رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: اوباما سیاسی مکالمے کے لیے تیار

  • واشنگٹن

شکاگو سے واشنگٹن روانگی کے وقت، صدر اوباما اپنے اہل خانہ کے ساتھ

شکاگو سے واشنگٹن روانگی کے وقت، صدر اوباما اپنے اہل خانہ کے ساتھ

مسٹر اوبامہ نے شکاگو ہی سے ٹیلیفون پر ایوان نمائندگاں کے سپیکر جان بینر کے ساتھ بجٹ پر مصالحت کرنے کی ضرورت پر گُفتگو کی، جس پر اگلے ہفتےکانگریس میں غور ہونے والاہے

صدر اوبامہ انتخابی معرکہ سر کرنے کے بعد شکاگو میں اپنےانتخابی ہیڈکوارٹرز سے واپس واشنگٹن پہنچ چکے ہیں، اور بقول اخبارات کے، وہ مستقبل کے اقدامات کے بارے میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ مکالمے کے لیے تیار ہیں۔

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون‘ کے مطابق اُن لیڈروں کی طرف سے مصالحتی بیانات بھی آئے ہیں۔

مسٹر اوبامہ نے شکاگو ہی سے ٹیلیفون پر ایوان نمائندگاں کے سپیکر جان بینر کے ساتھ بجٹ پر مصالحت کرنے کی ضرورت پر گُفتگو کی جس پر اگلے ہفتےکانگریس میں غور ہونے والاہے۔

بعد میں، واشنگٹن میں مسٹر بینر نے رپورٹروں کو بتایا کہ اخراجات میں کٹوتی پر سمجھوتے کی شرط پر، ری پبلکن ٹیکسوں سے محاصل بڑھانے پرآمادہ ہیں، تاکہ دونوں کیمپوں کے مابین مضبوط رشتے قائم ہوں۔

اُدھر، ’ یُو ایس اے ٹوڈے‘ نے اوبامہ انتخابی مہم کےمشیر ڈیوڈ ایکسل راڈ کے حوالے سے بتایا ہےکہ صدر اوبامہ اپنےاس عہد پر قائم ہیں کہ ٹیکسوں میں چھوٹ کی جو روائت بُش دور سے چل رہی ہے، اُس کو ختم کیا جائے۔ اس کے تحت یہ چُھوٹ ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ کی آمدنی پر دی جاتی ہے۔

مسٹر ایکسل راڈ کہتے ہیں کہ انتخابات میں اُنہیں جو کامیابی ہوئی ہے اُس سے اُن کے موٴقّف کو تقویت ملتی ہے۔ ا نہوں نے اس امّید کا اظہار کیا کہ لوگ انتخابی نتائج کو اسی تناظر میں دیکھیں گے، یعنی تعاون اور مذاکرات کی حمائت میں۔

’اے بی سی ٹیلی وژن‘ صدارتی انتخابات میں صدر اوبامہ کی زبردست کامیابی پر ایک تبصرے میں کہتا ہے کہ ری پبلکن پارٹی افسوس ملنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کے پس منظر میں یہ سوچ رہی ہے کہ پُھوٹ اور انتشار کی شکار یہ جماعت کس طور دوبارہ اپنے قدم جما نے کے قابل ہوگی ۔

اے بی سی کے مطابق بعض ریپبلکن اپنے امید وار مٹ رامنی کو براہ راست اس تکلیف دہ شکست کے لئےذمہ دار ٹھہراتے ہیں، جو ایک کروڑپتی مارمن ہیں، اور جو ا ے بی سے کے بقول، نا تو راسخ الاعتقاد قدامت پسندوں کے ساتھ پورے طور پر ربط پیدا کر سکے ہیں اور نا ہی آزاد خیال متوسّط طبقے کے ساتھ ، جو ویسے بھی کمزور معیشت کی وجہ سے مشکل دور سے گذر رہا ہے۔

اے بی سی بقول ، ری پبلکن پارٹی کےووٹ حاصل کرنے کے اس کارگر طریقہ کار کو دیکھتے ہیں جو چار سال قبل اوباما کی پارٹی نے وضع کیا تھا اور جس پر ری پبلکنز کو کبھی قدرت حاصل نہ ہوئی۔

اے بی سی کہتا ہے کہ 2008ء کے بعد سے مسٹر اوباما نے ان ریاستوں کو جو ایک وقت یقینی طورپر ری پبلکن ریاستیں مانی جاتی تھیں اب سخت مقابلےکی ریاستوں میں بدل دیا ہے ۔ ان میں ورجینیا ، نیو میکسیکو اور کولاراڈو تک کی ریاستیں شامل ہیں جب کہ سب سنہ1988 کے بعد سے کوئی ری پبلکن صدارتی امیدوار کیلی فورنیا کی ریاست سے کامیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ بعض مبصرین اوباما کی موجودہ کامیابی کو اس ریگن انقلا ب کے خاتمے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ری پبلکن پارٹی بیس سال تک پھلتی پھولتی رہی ۔

’ لاس اینجلس ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق فلسطینی عوام نے صدر اوباما کی دوسری میعاد صدارت کے ساتھ یہ امید باندھ رکھی ہے کہ پہلی میعاد کے مقابلے میں یہ میعاد اسرائیل کےساتھ ان کا مناقشہ حل کرنے میں زیادہ سود مند ہوگی۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے مسٹر اوباما کو اپنے تہنیتی پیغام میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کی کامیابی مشرق وسطیٰ میں امن کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی، جب کہ اعلیٰ فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مسٹر اوبامہ کی دوسری میعاد صدارت کےدوران دو سلطنتوں کے فارمولے پر عمل درآمد ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں نے عزم کر رکھا ہے کہ جنرل اسمبلی میں انہیں وہ درجہ مل جائے جو ایک غیر رکن کاہوتا ہے۔
XS
SM
MD
LG