رسائی کے لنکس

’ اب جب کہ امریکہ اپنے فوجیں وہاں سے واپس لارہا ہے،مسٹر کرزئی اس قسم کے اشتعال انگیز بیان دے کر افغانوں کے قوم پرستی کے جذبات کو اُبھار کر اپنا سیاسی الُّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں‘: نیو یارک ٹائمز

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے افغان صدر حامد کرزئی پر افغانستان کی جنگ کے دوران امریکہ سے بے وفائی برتنے کا الزم لگاتےہوئے، کہا ہے کہ اُن کی اور اُن کے اپنے خاندان کی کرپشن کے باوجود، واشگٹن نے مُلک کو بچانے کےلئے اُن کے ساتھ مل کر کام کیا، کیونکہ یہ اُس کی مجبوری تھی ۔

اخبار کہتا ہے کہ اب مسٹر کرزئی کے دوغلے پن پر شق ہوتا ہے، جنہوں نے پچھلے ہفتے اپنی بد خصلتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ خود کُش حملوں میں طالبان کا ساتھ دے رہا ہے، تاکہ افغانستان کو غیر مستحکم کرکے، امریکی فوجوں کے لئے 2014 ءکے آخر تک اُن کی طے شدہ واپسی کے بعد بھی ملک میں رہنے کا جواز پیدا کیا جائے۔ پھر اُنہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر امریکہ نے بگرام کا قیدخانہ اُن کی حکومت کو لوٹانے میں تاخیر کی تو اُس پر زبردستی قبضہ کرلیا جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ اب جب کہ امریکہ اپنی فوجیں وہاں سے واپس لارہا ہے،مسٹر کرزئی اس قسم کےاشتعال انگیز بیان دے کر افغانوں کے قوم پرستی کے جذبات کو اُبھار کر اپنا سیاسی الُّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ امریکی کمانڈر جنرل ڈن فرڈ نے اپنی فوجوں کوحفاظتی انتظامات کڑے کرنے کی ہدائت جاری کر دی ہے، کیونکہ انہیں افغان سیکیورٹی افواج اور جنگجوؤں کی جانب سے حملے کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتاہے کہ مسٹر کرزئی کی امریکیوں کوبد نام کرنے کی یہ کوششیں افسوسناک ہیں ،کیونکہ واشنگٹن افغان سرکردگی میں ایک ایسے عمل کی حمائت کر رہا ہے جِس کے نتیجے میں طالبان کے ساتھ کسی قسم کا امن سمجھوتہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔متعدّد افغان با رسوخ افغان لیڈروں کو ، جن میں دونوں نائب صدر اور 14 سیاسی جماعتوں کے نمایندے شامل ہیں، مسٹر کرزئی کے تازہ ترین بیانوں پر اس قدر دُکھ ہوا ہے کہ اُنہوں نے ایک پریس کانفرنس بُلا کر اس کی مذمّت کی ، امریکی کانگریس کے جو ارکان مسٹر کرزئی اور افغان جنگ کے پُر زور حامی رہے ہیں، اُنہیں بھی صدمہ ہوا ہے۔

مسٹر کرزئی نے اپنے یہ بیان واپس نہیں لئے ہیں، لیکن جیسا کہ اخبار کہتا ہے ، افغان صدر ، وُہ اربوں ڈالر خطرے میں ڈالنے کے متحمل نہیں ہو سکتےجن کا وعدہ امریکہ اور اُس کے حلیف ملکوں نے کر رکھا ہے اور جو آنے والے برسوں میں افغان سیکیورٹی افواج اور اُس کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ بلکہ، اُن کےافسوس ناک طرز عمل سے اس دلیل کو تقویت ملتی ہے کہ امریکی فوجوں کو وہائٹ ہاؤس کے اُس منصوبے کے مقرّرہ وقت سے پہلے ہی وہاں سے واپس بلانا چاہئیے، جس کے تحت اگلے سال کے اوائیل میں 34 ہزا ر فوجی اور باقیماندہ اس کے اواخر میں ہٹائے جائیں گے۔ اور مسٹر کرزئی کے لئے 2015 ءاور اس کے بعد انسداد دہشت گردی اور تربیت کے لئے اس سے چھوٹی فورس افغانستان میں پیچھے چھوڑنے کے حق میں دلیل دینا مُشکل ہوگا۔

