رسائی کے لنکس

’شمالی کوریا کے بلند بانگ جنگی نعروں کو اخباروں کی شہ شرخیوں میں جگہ ملی ہے۔ لیکن، ماہرین اور جنوبی کوریا کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا تقریباً روزانہ ہی جنگ کا انتباہ کرتا آیا ہے اور کہتا آیا ہے کہ یہ جنگ جنوبی کوریا اور امریکہ کی طرف سے جارحیت کی وجہ سے شروع ہوسکتی ہے‘

’وال سٹریٹ جرنل‘ کے ایک تجزیہ کار ایلس ٹیئر گیل کا خیال ہے کہ کوریا کی کشیدگیوں میں کچھ کمی آنے کے باوجود خطرے باقی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کے بلند بانگ جنگی نعروں کو اخباروں کی شہ شرخیوں میں جگہ ملی ہے۔ لیکن، ماہرین اور جنوبی کوریا کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا تقریباً روزانہ ہی جنگ کا انتباہ کرتا آیا ہے اور کہتا آیا ہے کہ یہ جنگ جنوبی کوریا اور امریکہ کی طرف سے جارحیت کی وجہ سے شروع ہوسکتی ہے۔

اِس قسم کی دھمکیاں جنوبی کوریا میں ہونے والی سالانہ مشقوں کے دوران دی جاتی ہیں۔البتہ، اِس سال اُن میں شدت آئی ہے اور امریکہ اور جنوبی کوریا کی یہ سالانہ مشقیں اپریل کے اختتام تک جاری رہیں گی۔

امریکی عہدے دار بار بار کہہ چکے ہیں کہ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے کہ شمالی کوریا کسی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ البتہ اگر اُس نے کسی میزائل یا جوہری بم کا تجربہ کیا تو اُس کو اِس نگاہ سے دیکھا جارہا ہے کہ اُس کا مقصد ہتھیار بنانے کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا ہوسکتا ہے۔ اور اِس کے ساتھ اندرون ملک لوگوں کو اپنی عسکری طاقت کا پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور عہدے دار مانتے ہیں کہ اشتعال انگیز زبان اور طرز عمل کے رواں دور میں فوجی محاذ آرائی کی دلدل میں اتفاقیہ گرنے کا خطرہ ضرور موجود ہے، لیکن شمالی کوریا کے سابقہ طرزِ عمل سے ظاہر ہے کہ اِس قسم کے خطرے کا امکان اُس وقت زیادہ ہوتا ہے جب وہ جنگجویانہ بیان بازی نہ کر رہا ہو۔

شمالی کوریا کی طرف سے آخری دو بڑے حملے 2010ء میں کیے گئے تھے جب مارچ میں جنوبی کوریا کے بحریہ کا ایک جہاز ڈبو دیا گیا تھا اور اُس میں 46افراد ہلاک ہوئے تھے اور نومبر میں ایک جزیرے پر گولہ باری کی گئی تھی جس میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اُس وقت دونوں کوریاؤں کے باہمی تعلقات بہت زیادہ خراب ہوگئے تھے، کیونکہ اُس وقت کے جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سربراہ اجلاس کے لیے شمال کی شرائط رد کردی تھیں۔

جنوبی کوریا کی نئی صدر پارک گوین ہائی نے شمال کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔ لیکن، امکانی حملوں کے خلاف مضبوط دفاعی تیاری جاری رہے گی۔ چناچہ امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کا حال ہی میں جو مظاہرہ کیا ہے اور جنوبی کوریا نے شمال کی طرف سے کسی حملے کا بھرپور جوابی کارروائی کا جو انتباہ کیا ہے اس کا مقصد شمال پر واضح کرنا ہے کہ حملہ کرنے کی صورت میں اُسے کیسے خطروں کا سامنا ہوگا۔

صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دینے کی دسویں سالگرہ پر عراق کے وزیر اعظم نوری الماکی وثوق کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ملک کے عوام کی اکثریت کے درمیان اِس بات پر اتفاق رائے ہے کہ صدام کی ڈکٹیٹرشپ کے دور کے مقابلے میں اِس وقت اُن کی حالت بہتر ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ادارتی صفحے پر ایک مضمون میں وہ کہتے ہیں کہ عراقی امریکہ کے اِس بات پرممنون ِاحسان رہیں گے کہ صدام حسین کی ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ کرنے کے لیے اُس کے فوجیوں اور شہریوں نے جانی قربانیاں دیں۔

وہ کہتے ہیں کہ دسمبر 2011ء میں عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا ٴکے بعد امریکہ کے ساتھ عراق کا رشتہ ختم نہیں ہوا ہے، بلکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بدولت عراق کو برابر فائدہ ہوا رہا ہے اور عراق کو اِن تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی پوری توقع ہے۔
مسٹر مالکی کہتے ہیں کہ دنیا کے خام تیل کے مجموعی ذخائر والے ملکوں میں عراق کا پانچواں نمبر ہے اور اِس خطے میں اُس کی معیشت کی ترقی کی رفتار سب سے تیز ہے۔

عراق امریکہ کا محض تیل فراہم کرنے والا ذریعہ نہیں، بلکہ اُس کا تجارتی ساجھےدار بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے عراق کھو نہیں دیا، بلکہ عراق نہ صرف مشترکہ سٹریٹجک امور میں امریکہ کا شراکت دار ہے، بلکہ اُن باہمی مساعی میں بھی جو وہ توانائی، اقتصادیات اور امن اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کر رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG