رسائی کے لنکس

ایک اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شکّی امریکی عہدہ داروں کو جنرل کیانی کے بارے میں بڑی شکایات رہی ہیں، جن کا وہ اکثر رازداری میں ذکر کرتے رہے ہیں

جنرل اشفاق پرویز کیانی کے پاکستانی فوج کی سربراہی سے سبکدوش ہونے پر، ’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ کہتا ہے کہ اس سے تقریباً ایک عشرے پر مُحیط باب انجام کو پہنچتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ شکّی امریکی عہدہ دار وں کو جنرل کیانی کے بارے میں بڑی شکایات رہی ہیں، جن کا وہ اکثر رازداری میں ذکر کرتے رہے ہیں۔ لیکن، سنہ 2011 میں، امریکی چیف آف سٹاف ایڈمرل مائک ملن نے، جنہوں نے گالف کے کھیلوں اور دعوتوں کے دوران، جنرل کیانی سے دوستی گانٹھنے کی کوشش کی تھی، کانگریس میں گواہی دیتے ہوئے پاکستان پر دوغلے پن کا الزام عائد کیا۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ کم سُخن جنرل کیانی نے ان الزامات کا اتنی خاطر جمعی سے جواب دیا جس سے دوستوں اور دُشمنوں، دونوں کو اندازہ نہ ہو سکا کہ انہیں کتنا معلوم ہے۔ لیکن۔ اس میں کسی کوشبہ نہیں تھا کہ ان کو بھی سی آئی اے کی خفیہ کاروائیوں کے بارے میں شکایات تھیں۔ ان میں وہ خفّت آمیزحملہ شامل تھا جس میں بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اور جنرل کیانی ایک ایسے وقت سبکدوش ہو رہے ہیں، جب یہ سوال ابھی حل طلب ہیں، اور جب ہیجان خیز پاک امریکی تعلقات کی تہ سے یہ تلخ حقیقت اُجاگر ہوتی ہے کہ سالہا سال کی سفارتی کاوشوں اور اربوں ڈالر کی امداد کے بعد، ان دونوں کے مقاصد اور طریقوں میں بنیادی تضاد ہے۔ خاص طور پر، جب پڑوسی ملک افغانستان کے قصّے کا آخری باب لکھا جانے والا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستانی طالبان نے جب سر اُٹھایا اور اُنہوں نے سیکیورٹی افواج اور مرکزی حکومت کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی، جس میں پاکستانی سپاہیوں کے سر قلم کئے گئے اور سینئیر جنرلوں کو ہلاک کیا گیا، اور آئی ایس آئی کو خود کُش حملوں کا نشانہ بنایا گیا تو پاکستانی فوج کا جہادی تنظیموں پر سے اعتماد اُٹھ گیا۔

اخبار نےخاص طور پر سنہ 2010 میں راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹر پر طالبان حملے کا ذکر کیا ہے، جس میں وُہ فوج کے اپنے سازشیوں کی مدد سے جنرل کیانی کے دفتر سے چند سو فُٹ تک پہنچ گئے تھے۔ جنرل کیانی نے جوابی کاروائی کرکے، وادئ سوات میں کامیاب فوجی کاروائی کی۔ اور اس فوجی نظرئےکی منسوخی کے احکامات جاری کئے جس کا سارا زور ہندوستان پر تھا۔

اور، جیسا کہ اخبار نے کہا ہے، انہوں نے پبلک میں ملک کے اِس فرینکن سٹائن مسئلے کا اعتراف کیا کہ ہندوستانی مفادات کے خلاف لڑنے کے لئے جن جہادی تنظیوں کی آبیاری کی گئی تھی، وُہ اب پاکستان کے استحکام کے لئے خطرہ بن گئی ہیں۔ اور اگست، سنہ 2012 ءکو اُن کی اس تقریر کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا تھا، جس میں اُنہوں نےقوم سے اس خطرے کے خلاف متّحد ہونے کی اپیل کی تھی۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ فوج نے اس تبدیلی کو جُزوی طور پر قبول کیا، جس سے امریکہ کو زبردست مایوسی ہوئی۔ خاص طور پر ایڈمرل ملن کو، جنہوں نے پاکستان کے 26 دوروں میں جنرل کیانی سے مراسم بڑھانے کی پوری کوشش کی تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جس پر اس کی 66 سالہ تاریخ کے آدھے دور میں جنرلوں کا قبضہ رہا ہے، جنرل کیانی کو پاکستانی سولین قیادت کے ساتھ زیادہ کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ آئی ایس آئی کی بدنام زمانہ سیاسی سیل کو بند کرنے کا سہراُنہیں کو جاتا ہے، جسے روائتی طور پر سیاسی مداخلت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اور جس کی نگرانی میں سنہ 2008 اور پھر اس سال مئی میں کم و بیش کامیاب انتخابات منعقد کئے گئے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ، اخبار کے نزدیک جنرل کیانی کو نرم دل نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے اکثر سولین وزیروں کی وساطت سے ملک کی خارجہ اور سیکیورٹی کی پالیسیوں پر اپنے غیر سرکاری ویٹو پاور کا برابر استعمال کیا۔ انہوں نے جوہری اسلحہ خانے کی توسیع جاری رکھی۔ اور ان کی فوج اور انٹلی جنس کےاہل کاروں پر حقوق انسانی کی فاش خلاف ورزیوں کا الزام لگتا رہا ہے۔

آخر میں،اخبار کہتا ہے کہ ایک چیز بالکل واضح معلوم ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ پاکستان کا وُہ اسٹریٹیجِک نظریہ غالباً برقرار رہے گا جو ہندوستان سے بداعتمادی اور افغانستان پر کسی نہ کسی وساطت سے اُس کے غلبے سے عبارت ہے۔

اوبامہ انتظامیہ کی خلیج گوانتانامو کے فوجی قیدخانے کو بند کرنے کی جو کوشش ہے، ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی اطلاع کے مطابق، اس میں نئی روکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔ اس قید خانے کے بعض قیدی انتظامیہ کی طرف سے انہیں واپس اپنے وطن بھیجنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان میں دو الجزائیری باشندے ہیں، جنہوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ جن انتہا پسند اسلامی تنظیموں نے اُنہیں بھرتی کیا تھا، اگر اُنہیں پتہ چل گیا کہ دہشت کے بارے میں اُن کے اعتقادات اُن سے مختلف ہیں، تو وہ انہیں اس کی سزا دیں گے۔

انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے اخبار کو بتایا ہے کہ قیدیوں کو منتقل کرنے میں اُن کی تشویش کا پورا لحاظ کیا جاتا ہے، اگرچہ اس نے اعتراف کیا کہ بعض قیدیوں کو زبر دستی اُن کے اپنے ملک بھیج دیا گیا ہے۔

اس وقت، گوانتانامو میں زیادہ تر قیدی یمن کے ہیں، جہاں القاعدہ کا اتنا زور ہے کہ قیدیوں کو وہاں بھیجنے کا خطرہ نہیں مول لیاجا سکتا، کیونکہ اُنہیں جہاد کے لئے دوبارہ بھرتی کیا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG