رسائی کے لنکس

سنہ 1993میں فلسطینی مملکت کےقیام کے بارے میں اوسلو معاہدے طے پا جانے کے بعد سے مغربی کنارے اور یروشلم میں بسنے والے اسرائیلیوں کی تعداد دوگُنی ہو گئی ہے: کرسچن سائینس مانٹر

صدر اوبامہ کے مشرق وسطیٰ کے رواں دورے پر ’کرسچن سائینس مانٹر‘ یاد دلاتا ہے کہ چار سال قبل جب وہ اس خطے کے دورے پر آئے تھے تو اُنہوں نے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لئے یہ شرط لگائی تھی کہ اسرائیل پہلے آبادکاروں کی نئی بستیوں کی تعمیر مکمّل طور پر بند کرے۔ چنانچہ، اسرائیل نے یہ تعمیر10 ماہ تک بند رکھی۔ لیکن،
فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات شروع نہ ہو سکے۔

صدر اوبامہ کے اس سال کے دورے کے آغاز سے دو روز قبل رملّہ میں فلسطینیوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس میں شریک ایک نوجوان نے اخبار کو بتایا کہ وہ اپنے صدر محمود عبّاس سے یہ توقّع رکھتا ہے کہ فلسطینی عوام امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کے متمنّی ہیں، کیونکہ اس وقت جو کُچھ نظر آرہا ہے، وُہ ہے اسرائیلی حکومت کے لئے امریکہ کی مکمّل حمائت۔

لیکن، اخبار کہتا ہےکہ صدر عبّاس کی جو ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات امریکی صدر سے ہوئی اُس میں فلسطینیوں کے لئے سب سے اہم مسئلے یعنی مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ کے مسئلے پر امریکی پالیسی کا حیرت انگیز طور پر یکسر پلٹ جانا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ بستیوں کے اس پھیلاؤ کی وجہ سے ایسی فلسطینی مملکت قائم کرنے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں جس کی پوری سر زمین ملی ہوئی ہو۔

اخبار کہتا ہے کہ 1993ء میں فلسطینی مملکت کےقیام کے بارے میں اوسلو معاہدے طے پا جانے کے بعد سے مغربی کنارے اور یروشلم میں بسنے والے اسرائیلیوں کی تعداد دوگُنی ہو گئی ہے اور اب موجودہ دورے میں آباد کاروں کے لئے نئی بستیاں تعمیر کرنے کے بارے میں صدر اوبامہ کا کہنا ہے کہ اپنے پیشرؤوں کی طرح وہ بھی اِن بستیوں کو امن کے حق میں مناسب نہیں سمجھتے۔ اخبار کہتا ہے کہ اُن کے کہنے کا یہ مطلب تھا کہ بستیوں کی تعمیر پر ایک اور روک لگانے سے اصل مسائیل پر مذاکرات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

’یو ایس اے ٹوڈے‘ میں جیمز رابنز ایک کالم میں رقمطراز ہیں کہ جارج بُش کی صدارت کے آخری ایام کے مقابلے میں اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی مقبولیت کم ہے۔ اور صدر اوبامہ کا اسرائیل کا پہلا دورہ مشرق وسطیٰ میں اس کُرّہ ارض کو ہلا دینے والی تبدیلیوں کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔

عرب انقلاب سے جو امیدیں وابستہ کی جارہی تھیں، انہوں نے اب اسلام پسندوں کے آمرانہ راج کی راہ اختیار کر لی ہے، شام میں دسیوں ہزاروں لوگ تلخ خانہ جنگی کی بھینٹ چڑھ چُکے ہیں اور وہاں شائد جراثیمی ہتھیار بھی استعمال ہو چُکے ہیں، ایران، بین الاقوامی مذمّت سے لاپرواہ ہو کر، جوہری صلاحیت حاصل کرنےکی طرف گامزن ہے۔ اور مسٹر اوبامہ کی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین قیام امن کی کوششیں کہیں نہیں جا رہیں اسی لئے وہائٹ ہاؤس نے اسرائیل کے دورے سے بُہت کم توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ اور اس دورے کو سُننے کا دورہ قرار دیا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی اطلاع کے مطابق افغانستان کے جنوبی گاؤں پیشین گاں سیّداں میں پچھلے ماہ طالبان کے خلاف جو بغاوت شروع ہوئی تھی، وُہ اب درجنوں دوسرے دیہات میں پھیل گئی ہے۔ اور افغان اور امریکی عہدہ دار اس کو حالیہ برسوں میں اسلامی انتہا پسند باغیوں کے خلاف نہائت اہم تبدیلی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اخبار کہتا ہےکہ جب قندھار شہر کے جنوب مغرب میں واقع انگوروں اور دوسرے پھلوں کے باغات سے بھرے اس علاقے کے دیہاتیوں نے فروری میں طالبان کو وہاں سے نکال باہر کرنے میں پولیس کے اہل کاروں کا ساتھ دینا شرووع کیا سینکڑوں دیہاتیوں نے حکومت کی حمائت میں مظاہرے کئے ہیں۔

پیر کو لڑائی کے موسم کے آغاز پر ایک پبلک جلسے میں لگ بھگ ایک سو قبائیلی بزرگوں نے عہد کیا کہ وُہ طالبان کو اپنے علاقے میں نہیں آنے دیں گے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مکانوں کی چھتوں پر افغان قومی پرچم لہرا رہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پچھلے اٹھارہ ماہ کے دوران افغانستان کے مُختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف بغاوت کی اطلّاعات آئی ہیں۔ لیکن، پنج وائی کی بغاوت کو اس اعتبار سے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جنوبی افغانستان میں پہلی بغاوت ہہے جہاں امریکی اور نیٹو فوجوں کی متعدد فوجی کاروائیوں کے باوجود طالبان کا اثرو نفوذ برقرار تھا۔

اخبار کہتا کہ ابھی کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ اس ضلعے سے طالبان کی لڑائی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا گیا ہے۔ اور طالبان نے علاقے میں واپس آنے کی دہمکی دے رکھی ہے۔ پنج وال کی بغاوت نے ایک مثال قائم کردی ہے کہ جنگجؤوں کی زور زبردستی کے خلاف جب لوگوں کی نفرت بڑھ جائے تو حکومت کی قابل اعتبار حمائت کی مدد سے کیا کُچھ کیا جا سکتا ہے۔

اخبار نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس میں شُبہ نہیں کہ دیہاتیوں کے غصّے کی وجہ طالبان کا جورو ستم تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس خطے میں افغان سیکیورٹی فوجوں اور خاص طور پر سرگرم پولیس فورس کی بڑھتی ہوئی طاقت کا بھی اس میں ہاتھ رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG