رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: دیرینہ اسرائیل، فلسطین مسئلہ


اخباری اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو کی حکومت کے اندر ایسا دھڑا موجود ہے جو پہلے سے بھی زیادہ اور کُھلم کُھلا فلسطینی مملکت کے تصوُّر ہی کی نہ صرف سخت مخالفت کرتا ہے، بلکہ اُس کے اپنے الگ منصُوبے ہیں، جن کا مقصد علاقہ دینا نہیں بلکہ علاقے پر قبضہ کرنا ہے

’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایسے میں جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ فلسطینیوں اور اسرئیلیوں کی دو الگ الگ ریاستوں کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ کے دیرینہ مسئلے کو سلجھانے کے لئے صلاح مشورہ کر رہے ہیں، نیتن یاہو کی حکومت کے اندر ایسا دھڑا موجود ہے جو پہلے سے بھی زیادہ اور کُھلم کُھلا فلسطینی مملکت کے تصوُّر ہی کی نہ صرف سخت مخالفت کرتا ہے۔ بلکہ، اُس کے اپنے الگ منصُوبے ہیں جن کا مقصد علاقہ دینا نہیں بلکہ علاقے پر قبضہ کرنا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ نیتن یاہو کی مخلوط حکو مت کے وزیر اور اُن کی اپنی پارٹی ’لیکُوڈ‘ کے لیڈر بین الاقوامی برادری کی اُس متفقہ رائے کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں کہ دریائے اُردن اور بُحیرہٴروم کے درمیان دو مملکتیں ہوں، اور اس طرح وُہ صدر بل کلنٹن اور اُن کے بعد آنے والے اُن تمام امریکی صدور اور خُود چار اسرائیلی وزرائے اعظم کی طرف سے دئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف مغربی کنارے پر اُس رقبے سے دست بردار ہونے کے خلاف ہیں جسے وُہ یہودیوں کی زمین تصوّر کرتے ہیں، بلکہ دو مملکتوں کے تصوّر کے یہ مخالفین ایک ایسے لائحہ عمل کی تفصیلات تیار کر رہے ہیں کہ مذاکرات کا رواں دور جب ناکام ہوجائے، اور جو اُن کی نظر میں ایک یقینی بات ہے، تو پھر اسرائیل کو کس طرح کی یک طرفہ کاروائی کرنی چاہئے۔

اخبار نے لیکُوڈ پارٹی کے ایک اُبھرتے ہوئے لیڈر اور وزیر زٕپّی حوتو ویلی کے حوالے سے بتایا ہے کہ امن مذاکرات ناکام ہونے کے ساتھ ہی منصوبہ نمبر دو پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔ اور بجائے مغربی کنارے پر ایک خود مختار فلسطینی مملکت کے قیام کے،جس پر اوسلو معاہدوں کے بعد امن مذاکرات ہوتے آئے ہیں، دو مملکتوں کےحل کے ان مخالفین کے پروگرام کے تحت مغربی کنارے کے وسیع رقبوں کو اسرائیل کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ جہاں تک غزّہ کی پٹی اور اس کے سولہ لاکھ باشندوں کے تعلق ہے۔ یہ اسرائیلی توسیع پسند اُسے اپنے حال پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ جہاں تک نیتن یاہو کا تعلق ہے، انہوں نے سالہا سال کی مخالفت کے بعد پہلی بار سنہ 2009 میں دو مملکتی نظریے کی حمائت کی تھی۔ بشرطیکہ، اسرائیل کی سلامتی کے تقاضے پُورے کئے جائیں اور فلسطینی ، اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کی حیثیت سے تسلیم کریں۔

ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کس نہج پر جارہے ہیں اس پر معروف تجزیہ کار ڈائیل مک مینس ’لاس انجلس ٹائمز‘ میں رقمطراز ہیں کہ ماضی قریب میں ایران اور امریکہ کو ایک دوسرے کے قریب آنے کے مواقع شاذ ہی میسّر آئے ہیں، اور اب جو یہ موقع آیا ہے، اُسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے۔

اس ہفتے دونوں طرف کے مذاکرات کاروں کاجینیوا میں پھر اجلاس ہونے والا ہے، تاکہ ایک ایسا معاہدہ طے پائے جس کی رو سے ایران کے جوہری پروگررام پر معتبر پابندیاں لگا جا سکیں، جن سے دوسرے ملکوں کو اطمینان ہو سکے کہ ایران اب جوہری ہتھیار نہیں بنا پائے گا۔

دونوں طرف کے عہدہ داروں کو اعتراف ہے کہ ابھی وُہ اس قسم کے معاہدے سے دُور ہیں، نئے ایرانی صدر حسن روحانی ایک ایسا سمجھوتہ چاہتے ہیں، تاکہ وہ بین الاقوامی تعزیرات ہٹالی جائیں، جن کی وجہ سے ایرانی معیشت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ لیکن، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک ایسے سمجھوتے پر اصرار ہے جس کے نتیجے میں ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے بیشتر حصّے کی بساط اُلٹنے پڑے گی۔ امریکی کانگریس کے سخت گیر ارکان ایران کے خلاف تعزیرات مزید سخت کرنے کے درپے ہیں اور سینیٹ میں ایک بل کا مسوّدہ بھی تیار ہو گیا ہے۔

کالم نگار کے نزدیک اب تک کی مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہےکہ دونوں فریق مذاکرات کے طریق کار پر متفق ہو گئے ہیں، تاکہ پہلے مرحلے میں رواں سال کے خاتمے تک ایک عبوری معاہدہ طے پائے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے کے عوض تعزیرات میں معمولی سی نرمی کر دی جائے گی۔ ایک اور زیر بحث تجویز کے تحت ایران کو اربوں ڈالر کے بنک اثاثوں تک رسائی ہو جائے گی جو اس کی تیل کی برآمدات سے جمع ہوئے ہیں، لیکن منجمد کر دئے گئے ہیں۔

اور آخر میں یہ خبر کہ 100 سال کی عمر کو پہنچنے پر آدمی کس قسم کی خواہش کرتا ہے۔ ’ٹیمپا بے ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جنوبی کیلی فورنیا کے شہری، ورنن مے نارڈ سے اس کی سویں سالگرہ پر اس کے دوستوں نے اس سے جب دریافت کیا کہ وہ اس موقع پر کیا کرنا چاہتا ہے، تو اس نے کہا کہ اُس کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ ہوائی جہاز سے ایک پیرا شُوٹ کی مد دسے کُود جائے۔ چنانچہ، پیر کے روز جب وہ 100 سال کا ہوگیا تو اُس کی عمر بھر کی تمنا پوری ہوگئی۔ جب وہ امریکی پیراشُوٹ ایسوسی ایشن کے تعاون سے اپنے دو بھتیجوں اور تربیت یافتہ انسٹرکٹروں کے ہمراہ 13000فٹ کی بلندی سے جہاز سے کود گیا۔
XS
SM
MD
LG