رسائی کے لنکس

مسٹر کرزئی نےامریکہ کے خلاف سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں اور طالبان کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ اُن کے ملک میں عدم استحکا م پھیلایا جائے: ’نیو یارک ٹائمز‘

امریکی اخبارات کا کہنا ہے کہ نئے وزیر دفاع، چک ہیگل کے پہلے دورہٴ افغانستان پر افغان صدر حامد کرزئی کے اِس بیان سے کہ امریکہ طالبان کے مقاصد کی در پردہ حمائت کر رہا ہے، کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز ‘کہتا ہے کہ اتوار کو مسٹر کرزئی نےامریکہ کے خلاف سنگین الزامات لگاتے ہوئےکہا کہ امریکیوں اور طالبان کا مشترکہ مقصد یہ ہےکہ اُن کے ملک میں عدم استحکام پھیلایا جائے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکی اتّحادیوں کے ساتھ عدم اطمینان کا اظہار، پچھلے 10 برس کے دوران مسٹر کرزئی کا وطیرہ رہا ہے، لیکن اِس وقت جب کہ دونوں فریق اس پر مذاکرات کر رہے ہیں کہ سنہ 2014 کے بعد افغانستان میں جو امریکی فوجیں برقرار رہیں گی، وہ کتنی ہوں اوراُن کی کیا ذمّہ داریاں ہوں، یہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا دونوں ملکوں میں اختلافات کی اِس بڑھتی ہوئی خلیج کو ہٹانے کی صلاحیت ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ حالیہ دنوں میں مسٹر کرزئی امریکی عہدہ داروں کی بعض پالیسیوں پر، جو اُن کے بقول بُہت اہم ہیں، کڑی تنقید کر تے آئے ہیں۔ اِن میں سپیشیل فورسز کا استعمال جاری رکھنا اور محاذ جنگ پر پکڑے جانے والےقیدیوں کے مستقبل میں امریکی عمل دخل برقرار رکھنا شامل ہے۔

مسٹر کرزئی اِن دونوں باتوں کو افغان حاکمیت اعلیٰ کی خلاف ورزی تصوّر کرتے ہیں ۔

اُنہوں نے امریکی کمانڈوز کو وردک صُوبے میں جانے سے روک رکھا ہے اور اُنہیں بگرام کے قید خانے پر مذاکراتی حل کی کلیدی شرائط پر غُصّہ ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر کرزئی کو شکائت ہے کہ امریکی ایک طرف طالبان کو اپنا دُشمن کہتے ہیں اور دوسری طرف اُن کے ساتھ مُذاکرا ت کے لئے کوشاں ہیں، اور یہ کوشش جاری ہے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ امریکیوں کو اصرار ہے کہ وُہ اب طالبان کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے، بلکہ یہ کام اب اُنہوں نے افغان حکومت کو سونپ دیا ہے، بشرطیکہ یہ مذاکرات کسی مرحلے پر شُروع ہوئے۔

اتوار کے روز مسٹر چک ہیگل اور صدر حامد کرزئی کو ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرنا تھا جو منسوخ کردی گئی۔ لیکن، بعد میں رات کو دونوں کے درمیان ملاقات ہو ئی۔ اور، ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے بقول، امریکی وزیر دفاع نے رپورٹروں کو بتایا کہ وُہ پُرامّید ہیں کہ دونوں ملک اِس تازہ تریں بُحران پر قابو پا لیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں اندازہ ہے کہ صدر کرزئی اور افغان عوام کے لئے یہ دُشوار مسائل ہیں ۔

کابل میں ہفتے کے روز بمباری کی جو دو وارداتیں ہوئی تھیں، اُن پر مسٹر کرزئی نے ایک نشری تقریر میں الزام لگایا تھا کہ یہ بم اصل اگرچہ طالباں کے کھاتے میں ڈالے گئے تھے ، ان سے غیر ملکیوں کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا، کیونکہ اس سے امریکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی کو طول دینے کا جواز فراہم ہو تا ہے ۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکی عہدہ داروں نے مسٹر کر زئی کے اس لہجے اور موقع محل کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور امریکی فوجوں کے کماندڑ جنرل ڈنفورڈ نے اس مفروضے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ کا اِن حملوں میں کوئی ہاتھ ہو سکتا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ پچھلے 12 برس کے دوران ہم نے اپنا بہت زیادہ خون بہایا ہے ۔ اور اس دوران، افغان سیکیورٹی افواج کو پھیلانے میں بہت زیادہ امداد فراہم کی ہے۔ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ تشدّد اور عدم استحکام سے ہمیں فائدہ ہو سکتا ہے ۔

اِسی موضوع پر، ’ وال سٹریٹ جرنل ‘ کہتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ امریکہ کےتعلّقات کو اتوار کے روز ایک سخت دھچکہ لگا جب وزیر دفاع چک ہیگل کے دورہٴ کابل کے دوران صدر حامد کرزئی نے یہ بیان دیا کہ افغان شہریوں کو ہلاک کر کے طالبان امریکیوں کی خدمت کر رہے ہیں ۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹو سنہ 2014 کے بعد بھی افغانستان سے نہیں جانا چاہتا۔کیونکہ، اُس کی افغانستان کے وسائل پر نظر ہے اور اُن کی پیٹھ پیچھے طالبان سے مذاکرات بھی کر رہاہے۔ لیکن، نئے امریکی فوجی کمانڈر نے حامد کرزئی کے اِن الزاما ت کو قطعی طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ امریکہ کس طرح افغانستان میں تشدّد اور افراتفری کو اپنے لئے فائدہ مند سمجھ سکتا ہے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ سنہ 2014 کے بعد جو فوجیں افغانستان میں رُکی رہیں گی، اُن میں نیٹو اتّحادیوں کا ایک بھاری حصّہ ہوگا۔ اور اتوار کو مسٹر کرزئی نے صاف کہہ دیا کہ وُہ نیٹو کے ساتھ مجموعی طور پر اِس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے خلاف ہیں۔

بلکہ، جو جو ملک اپنی فوجیں افغانستان میں رکھنا چاہیں، اُنہیں علیٰحدہ علیٰحدہ براہ راست کابُل کے ساتھ مُذاکرات کرنے پڑیں گے اور الگ الگ معاہدوں پر دستخط کرنے پڑیں گے۔ اور افغانستان طے کرے گا کہ اُن کی کیا تعداد ہوگی، اور انہیں کہاں تعینات کیا جائے گا۔ اُنہیں ہماری شرائط پر اور ہمارے دائرہٴ کار میں رہتے ہوئے، ہمارے قوانین اور حاکمیت اعلیٰ اور روایات کا احترام کرنا ہوگا۔
XS
SM
MD
LG