رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: امریکی و ایرانی وزرا کی ملاقات اور توقعات


وزیر خارجہ، جواد ظریف

وزیر خارجہ، جواد ظریف

اِن مذاکرات کے بعد، مسٹر ظریف کی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ آدھ گھنٹے کی تاریخی ملاقات ہوئی جو کئی عشروں کے بعد اتنی اعلیٰ سطح پر ہونے والی پہلی ملاقات تھی

نیو یارک میں ایران کے نئے وزیر خارجہ جواد ظریف کا امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مذاکرات کا جو نیا دور شروع ہوا ہے، ’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہے کہ اُن کا مقصد 17 ماہ کے بے فائدہ مذاکرات کو بامقصد بنانا ہے۔

اِن مذاکرات کے بعد، مسٹر ظریف کی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ آدھ گھنٹے کی تاریخی ملاقات ہوئی جو کئی عشروں کے بعد اتنی اعلیٰ سطح پر ہونے والی پہلی ملاقات تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ نئے ایرانی صدر حسن روحانی نے اس ہفتے بین الاقوامی سٹیج پر آنے کے ساتھ جس اعتدال پسندی اور شفافیت کا عہد کیا تھا، اُن کا عملی اطلاق کرتے ہوئے مسٹر ظریف نے ایران کے جوہری پروگرام پر قید لگانے سے متعلّق متعدّد نئی تجاویز رکھیں اور اس کے عوض مطالبہ کیا کہ امریکہ، یورپ اور اقوام متحدہ کی طرف سے لگائی گئی تعزیرات ہٹادی جائیں، جن کی وجہ سے ایرانی معیشت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

اخبار نے برسلز میں قائم ’انٹرنیشنل کرائسس گروپ‘ نامی تحقیقی ادارے کے
ایک سرکردہ محقّق، علی واعِظ کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر روحانی اور صدر اوبامہ کے درمیان مصافحے کے مقابلے میں کیری ظریف ملاقات کی زیادہ اہمیت ہے۔

اُن کا اشارہ اس سے پہلے کی اِن توقعات کی طرف تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران دونوں صدور ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گے، جو بہ وجوہ ہوا نہیںِ۔ اس کے باوجود، مسٹر واعظ نے اس ملاقات کو ایک اچھا آغاز قرار دیتے ہوئےکہا کہ ان سے وابستہ توقعات میں احتیاط برتی جائے۔

اُدھر، وزیر خارجہ کیری نے امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مسٹر ظریف کی ملاقات کے بارے میں کہا کہ مستقبل کے امکانات کے بارے میں ان سب نے مسٹر ظریف کے خطاب اور لہجے میں بُہت فرق محسوس کیا۔ خود مسٹر ظریف نے کہا کہ وہ پر امید ہیں۔

اخبار کہتاہے کہ ماضی میں ایران کے ساتھ اس گروپ کے مذاکرات میں جو کشیدگی نظر آتی تھی، یہ اجلاس اس سے پاک تھا اور وزرائے خارجہ ایرانیوں کے ساتھ گپ شپ لگاتے رہے۔ اگلا اجلاس طے کرنے میں اس سے پہلے ہفتوں گُذرجاتے تھے۔ لیکن، اب کی بار ایک منٹ میں طے پایا کہ اگلا اجلاس 15 اور 16 اکتوبر کو جینیوا میں ہوگا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق جو قرارداد منظور کی گئی ہے، اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے، ’واشنگٹن پوسٹ‘ ایک ادرائے میں کہتا ہے کہ یہ قدم ناقص ہی صحیح، لیکن، اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے اُس خونیں جنگ کا مناسب ردّ عمل ہے، جس میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

اس قرارداد کی رو سے شام کو اپنی زہریلی گیس کے ایک ہزار ٹن ذخائر سے دست بردار ہونا پڑے گا۔

شام نے اگر ایسا نہ کیا تو قرارداد میں طاقت کے استعمال کی کوئی دھمکی نہیں ہے۔ لیکن، اُس صورت میں سلامتی کونسل کا اجلاس بلا کر شام کے خلاف اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق یا تو تعزیرات لگا دی جائیں گی یا پھر اُس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

اخبار کہتاہے کہ روس کی اس بات پر تعریف کی گئی ہے کہ اُس نے صدر اسد کو زہریلی گیس سے اگلے سال کے وسط تک دستبردار ہونے کے لیے تیار کرکے، اُنہیں امریکی فوجی حملے سے بچا لیا ہے۔ لیکن، حالیہ ہفتوں کے دوران بڑی طاقتوں کے مابین اس قرارداد پر کافی رسّہ کشی ہوئی ہے۔ اور اخبار نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ 21 اگست کو زہریلی گیس کے جس حملے میں سینکڑوں شامی شہری ہلاک ہوئے تھے قرارداد میں اس کے لئے ذمہ دار فریق کا نام نہیں لیا گیا۔

بنگلہ دیش کے سلے سلائے کپڑے تیار کرنے والے کارخانوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کی حالت زار پر، ’نیو یارک ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ اُن کی ماہانہ اُجرت محض چالیس ڈالر ہے۔ اور وُہ نہ صرف اس سے زیادہ مزدوری بلکہ مزدور انجمنوں کے تحفظ کے بھی حقدار ہیں۔ اجرتوں میں آخری اضافہ تین سال قبل کیا گیا تھا اور اب مزدوروں کی موجودہ شکایات کو دور کرنے کی بجائے، شیخ حسینہ کی حکومت نے احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کے لئے، پُولیس کو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں چلانے کا حکم دے رکھا ہے۔

مزدوروں کا مطالبہ کہ ان کی اجرت 100 ڈالر ماہانہ کر دی جائے، جب کہ فیکٹری مالکان محض 46 ڈالر دینے کے لئے تیا ر ہیں۔ حالانکہ، اخبار کے بقول، وہ اس سے زیادہ دینے کی پوزیشن میں ہیں، کیونکہ اُن کا کاروبار اس وجہ سے بہت بڑھ گیا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے کپڑے فروخت کرنے والی کمپنیوں نے پیدوار چین سے بنگلہ دیش منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار نے نوٹ کیا ہے کہ بنگلہ دیشی قانون سازوں نے فیکٹری مالکان کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور مزدوروں کو بہتر اجرتوں کا مطالبہ منوانے کے لئے مزدور انجمنیں نہیں بنانے دی جا رہی ہیں۔ اس لئے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ لاکھوں مزدور سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور پولیس کے ساتھ تصادموں میں مزدور زخمی ہوئے ہیں، جب کہ آتشزنی کے واقعات کے بعد، سینکڑوں فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں۔

اخبار نے دونوں فریقوں کو تحمل کا مشورہ دیا ہے، اور شیخ حسینہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وُہ مزدوروں کے خلاف تشدّد بند کرائے اور افراط زر کے تناسب سے مزدوروں کی اجرتیں بڑھائے۔
XS
SM
MD
LG