رسائی کے لنکس

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہے کہ امریکہ میں قدرتی گیس کا بحرِ ذخار موجود ہے، جِس کی بدولت بجلی کے ٹربائین چلتے ہیں، گھروں کو گرم رکھا جاتا ہے، پانی گرم کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بڑے بڑے ٹرکوں کو توانائی فراہم ہوتی ہے

امریکہ میں قدرتی گیس کے جو بیش بہا ذخائر دریافت ہوئے ہیں، اُس پر ’واشنگٹن پوسٹ‘ کا ایڈیٹوریل بورڈ صدر اوباما کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اِس کی بدولت امریکہ کو صاف ستھری توانائی نصیب ہوئی ہے اور اس شعبے میں زیادہ خودکفالت بھی۔ اور اسی لیے اُن کی انتظامیہ دفتر شاہی کی پیچیدگیوں میں اُلجھے بغیر تیل اور گیس کے نئے پرمٹ جاری کرے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ میں قدرتی گیس کا بحرِذخارموجود ہے، جِس کی بدولت بجلی کے ٹربائین چلتے ہیں، گھروں کو گرم رکھا جاتا ہے، پانی گرم کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بڑے بڑے ٹرکوں کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔

اِن ذخائر کا بیشتر حصہ غیر روایتی مقامات میں پایا گیا ہے جہاں سے اِسے نکالنے کا ابھی محض آغاز ہوا ہے اور اس کے بعد توانائی کے دام گر گئے ہیں اور امریکہ جو اب تک باہرسےتوانائی درآمد کرتا آیا ہے، اِس پوزیشن میں ہوگیا ہے کہ وہ توانائی کو برآمد کرے اور توانائی کی یہ رسد کئی عشروں تک دستیاب ہوگی۔

گیس کے نئے ذخائر کی دریافت تک بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلے کا سہارا لیا جاتا رہا ہے، اور کوئلے کے مقابلے میں گیس کے استعمال سے کاربن ڈائکسائیڈ کا اخراج معتدبہ حد تک کم ہوتا ہے۔

اِسی کاربن کی وجہ سے عالمی حرارت بڑھتی ہے اور امریکہ میں کاربن ڈائکسائیڈ کے اخراج میں کمی کی ایک وجہ یہی ہے کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو گیس سے چلنے والے بجلی گھروں میں بدل دیا گیا ہے۔

چناچہ، 2011ء کے سال میں کاربن کے اخراج میں چار اعشاریہ چھ فی صد کی کمی واقع ہوئی۔

اخبار کہتا ہے کہ قدرتی گیس کا اس قدر وافر مقدار میں دستیاب ہونا ایک نعمت ہے۔ البتہ، غیر روایتی گیس کا نکالنا ایک نزاعی معاملہ ہے، کیونکہ اس کو نکالنے کے لیےfrackingکے جس طریقے کا سہارا لینا پڑا ہے، اُس میں چٹانوں میں شگاف کرنے کے لیے پانی اور بعض اور چیزوں کا مرکب زمین کی اُتاہ گہرائیوں میں پمپ کرنا پڑتا ہے، تاکہ وہاں سے گیس نکالی جائے۔

لیکن، ماہرینِ ماحولیات، آلودگی کے اندیشے کے پیشِ نظر اس طریقے کے خلاف ہیں۔

چناچہ، اس پر اخبار نے صدر اوبامہ کے موقف کو سراہا ہے کہ اس کے لیے اگر معقول قواعد مرتب کیے جائیں تو اس گیس کو نکالنے کے کام کو زیادہ صاف ستھرا بنایا جاسکتا ہے۔

امریکہ کے خوراک اور ادویات کے ادارے نے ایک مصنوعی آنکھ کی منظوری دے دی ہے جس کی مدد سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے والے افراد کی بصارت جزوی طور پر بحال ہوسکے گی۔

’لاس اینجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ عینک کے اوپر ایک وڈیو کیمرہ اور ٹرانسمٹر نصب کیا جاتا ہے جو روشنی اور حرکت کو بجلی کے اشاروں میں بدل دیتا ہے اور اُنھیں براہِ راست بیمارکے پردہٴ بصارت میں پیوند کیے ہوئے الیکٹروڈس کو بھیجتا ہے۔

جن بیماروں کو تیز روشنی تک محسوس نہیں ہوتی تھی اُن کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں لگانے سے اُن کی بصارت تو واپس نہیں آئی۔ لیکن اُنھیں روز مرہ کی سرگرمیاں سرانجام دینے میں آسانی ہوگئی ہے اوراُنھیں اندھیرے اور اجالے کا احساس ہونے لگا ہے۔

اور اب کچھ ذکر اُس شہاب ثاقب کا جو جمعے کے روز روس کے یورال پہاڑوں پر گرا ہے جس سے کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ سرکاری ٹیلی ویژن پر شوقیہ وڈیو بنانے والوں کے جو نمونے دکھائے گئے اُن کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ چلیا بنسک کا قصبہ تھا جہاں اس شہاب ثاقب سے مکانوں کے دروازے اڑ گئے اور شیشے چکنا چور ہوئے۔

ایک روشن شعاع چمکنے کے دو تین سیکنڈ بعد عمارتیں ہِل گئیں جیسے کوئی دھماکہ ہوا ہو۔ بہت سے لوگ شیشوں کے ٹکڑوں سے زخمی ہوگئے۔

تقریباً 500افراد کو طبی امداد دینی پڑی اور سو افراد کو اسپتال داخل کرنا پڑا۔ تقریباً 300عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ چلیابسنک کی ایک فیکٹری میں ایک بڑا چھید ہوگیا۔ یہ شہر ماسکو سے 1500کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ شہاب ثاقب کی باقیات کی تلاش کی جارہی ہے۔
XS
SM
MD
LG