رسائی کے لنکس

مسٹر اوبامہ کے مشیر بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے تنازعوں کو ہمیشہ سفارت کاری سے حل کرنے کو ترجیح دی ہے، جب کہ ایران اور شام کے خلاف انہوں نے اقتصادی تعزیرات اور فوجی کاروائی کی دہمکی سے کام لیا ہے

اقوام متحدہ کے رواں سال کے اجلاس پر اخبار ’بوسٹن ہیرلڈ‘ میں ایسو سی آیٹد پریس کا ایک تجزیہ چھپا ہے جس کے مطابق، صدر براک اوبامہ جب اپنی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کریں گے، تو تین ایسے پرانے متنازع امور ہیں جِن میں سفارتی پیش رفت کے امکانات موجو د ہیں۔ ایک تو ایران کا جوہری پروگرام، دوسرے شام کے کیمیائی ہتھیار اور تیسرے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مشکل الحصول امن۔

تینوں امور میں خاصی دشواریاں ہیں، اور ان میں پیش قدمی کا انحصار ایسے ملکوں پر ہے جو اکثر بے اعتبار ثابت ہوئے ہیں۔ اس تجزئے کے مطابق، اگر یہ مساعی ناکام ہوئیں، تو مسٹر اوبامہ پر سادہ لوحی کا الزام لگ سکتا ہے ، خاص طور پر شام کے معاملے میں جہاں اُنہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کی حملے کی پاداش میں فوجی کاروائی کے بدلے سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔

اِس کےباوجود، حالیہ واقعات کے بعد تینوں امور میں، جو اقوام متحدہ میں عرصہٴدراز سے ایک مسئلہ بنے ہوئے ہیں، اہم تبدیلی رونما ہوئی ہے، ایران کے سابق صدر احمدی نژاد نے جنرل اسمبلی کے سلالانہ اجلاسوں کو امریکہ کے خلاف دُھواں دار تقریروں کے لئے استعمال کرنے کا وطیرہ اپنایا ہوا تھا۔ امن مذاکرات کی بار بار کی ناکامیوں نےفلسطینیوں کو امریکی اعتراضات کے باوجود اقوام متحدہ سے اپنی مملکت کو تسلیم کرانے کی کوشش پر مجبور کیا تھا، جب کہ شام کے معاملے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اوبامہ انتظامیہ روس کی سخت مخالفت کی وجہ سے کُچھ کر نہ سکا ہے۔

لیکن، اخبار کہتا ہے کہ اِس سال ایران کے نئے لیڈر حسن روحانی نے مسٹر اوبامہ کو دوستانہ اشارے دئے ہیں جن سے دونوں کے مابین اقوام متحدہ میں ملاقات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اُدھر امریکی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطینی مذاکرات پھر شروع ہو گئے ہیں، اگرچہ ان کا رُخ ابھی بھی غیر یقینی ہے۔ اور شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے محروم کرنے کی کوشش میں روس امریکہ کے ساتھ مل گیا ہے۔

پیش رفت کے جو یہ آثار پیدا ہوئے ہیں، مسٹر اوبامہ کے مشیر اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے تنازعوں کو ہمیشہ سفارت کاری سے حل کرنے کو ترجیح دی ہے، جب کہ ایران اور شام کے خلاف انہوں نے اقتصادی تعزیرات اور فوجی کاروائی کی دہمکی سے کام لیا۔

یہ تنازعے اقوام متحدہ میں مسٹر اوبامہ کی عالمی لیڈروں سے ملاقاتوں میں زیر بحث آئیں گے، جن میں فلسطینی صدر محمود عبّاس اور لبنانی صدر مائیکل سلیمان شامل ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ لوگوں کی سب سے زیادہ نظر اس پر ہے کہ آیا ان کی ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ 30 سال میں امریکی اور ایرانی لیڈروں کے مابین پہلی ملاقات ہوگی جس میں ہاتھ ملانے سے زیادہ مشکل کام یہ ہوگا کہ یورینیم کو افزودہ کرنے کے ایرانی پروگرام پر موجود اختلافات کو کیونکر دور کیا جائے۔

کینیا کے ایک مال میں صومالیہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگوں کے قتل عام پر ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ باوجودیکہ الشباب نامی خونیں تحریک کا اپنے ملک صومالیہ میں اثرو نفوذ گرتا جا رہا ہے، اور اُس کے زیر قبضہ علاقہ بھی اُس کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔

اس اختتام ہفتہ، اس کمزور ہوتی ہوئی تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ اُس کی دہشت گردانہ صلاحیت پہلے کی طرح خطرناک ہے۔

اخبار نے ایک امریکی عہدہ دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ باوجودیکہ افریقی یونین اور کینیا کی فوجوں کے ہاتھوں حالیہ برسوں میں الشباب کو اپنے ملک میں نقصان ہوا ہے، اُس نے کینیا کے اندر اتنا زبردست حملہ کیا ہے۔ الشباب کی صلاحیتوں کے پیچھے یمن اور شمالی افریقہ میں دوسری دہشت گرد تنظیمو ں کے ساتھ اُس کا گٹھ جوڑ ہے، جن میں القاعدہ اور نائجیریا کا بوکو حرام ادارہ شامل ہیں، جہاں سے اُنہیں تربیت اور مالی امداد ملتی ہے۔ اور جنہیں اب وہ کینیا والوں کی اپنی سرزمیں پر اُن سے انتقام لینے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ کینیا کے اندر الشباب کے حامیوں نےاہنے سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لئے ایک وسیع اور پیچیدہ مالی نظام قائم کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق کینیا میں صومالی النسل لوگوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ لیکن، پچھلے چار سال ایک تو ان کی اپنی تعداد بڑھ گئی ہے اور دوسرے انہوں نے کینیا کے غیر صومالی باشندوں میں اپنا اثرو نفوذ بہت بڑھا لیا ہے۔

الشباب کا دعویٰ ہے کہ نیروبی کے مال پر جن صومالیوں نے حملہ کیا تھا اُن میں سے متعدد امریکہ میں رہ چکے ہیں۔ امریکی کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن پیٹر کنگ کہتے ہیں کہ تشویش کے بات یہ ہے کہ اگر ان میں سے کوئی واپس امریکہ آگیا تو وہ اپنی اِن صلاحیتوں کو امریکہ میں آزمانا چاہے گا۔ چنانچہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افریقہ کے میدان جنگ کو پہلے سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔

اوبامہ انتظامیہ نے بجلی گھروں سے کاربن ڈائکسائڈ کے اخراج کی مقدار پر قید لگانے کی جو تجویز رکھی ہے اس پر یہی اخبار ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر صدر نے جون میں اس اخراج کی حد مقرر کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، یہ اس کی پہلی کڑی ہے۔ اور اخبار نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر اوبامہ کی تعریف کی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنے اختیارات کا استعمال کر تے ہوئے کانگریس کو نظر اندز کر رہے ہیں۔ جس کو، بقول اخبار کے، بڑھتی ہوئی عالمی درجہ حرارت سے نمٹنے میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اگرچہ اس نئی حد کا اطلاق صرف نئے بجلی گھروں پر ہوگا، طویل وقتی نقطہٴ نگاہ سے کاربن ڈائیکسائڈ کے اخراج پر اس کا اثر اہم ہوگا۔
XS
SM
MD
LG