رسائی کے لنکس

اِس خاموش مگر شدید سفارت کاری کا مقصد مصری فوجی جنرلوں کو اِس بات کا قائل کرنا ہے کہ وُہ تشدُّد سے اجتناب کریں اور ایک جمہوری حکومت بحال کریں

’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ ایک تجزئے میں کہتا ہے کہ چار ہفتوں سے اوبامہ انتظامیہ خاموش مگر شدّت کی سفارت کاری میں مصروف ہے، جِس کا مقصد مصری فوجی جنرلوں کو اِس بات کا قائل کرنا ہے کہ وُہ تشدُّد سے اجتناب کریں اور ایک جمہوری حکومت بحال کریں۔

اِس کے ساتھ ساتھ وُہ فوج پر اپنا اثر و نفوذ بھی نہیں کھونا چاہتی، تاکہ 30 سال سے قائم باہمی تعلّقات کے دوران سیکیورٹی کے جو انتظامات موجود ہیں اُن کو کوئی زک نہ پہنچے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس مقصد سے وزیر دفاع چک ہیگل ، مصری مسلّح افواج کے چیف آف سٹاف، جنرل عبد الفتح السِسی کو متعدد بار فون کرکے اُنہیں پالیسی بدلنے کا مشورہ دے چُکے ہیں، جب کہ انتظامیہ کے قانونی ماہرین نے ایسا قانونی جواز فراہم کیا ہے جس سے مصر کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد بند کرنے کی نوبت نہیں آئی۔

اخبار کہتا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کےلئے مسئلہ محض مصری فو ج کے ساتھ رشتے کا نہیں بلکہ اسرائیل کے ساتھ بھی ہے، جس کی سیکیورٹی کے مفادات انتظامیہ کے عہدہ داروں کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے نئے دور کی ہر کوشش میں ملحوظ نظر رکھنے پڑتے ہیں۔ اسرائیل مصر سے یہ توقّع کرتا ہے کہ وُہ جزیرہ نما سینا سے اسلامی اسلامی انتہا پسندوں کا قلع قمع کرے گا۔

اور اخبار کہتا ہے کہ اسرائیلی عُہدہ دار در پردہ اور اعلانیہ امریکہ پر زور دیتے آئے ہیں کہ وُہ یہ امداد بند نہ کریں جو 1979 میں اسرائیل اور مصر کے مابین ہونے والے امن معاہدے کا ستون ہے۔ لیکن، اخوان المسلمین کے ارکان پر ہفتے کے روز کے حملوں میں 80 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد اور مصری جنرلوں نے امریکی عہدہ داروں کے مشوروں کو جس طرح نظر انداز کیا ہے، اُس کے پیشَ نظر صدر اوبامہ کے لئے سیکیورٹی اور جمہوریت کے درمیان توازُن برقرار رکھنا زیادہ سے زیادہ مُشکل ہوتا جارہا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پُوٹن نے یوکرینی کلیسا کے راہبوں سے ملاقات کی ہے، اور ’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہے کہ انہوں نے اس موقع کو ایک خاص مقصد کے لئے استعمال کیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یوکرین کو ایک ایسا تاریخی فیصلہ کرنا ہے جس سے اگلے کئی عشرو ں تک اُس کا ارتقا متاثّر ہوگا اور جس سے روس کا اپنا سٹرٹیجک مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔

ماسکو چاہتا ہےکہ یوکرین ماسکو کی سرپرستی میں قائم کسٹمز یونین میں شامل ہو جائے، اور پھر سابق سوئت مملکتوں پر مُشتمل مسٹر ُپوٹن کے اُس یورپی ایشیائی اتّحاد کا حصّہ بن جائے جس کا جُھکاؤ مشرق کی طرف ہوگا۔

کی ائیف پہنچ کر، مسٹر پوٹن نے اُُن عظیم تقریبات میں شرکت کی جو سنہ 988 عیسوی کے دن کی یاد میں ہو رہی تھیں۔ اُس روز کی ئیف کے شہزادے ولادی میر نے آرتھو ڈاکس عیساعئیت قبول کرکے ڈنیپر دریا پر اپنی پُوری رعایا کا بپتِسمہ کرایا تھا، اگرچہ اب اس کلیسا میں فرقے پیدا ہوگئے ہیں۔ لیکں یوکرین کے کروڑوں عیسائی اب بھی ماسکو میں قائم کلیسا کے پیرو کار ہیں۔

’کرسچن سائیس مانٹر‘ کہتا ہے کہ سنہ 2004 میں نام نہاد نارنجی انقلاب کے بعد یوکرین نے مغرب نواز پالیسی اختیا کرلی تھی۔ لیکن، سنہ 2010 کے انتخابات میں رُوسی بولنے والے مسٹر یانُو کووِچ کی کامیابی کے بعد اس پالیسی کا رُخ بدل گیا۔ اُنہوں نے یوکرین کی نیٹو معاہدے میں شمولیت رُکوا دی، اور روس کے ساتھ تعلُقات استوار کرتے ہوئے مزید25 سال کے لئے روس کو سیوسٹا پول میں بحرِ اسود میں روسی بحریہ کے ہیڈکوارٹر ز کی میعاد بڑھا دی۔

ایک امریکی فوجی عدالت نے بریڈلے میننگ نامی سپاہی کو دُشمن کی مدد کرنے کے سب سے زیادہ سنگین الزام سے بری کر دیا ہے۔ لیکن وِکی لیکس ویب سائیٹ کو اُس نے جو لاکھوں خُفیہ دستاوایزیں فراہم کی ہیں اُن کی بنا پر اُسے جاسُوسی، چوری اور دوسرے تمام الزامات کا مجرم قرار دیا ہے۔

’شکاگو سن ٹائمز‘ اخبار کہتا ہے کہ عدالت کے کمرے سے لے کر ہر جگہ لوگ فوجی عدالت کے اس فیصلے کے مدّعا پر غور کر رہے ہیں، جس میں اُسے دُشمن کی مدد کرنے کے الزام سے تو بری کر دیا، اور جس میں اس کو ویسے ہی عُمر قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ لیکن پھر اُسے بیس دوسرے الزامات میں مجرم قرار دیا جس میں اس کو 136 سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ وکی لیکس کی جس ویب سائٹ اِن خفیہ دستاویزوں انٹرنیٹ پر تشہیر کی ہے، اُس کے کارپردازوں نے عدلت کے فیصلےکو قومی سلامتی کی خطرناک انتہا پسندی سے تعبیر کیا ہے.
XS
SM
MD
LG