افغانستان کے مستقبل کےبارے میں ملک کے سب سے بڑے میڈیا گرُوپ کے سربراہ ، سعد محسنی ’ وال سٹریٹ جرنل‘ میں رقمطراز ہیں کہ عام تاثُّر یہ ہے کہ افغانستان کا کوئی مُستقبل نہیں ہے ، لوگ بدستور پسماندہ اور ناشکر گزار ہیں اور یہ کہ بین الاقوامی برادری کو اس کے ساتھ روابط رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن، محسنی کہتے ہیں کہ یہ تصوُّر حقیقت سے کوسوں دُور ہیں، اوریہ کہ سالہا سال کی جنگ کےباوجود، افغانستان میں اقتصادی ، معاشرتی اور ثقافتی احیا کی ڈرامائی علامتیں ہویدا ہیں، اور نائن الیون (9/11) کے بعد سے اس میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے کہ طالبان کے تاریک دور میں واپس جانے کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا۔
مضمون نگار کی دانست میں افغانستان کےبارے میں غلط فہمی کی ایک وجہ بین الااقوامی برادری کے ساتھ افغان حکومت کے معاندانہ تعلُّقات ہیں۔ لیکن، یہ حکومت عام لوگوں کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتی ۔ افغانستان کے بیشتر لو گ بین الا قوامی برادری کے ساتھ روبط کے زبردست حامی ہیں اور وُہ دوسرے ملکوں سے آئی ہوئی فوجوں کی موجودگی کے بھی حق میں ہیں۔

محسنی افغانستان کے بدلے ہوئےحالات اور بہتر مستقبل کی نشاندہی کرتے ہوئے، کہتے ہیں کہ افغانستان کی ساڑھے تین کروڑ کی آبادی میں سے ساٹھ فی صد لوگ بیس سال سے کم عمر کے ہیں،80 لاکھ بچے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں جن میں سے 26 لاکھ لڑکیاں ہیں ، خواندگی کی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہےصحت عامّہ کی نگہداشت کے مراکز پچھلے دس سال میں ساڑھے چار سو سے بڑھ کر اٹھارہ سو ہو گئی ہے اور انسان کی اوسط عُمر 40 سال سے بڑھ کر 60 سال ہوگئی ہے، ملک کے دیہی علاقوں میں شہری سہولتیں فراہم ہونے لگی ہیں۔ بجلی کی فراہمی تین گنا بڑھ گئی ہے۔ دس سال قبل پکّی سڑکوں کی مجموعی لمبائی محض 32 میل تھی ، جو اب بین الاقوامی امداد کی بدولت بڑھ کر ساڑھے سات ہزار میل ہو گئی ہے۔ کابل اور کئی اور شہروں میں بین الاقوامی ہوائی اڈّے قائم ہو گئے ہیں۔کُل آبادی کے دو تہائی ، یعنی دو کروڈ لوگوں کے پاس موبائیل فون ہیں،معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ اس کی مالیت سنہ 2001 کی دو ارب ڈالر سے بڑھ کر 20 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

مضمون نگار کے بقول، ملک کا سب سے بڑا کارنامہ جمہوری عمل کا ارتقا ہے اور وُہ تیسرے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ جمہوری عمل میں نقائص ضرور ہیں۔ لیکن، یہ عمل قوم کو جدیدیت کی طرف لے جانے میں مدد گار ثابت ہوا ہے۔
XS
SM
MD
LG