رسائی کے لنکس

’ڈیلی نیوز‘ کے مطابق، ملکی سطح پر اس وقت ایک کروڈ 15 لاکھ امریکی تلاش معاش میں سرگرداں ہیں۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ پندرہ ہفتوں سے زیادہ عرصے سے بیکار پھر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، مزید 69 لاکھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے روزگار تلاش کرنا ہی چھوڑ دیا ہے

امریکہ میں ستمبر کی پہلی پیر کو ’یوم محنت‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس مناسبت سے نیو یارک کا اخبار ’ڈیلی نیوز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہےکہ اس سال مزدور انجمنوں کے لیڈروں نے نیو یارک میں ففتھ ایوینیو پر یوم محنت کی روائتی پریڈ منسوخ کر دی ہے۔ کیونکہ، یوں بھی، بقول اخبار کے، منانے کے لئے کوئی خاص بات تھی بھی نہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ نزدور انجمنوں کے ارکان کی تعداد برابر کم ہوتی جارہی ہے۔ اور سنہ 2009 میں معاشی بُحران کے خاتمے کے چار سال بعد بھی روزگار کے نئے مواقع میں اس قدر سُست رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے کہ قومی سطح پر بیروزگاری کی شرح اب بھی سات اعشاریہ چار فی صد ہے۔

اخبار کے مطابق، ملکی سطح پر اس وقت ایک کروڈ 15 لاکھ امریکی تلاش معاش میں سرگرداں ہیں۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ پندرہ ہفتوں سے زیادہ عرصے سے بیکار پھر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، مزید 69 لاکھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے روزگار تلاش کرنا ہی چھوڑ دیا ہے، کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ نوکری ملے گی ہی نہیں، پھر اس تعداد میں اُن 83 لاکھ افراد کو بھی شامل کریں۔ جن کی ملازمت جُز وقتی ہے اور جو ہمہ وقتی ملازمت کی تلاش میں ہیں۔ تو اس طرح یہ تصویر تاریک تر ہو جاتی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس سے بھی تاریک تر بات یہ ہے کہ مزدوراں کی اُجرت میں سرِ مُو اضافہ نہیں ہوا ہے، جب کہ پیداواریت اور سرمایہ کاروں کے منافع میں خوب اضافہ ہوا ہے۔

اخبار نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہےکہ نیو یارک کے اندر سات فی صد مرد مزدوروں اور ایک فیصد خواتین مزدوروں کی اوسط اُجرت میں سات فی صد کی گراوٹ آ ئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پچھلے ہفتے واشنگٹن پر مارٹن لوتھر کنگ کے تاریخی جلوس کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی تو توجّہ کم سے کم اُجرت کے مسلے پر پھر مرکوز ہوئی۔

صدر اوبامہ قریہ قریہ جا کر متوسّط طبقے کےحالات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے آئے ہیں۔ اور اس ماہ کانگریس کا اجلاس دوبارہ شروع ہوگا تو بجٹ اور قومی قرضے کے باریک نکات پر جھڑپوں کا پھر سے آغاز ہوگا اور اخبار سمجھتا ہے کہ یہ ملک اور اس کے لیڈر اپنی ذمّہ داری پر پورے نہیں اُتر رہے۔

ایک ادارئے میں، اخبار ’میامی ہیرلڈ‘ نے یہ رائے دی ہے کہ ایسی بہت ساری معقول وجوہات ہیں جن کی بنا پر امریکہ کو شام میں فوجی مداخلت سے احتراز کرنا چاہئے۔ آخر ہم دنیا کے پولیس والے تو نہیں ہیں۔ اور پھر اگر ہم ایک بار اس ملک کے اندر گئے تو پھر وہاں سے سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکی عوام جنگ سے عاجز آچکے ہیں، اور وہ ایسی کسی بات کے حق میں نہیں ہیں اور اس کی معقول وجوہات ہیں، مثلاً عراق کا المناک واقعہ جو اس بات کی تکلیف دہ یاد داشت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی جنگ میں الجھنے میں کتنے خطرے پوشیدہ ہیں۔ لیکن، ان اعتراضات کے باوجود، اخبار کے خیال میں امریکہ کی طرف سے براہ راست اور بامعنی کاروائی کا بھرپور جواز موجود ہے، اور صدر بشارالاسد نے جس حقارت سے عالمی رائے عامّہ کو ٹھکرا دیا ہے، اس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس حکومت کے مظالم امریکی قیادت اور اس کے اعتبار کے لئے ایک براہ راست چیلنج ہیں اور اس سے اس ملک کے اہم مفادات کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔شام کے شہریوں کا جو قتل عام کیا گیا ہے اُس کے پیش نظر امریکہ کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وُہ جوابی فوجی کاروائی کرے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ میں شام کی صورت حال پر ایک تجزئے میں کہا گیا ہے کہ شام میں صدر اسد کی حکومت کے خلاف جو قوّتین بر سر پیکار ہیں اُن میں اعتدال پسند فوجیں شامل ہیں جو آزاد شامی فوج کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے جو کاروائی ہوگی اُسے دوسرے اتحادیوں کے اشتراک سے ایک ایسی جامع حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہئے جس کا نصب العین ایک تو اسد کی فوجی صلاحیت کو تباہ کرنا ہونا چاہئے اور دوسرے ان اعتدال پسند مخالف عناصر کو ٹینک شکن اور طیارہ شکن ہتھیاروں کی شکل میں بھرپور امداد فراہم کرنا ہونا چاہئے۔۔
XS
SM
MD
LG