رسائی کے لنکس

اخباری رپورٹ کے مطابق، ’میننگ کا فعل بےضرر بھی نہیں تھا۔ قطع نظر خلوص نیت کے، میننگ نے لوگوں کو خطرے میں ڈالا، اور قوم کے سر بستہ راز بلا تمیز افشا کرکے سمندر پار ملکوں میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا‘

امریکی فوجی بریڈلی میننگ کو وکی لیکس ویب سائٹ کو سات لاکھ سے زیادہ خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے جرم میں ایک فوجی عدالت نے 35 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اِس پر ’لاس اینجلس ٹائمز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ میننگ کی اس حرکت سے قومی سلامتی کو جو نقصان پہنچا ہے۔ اگر اُس کا موازنہ اُس کے بعض معاملات سے پردہ اُٹھانے کے نتیجے میں قومی خدمت کے ساتھ کیا جائے، تو 35 سال کی سزا معقول لگتی ہے۔

لیکن، اخبار کے خیال میں، بریڈلی میننگ کو 35 برس قیدکی سزا سنا کر فوجی جج نے ایک طرف استغاثہ کو مایوس کیا ہے، جس کا مطالبہ 60 برس قید کا تھا اور دوسری طرف میننگ کے سب سے گرم جوش حامیوں کو بھی جو چاہتے تھے کہ اسے قید کی سزا بالکل نہیں ملنی چاہئیے۔ لیکن، اگر یہ فرض کیا جائے کہ ایک معقول مدت کے بعد میننگ کو پرول پر رہا کر دیا جائے گا، تو فوجی جج نے میننگ کی حرکت سے قومی سلامتی کو پہنچنے والے نقصان اور بعض امور کو طشت از بام کرکے اُن پر عوام کی توجّہ مرکوز کرانے کے درمیان ایک معقول توازن پیدا کیا ہے۔

پچیس سالہ میننگ کے معترفین کے نزدیک وہ ایک بہادر انسان ہے جس نے سرکار کی طرف سے ہونے والی بعض غلط حرکتوں کا پردہ چاک کیا۔ مثلاً، سنہ 2007 میں بغداد پر ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کا حملہ جس میں 12 شہری ہلاک ہوئے تھے۔اور جس سے میننگ کے اس وصف کی توثیق ہوتی ہے۔ لیکن، جو سات لاکھ فائیلیں میننگ نے سرکاری کمپیوٹروں سے ڈاؤن لوڈ کیں اور وکی لیکس کو فراہم کیں، اُن میں سے بے شمار ایسی تھیں جس کی وجہ سے امریکی سفارت کاری کو ضرر پہنچا اور عوام کو اسی تناسب سے کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا۔

اخبار کہتا ہے کہ بعض اعتبار سے میننگ کی شخصیت ہمدردی کی متقاضی ہے، اور ایسا لگ رہا ہے کہ اس کے سرکاری رازوں کو طشت از بام کرنے کے فیصلے کے پیچھے ایک مخلصانہ اگرچہ سادہ لوحی پر مبنی یہ جذبہ کار فرما تھا کہ اس سے، جیسا کہ اس نے جج کی سزا کے فیصلے سے پہلے ایک دلگیر بیان میں کہا تھا، یہ ہوگا کہ مختلف ملک ایک دوسرے کے خلاف معاہدے اور سودے کرنا بند کر دیں گے۔ میننگ نے کہا تھا کہ جب میں اپنے اِس فیصلے پر غور کرتا ہوں، تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک جُونیر تجزیہ کار کی حیثیت سے میں نے کیونکر یہ فرض کرلیا کہ میں اس دنیا کو بہتر بنا سکتا ہوں۔

فوجی قانون کے تحت میننگ، آٹھ سال قید کے بعد پرول کے لئے درخواست سے سکتا ہے۔ اور اخبار کے خیال میں یہ سزا بالکل موزوں ہوگی۔ اُدھر میننگ کے حامیوں کی صدر اوبامہ سے اپیل ہے کہ اُسے معافی دی جائے یا جتنی سزا وہ کاٹ چکا ہے، اُسی پر اکتفا کیا جائے۔

اخبار کے نزدیک، اس کا نہ تو کوئی امکان ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔

اسی موضوع پر، ’یو ایس ٹوڈے‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ بریڈلے میننگ کے پُرجوش حامیوں کا استدلال ہے کہ اُسے 35 سال قید کی جو سزا سنائی گئی ہے، وہ اس کے جُرم کے مقابلے میں حد سے زیادہ غیر متناسب ہے۔

وُہ کہتے ہیں کہ میننگ کے اس فعل کے پیچھے حُب الوطنی کا جذبہ کارفرما تھا، یعنی جنگی جرائم اور ایسی معلومات سے پردہ اٹھانا جو فو ج دُشمن سے نہیں، بلکہ عوام سے چھپانا چاہتی تھی۔

اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے پہلے کسی بھی راز اُگلنے والے کو، چاہے وُہ فوجی ہو یا شہری، دو سال سے زیادہ کی سزا نہیں ہوئی ہے۔ اور جن فوجیوں نے عراق میں خوفناک جرائم کا ارتکاب کیا۔ اُنہیں اس سے بھی کم سزا دی گئی تھی۔


اخبار کہتا ہے کہ یہ دعوے اپنی جگہ بالکل درست ہیں، اور اگر میننگ کو 35 برس جیل میں کاٹنے پڑگئے تو ان کا کیس بہت مضبوط ہوگا۔ لیکن، جیسا کہ اخبار کہتا ہے، فوجی یا سویلین شعبے میں فوجداری مقدّمے مشکل ہی سے اس نہج پر چلتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ سزا کے ساتھ ساتھ کم سے کم بھی ہوتی ہے جو قیدی کے اچھے چلن کی بدولت یا اور وجوہات کی بنا پر مزید کم ہو سکتی ہے۔

میننگ کی کم سے کم سزا 10 سال ہے، جس میں سے وہ تین سال پہلے ہی کاٹ چکا ہے۔

ایک ایسےشخص کے لئے، جو جاسوس نہیں ہے۔ یہ سزا سنگین ضرور ہے۔ لیکن، حد سے زیادہ بھی نہیں، خاص طور پر اس کے فعل سے ہونے والے نقصان کے پیش نظر، ’یو ایس اے ٹوڈے‘ کہتا ہے کہ اگر اسے آزاد کر دیا جاتا۔ تو اس کا مطلب فوج کے دوسرے ارکان کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دینے کے مترادف ہوتا کہ راز کے زمرے میں کیا آتا ہے اور کیا نہیں۔

پھر اخبار کہتا ہے کہ میننگ کا فعل بےضرر بھی نہیں تھا۔ قطع نظر خلوص نیت کے، میننگ نے لوگوں کو خطرے میں ڈالا، اور قوم کے سر بستہ راز بلا تمیز افشا کرکے سمندر پار ملکوں میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر میننگ کو قید میں 10 سال گزارنے پڑے، تو وہ کافی سے زیادہ سزا ہے جو دوسروں کو اس کے نقش قدم پر چلنے سے باز رکھے گی۔ ’یو ایس ٹوڈے‘ کا یہ اداریہ اخبار کے پُورے ایڈیٹوریل بورڈ نے تحریر کیا ہے۔

مصر کے سیاسی بُحران پر اخبار ’نیویارک نیوزڈے‘ میں معروف تجزیہ کار چارلز کراتھ مر رقمطراز ہیں کہ بہتر تو شائد یہ ہوتا کہ مصری فوج مزید تین سال انتظار کرتی، تاکہ انتخابات میں نہائت ہی غیر مقبول محمد مرسی کو ووٹر یوں بھی ردّ کردیتے۔ لیکن، ایسا لگ رہا ہے کہ جنرل عبدالفتح السیسی نے یہ اندازہ لگایا کہ اُس وقت انتخابات شائد ہونے ہی نہیں دئے جائیں گے۔ جیسا کہ غزہ کی پٹی میں ہوا ہے۔ اور جہاں اخوان کی حلیف جماعت حماس نے ڈکٹیٹر شپ قائم کر رکھی ہے۔ مصر میں اخوان نے سوائے ایک نالائق، برداشت سے عاری اور ڈکٹیٹرانہ حکومت کےعلاوہ کچھ نہیں دیا۔ اور 85 سال حزب اختلاف کی حیثیت سے اخوان نے جو وقار کمایا تھا محمد مرسی نےاپنی حرکتوں کی وجہ سے ایک سال کے اندر سب کھو دیا۔

مرسی نے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کا قافیہ تنگ کیا ۔ فرمان جاری کرکے حکومت چلانے کا اختیار حاصل کر لیا، جسے کوئی چیلینج نہ کر سکتا تھا۔ ایک فرقہ وارانہ آئین ملک پر مسلّط کر دیا اور ریاست کے اختیار کے تمام حربے اپنے ہاتھ میں لینے کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔ اور جب اس کا تختہ اُلٹ دیا گیا تو اخوان نے گرجا گھر جلا کر اپنا غصّہ اُتارا۔

تجزیہ کار نے آگے چل کرکہا ہے کہ سنگدل فوج اس کا کوئی خوش کن متبادل تو نہیں۔

لیکن، اہم بات یہ ہے کہ مصری عوام کیا سوچتے ہیں۔ مرسی کے خلاف جو مظاہرے ہوئے وُہ مصر کی تاریخ میں سب سے عظیم تھے۔ لوگ اس پر برہم تھے کہ مرسی نے ایسے انقلاب سے دغا کی جس سے فرد کے وقار اور جمہوریت کی نئی راہیں کُھلنے کی امیدیں وابستہ تھیں۔
XS
SM
MD
LG