاصل ہوتی ہے، وہ ہے منشیات کا ناجائز کاروبار۔ ہاتھی دانت کا ایک کلوگرام 2000 ڈالر میں بکتا ہے، جب کہ گینڈے کے دانت ایک کلو گرام سے 65 ہزار ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان جانوروں کے غیر قانونی شکار میں حالیہ برسوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اور پچھلے دو سال کے دوران، تقریباً 60،000 ہاتھیوں اور 1600 گینڈوں کا خون ناحق کیا گیا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم تحقیقی ادرارے ’سٹِم سن سینٹر‘ کا کہنا ہے کہ جانوروں کی اس طرح کی اندھا دُھند ہلاکتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کام میں اب مجرموں اور دہشت گردوں کے ایسے منظم ٹولے شامل ہو گئے ہہیں، جو ایک سے زیادہ ملکوں میں سرگرم ہیں۔ اس کی ایک مثال القاعدہ سے وابستہ، صومالیہ کی الشباب نامی دہشت گرد تنظیم ہے جو اپنی آمدنی کا چالیس فیصد ہاتھی اور گینڈے کے دانتوں کے ناجائز کاروبار سے حاصل کرتی ہے۔ اس کا سالانہ بجٹ لگ بھگ دس کروڈ ڈالر ہے۔ جس کا کُچھ حصّہ صومالیہ کے تاجروں سے بھتّہ حاصل کر کےپورا کیا جاتا ہے، جب کہ دوسرے ملکوں میں آباد صومالی شہریوں اور ہمدرد اسلامی خیراتی اداروں سے بھی چندہ آتا ہے۔

اخبار یاد دلاتا ہے کہ پچھلے سال جولائی میں اوبامہ انتظامیہ نے اس ناجائز کاروبار کو ختم کرنے کی غرض سے ٹاسک فورس قائم کی تھی، جس کا مقصد غیر ملکی حکومتوں کی اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے میں امداد فراہم کرنا ہے۔

اخبار کہتا ہے یہ اچھی ابتداٴ ہے، لیکن اس کو موثر بنانے کے لئے بین الاقوامی اداروں کو بھی اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ اخبار نے ایک ریٹائرڈ امریکی جنرل کارٹرھیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کاروائی میں ڈرون طیاروں کا استعمال نہ صرف مناسب بلکہ بہت موثّر ثابت ہوگا۔
XS
SM
MD
LG