رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: وسیع تر افغان سکیورٹی فورس


نیٹو کے عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تین لاکھ بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل اس فورس کی سنہ 2018 ءتک کفالت کی جائے گی

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ کی ایک رپورٹ ہے کہ نیٹو افغانستان میں ایک وسیع تر سکیورٹی فورس کا خرچ اُٹھانے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر رہا ہے۔

اخبار نے برسلز میں نیٹو کے عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ تین لاکھ بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل اس فورس کی سنہ 2018 ءتک کفالت کی جائے گی۔ اس قدر بھاری مالی بوجھ برداشت کرنے کا مقصد ایک تو اُس ملک کے استحکام کو یقینی بنانا ہے اور دوسرے جب سنہ 2014 تک غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل آئیں تو اس کے بعد بھی نیٹو کی حمائت جاری رہے۔

اخبار کہتا ہے کہ نیٹو لیڈروں نے اس سے پہلے جو مالی منصوبہ منظور کیا تھا اُس کے تحت افغان سیکیورٹی فوجوں کی تعداد گھٹا کر دو لاکھ 40 ہزار کر دی گئی تھی، کیونکہ باور کیا جاتا تھا کہ اس سے بڑی فوج کا خرچ اٹھانا افغانستان کیلئے ممکن نہ ہوگا۔

رواں مالی سال کے دوران جو ستمبر کو ختم ہوگا، افغانستان کی موجودہ سطح کی فوج اور پولیس کی تربیت اور سازوسامان پر ساڑھے چھ ارب ڈالر کی لاگت آئےگی جس میں سے افغانستان صرف پچاس کروڈ ڈالر دیتا ہے۔ اُس کے بین الاقوامی شراکت دار تیس کروڑ اور امریکہ باقی کے پانچ کروڑ ستّر لاکھ ادا کرتا ہے۔

اخبار نے نیٹو کے سرکردہ عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتّحادی ملک اب افغانستان کے لئے ایک نئے امدادی پیکِج پر غور کر رہے ہیں جو کم از کم پانچ سال جاری رہے گا اور افغان سیکیورٹی فورس کی زیادہ بڑی تعداد کی کفالت کرے گی، اگرچہ ابھی اس کی کئی تفصیلات طے ہونا باقی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ نیٹو عہدہ دار یہ مانتے ہیں کہ طالبان اور اور دوسری افغان باغی تنظیمیں نیٹو فوجوں کے افغانستان سے بالآخر انخلا کے بارے میں یہ تاثُّر پھیلا رہے ہیں کہ وہ افغانستان کو اپنے حال پر چھوڑ کر جارہے ہیں۔

نیٹو اتحادیوں کو فکر ہے کہ کہیں عام افغان بلکہ بعض افغان لیڈروں کی بھی یہی سوچ نہ ہو، چنانچہ اخبار کہتا ہے کہ اسی وجہ سے اب نیٹو لیڈر اس پر غور کر رہے ہیں کہ افغانستان کو دی جاے والی امداد میں توسیع کی جائے اور امریکی اور اتحادی فوجوں پر مشتمل ایک فورس سنہ 2014 کے بعد بھی وہاں موجود رہے جو افغانستان کے لئے غیر ملکی امداد کے تسلسل کا ایک ٹھوس ثبوت ہوگا۔

اور جیسا کہ نیٹو کے ایک عہدہ دار نے کہا ہےکہ ہمیں پچھلے بارہ سال کے دوران جو کامیابی ہوئی ہے یہ نیا قدم اسے کے تسلسُل کا ضامن ہوگا اور اب جب کہ سیکیورٹی کی تمام تر ذمّہ دااریاں افغانوں کو سونپی جارہی ہیں۔ نیٹو افواج کی کوشش ہے کہ باغیوں کا وُہ تاثُّر مٹانا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی فوجیوں کو حملہ آوروں اورقابض فوج کے رنگ میں پیش کرنا رہا ہے۔

نیٹو عہدہ داروں کے حوالے سے اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ مسٹر اوبامہ نے فوجوں کے انخلا کا جو ٹائم ٹیبل بنایا ہے ُاس کے مطابق اس وقت افغانستان میں جتنی امریکی فوج ہے اس کا بیشتر حصہ موسم گرما میں وہاں موجود ہوگا اور پھر خزان کے اواخر یا موسم سرما کے اوائیل میں ہٹایا جائےگا۔

’نیوز میکس‘ کے مطابق ستمبر 2009 ءکے بعد اس وقت صدر اوبامہ کی مقبولیت کا گراف سب سے اونچی سطح پر پہنچا ہوا ہے اور بلُوم برگ کے رائے عامہ کے ایک نئے جائزے میں شرکت کرنے والوں نے کہا ہے کہ اُنہیں صدر اوبامہ کا اقتصادی پروگرام ری پبلکنوں کے پروگرام مقابلے میں بہتر لگا ہے۔ 55 فیصد کا کہنا تھا کہ وُہ صدر کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ یہ تناسُب ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔

اسی جائزے کے مطابق 55 فی صد کا کہنا تھا کہ ری پبلکنوں کے بارے میں اُن کا تاثُّر غیر موافق ہے، جب کہ 35 فیصد کا موافق تھا۔ لیکن، جہاں امریکی صدر کی مجموعی کارکردگی کو پسند کرتے ہیں اُن کی معیشت سے نمٹنے کی پالیسی کے حامیوں کی تناسُب صرف 35 فی صد ہے۔

واشنگٹن کے مجموعی مسائل کے لئے جائزے میں شرکت کرنے والوں میں سے 44 فیصد نے ری پبلکنز کو مورد الزام ٹھہرایا ہے، جب کہ 34 فیصد کا خیال ہے کہ اس کی ذمّہ داری ڈیمو کریٹوں پر آتی ہے۔
XS
SM
MD
LG