رسائی کے لنکس

امریکہ بار بار پاکستان کو خبردار کرتا آیا ہےکہ گیس پائپ لائن کے اس منصوبے کی وجہ سے اُس پر امریکہ کی طرف سے پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں: لاس اینجلس ٹائمز

پاکستان نے ایران سے گیس کی درآمد کا جو حتمی فیصلہ کیا ہے اُس پر ’لاس اینجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کی طرف سے اس سنگین انتباہ کے باوجود کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے یہ فیصلہ نہ بدلا تو اس کے خلاف تعزیرات لگائی جاسکتی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر پر 20سال سے مذاکرات ہوئے تھے۔

پاکستان نے اپنے وسائل سے گیس کی محض 30فی صد ضرورت کو پورا کرتا ہے، جب کہ ایران کے پاس دنیا میں گیس کا دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ پاکستان کے بہت سے کارخانے اور بہت سی گاڑیاں گیس سے چلتی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ بار بار پاکستان کو خبردار کرتا آیا ہے کہ گیس پائپ لائن کے اس منصوبے کی وجہ سے اُس پر امریکہ کی طرف سے پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

امریکی قانون کا مقصد تہران کی اُن کوششوں کو روکنا ہےجو وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے کررہا ہے۔ چناچہ، امریکی قانون کے تحت ہر اُس ادارے یا ملک کے خلاف تعزیرات نافذ کی جاسکتی ہیں جو تہران کے ساتھ تجارتی سرگرمی میں ملوث پایا گیا یا توانائی کے شعبے میں کاروبار کرتا ہوا پایا گیا۔

ویسے ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش سے انکار آیا ہے اور اُس کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام خالصتاً پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

پاکستان کے سرکاری ترجمان نےایران کے ساتھ اس اس لین دین کو پاکستان کی معاشی ضرورت قرار دیتے ہوئے یہ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ سمیت اُس کے تمام دوست ملک اس کے ساتھ مفاہمت کا مظاہرہ کریں گے۔

’لاس اینجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس منصوبے کے اپنے حصے کی تعمیر کی لاگت کہاں سے ادا کرے گا، جس پر مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ اس میں سے ایران نے 50کروڑ ڈالر قرض دینے کا وعدہ کیا ہے اور یہ واضھ نہیں ہے کہ باقی کا ایک ارب ڈالر کا سرمایہ کہاں سے آئے گا۔

اخبار کا خیال ہے کہ پاکستان بجلی کے بلوں میں سرچارج لگا کر یہ سرمایہ اکٹھا کر سکتا ہے۔ لیکن، مشکل یہ ہے کہ بجلی کے بہت سے صارفین بِل ہی ادا نہیں کرتے اور توانائی کی کمپنیوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ بِل نہ دینے والوں کو کس طرح قابو کیا جائے۔

اخبار نے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کےاس بیان کی طرف توجہ دلائی ہے کہ امریکہ باور کرتا ہے کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا طویل وقتی حل موجود ہے اور امریکہ پاکستان کے توانائی کے بحران سے نمٹنے میں اس کی امداد کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا اور پاکستان کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ ایسی سرگرمی سے احتراز کرے جس کے نتیجے میں اس پر تعزیرات لگیں۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق، صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے میں ابھی ایک اور سال لگ جائے گا۔

صدر اوباما نے اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کے دورہ پر روانہ ہونے سے قبل ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بیان دیا۔

اور اخبار کا خیال ہے کہ ایرانی جوہری استعداد سے متعلق مسٹر اوباما کا یہ تخمینہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ وجہ نزاع بن سکتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ ایران اس کے کہیں جلد بم بناسکے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوباما کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف حفظ ما تقدم کے طور پر حملے کے بارے میں توقعات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے قریب ترین اتحادی کی یقین دہانی بھی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پہلا موقع ہے کہ صدر اوباما نے اعلانیہ طور پر وقت کی نشاندہی کی ہے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ صدر اوباما کے اس بیان میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تخمینے کی عکاسی ہوتی ہے کہ تہران نے ابھی بم بنانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور یہ کہ ایران کے مذہبی حکمرانوں کو ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگے گا کہ بم بنایا جائے یا نہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اسرائیل اور مغربی کنارے کے دورے میں ایران واحد زیر بحث موضوع نہیں ہوگا۔

اسرائیلی فلسطینی امن کا عمل اس اس وقت تعطل کا شکار ہے اور اخبار کا خیال ہے کہ اس موضوع کا سرکاری ملاقاتوں سے زیادہ پبلک جلسوں میں تذکرہ ہوگا اور وہائٹ ہاؤس کے عہدہ داروں نے وضاحت کردی ہے کہ مسٹر اوباما نہ تو امن کی کوئی نئی تجویز لے کر جار رہے ہیں اور ناہی وہ دونوں طرف کے ان پرانے حریفوں کو مذاکرات کی میز پر جانے پر مجبور کریں گے۔

اس دوران، امریکی دفاعی ماہرین منگل کے روز دیکھ بھال کرنے والے امریکی طیارے اور ایرانی فوج کے مابین محاذآرائی کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔ ایران نے کئی امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اخبار نے ایک سینئر بحری تجزیہ کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرون طیارے چوری چھپے نہیں اُڑاتے اور یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ وہ پرواز کر رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG