رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: پاکستانی سیاست، دعوے اور حقیقت


پرویز مشرف

پرویز مشرف

’پاکستان کو عسکریت پسندوں کے تشدد اور ایک تباہ حال معیشت جیسے گھمبیر چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اور اگر اسے کسی کی ضرُورت نہیں ہے تو وُہ جنرل مُشرف ہیں، جن کی ترجیح جمہوریت نہیں بلکہ آمریت ہے‘: نیو یارک ٹائمز

’نیو یارک ٹائمز‘ کے ایڈیٹوریل بورڈ نے طویل جلاوطنی کے بعد سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرّف کی وطن واپسی پر اُن کے اس دعوے پر کہ وُہ پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں، یہ تبصرہ کیا ہے کہ، ’اگر پاکستان کو بچانے کی صلاحیت والا کوئی شخص موجود ہے تو وُہ پرویز مشرّف نہیں ہیں‘۔

اخبار نے یاد دلایا ہے کہ جنرل مشرف نے 1999ء میں فوجی انقلاب کی بدولت اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور جب اُنہیں سنہ 2008 میں صدر کے عُہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تو اُس وقت اُن پر ایک مقدّمہ قائم ہو چُکا تھا۔

’اُن کے ایک عشرے پر مُحیط اقتدار کے دوران اُن کی آمرانہ خصلتیں آشکارا ہو چُکی تھیں۔ اُنہوں نے دو مرتبہ آئین کی حکمرانی منسُوخ کی۔ سنہ 2007 میں ہنگامی حالات کا نفاذ کیا، اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف تشدّد اور کریک ڈاؤن کا بے دریغ استعمال کیا، اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور پانچ دوسرے ججوں کو اپنے عُہدوں سےہٹا دیا۔ سنہ 2008 کے انتخابات کے بعد، جن میں اُن کے سیاسی حریف برسر اقتدار آئے،وہ لندن یا دُبئی میں مقیم رہے اور جب وہ اتوار کو کراچی پہنچے، تو ان کے استقبال کے لئے محض ایک چھوٹا سا مجمع موجود تھا‘۔

اخبار کہتا ہے کہ جنرل مشرّف کو متعدّد عدالتی چیلنجوں کا سامنا ہے،جن میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور بلوچ لیڈر اکبر بُگتی کے قتل کے الزامات شامل ہیں، جن کی وُہ تردید کرتے ہیں۔ لیکن، اخبار کہتاہےکہ یہ مقدّمے چلنے چا ہیئیں ۔ ’ ہُیومن رائیٹس واچ اور دوسری سرگرم تنظیموں کو اصرار ہے کہ اپنے عہدِصدارت میں جنرل مشرّف نے حقوق انسانی کی جو پامالی کی ہے اس کے لئے اُن کا احتساب ہونا چاہئیے‘۔

جنرل مشرّف کے جانشین اور بے نظیر بُھٹو کے شوہر، صدر آصف علی زرداری کے بار ے میں اخبار کہتا ہے کہ باوجودیکہ کرپشن اور انتظامی امُور کے معاملے میں مسٹر زرداری اور اُن کی پاکستان پیپلز پارٹی کا ریکارڈ بُہت داغدار ہے، پانچ سال مدت پوری ہونے پر اُن کے اقتدار سے الگ ہونے اور11مئی کو نئے انتخابات کے لئے راستہ ہموار کرنے کا قدم مُستحسن ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستان کو عسکریت پسندوں کے تشدد اور ایک تباہ حال معیشت جیسے گھمبیر چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ اور اگر اسے کسی کی ضرُورت نہیں ہے تو وُہ جنرل مُشرف ہیں ، جن کی ترجیح جمہوریت نہیں بلکہ آمریت ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر زرداری کی میعاد صدارت ستمبر میں ختم ہورہی ہے اوراگر اُن کی پیپلز پارٹی کی انتخابات میں کارکردگی اچھی رہی تو اس سے اُنہیں دوبارہ صدر منتخب ہونے میں مدد ملے گی۔

’کرسچن سائینس مانٹر‘ نے مسٹر زرداری کواس بات کا کریڈٹ دیا ہے کہ اُنھوں نےمتحارب پارٹیوں پر مشتمل مخلوط حکومت کو برقرار رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس کے ارکان ہر چند ماہ بعد حکومت سے علیٰحدہ ہونے کی دہمکی دیا کرتے تھے۔ اُنہوں نے امریکہ کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلّقات امریکہ کے خلاف لوگوں کے بڑھتے ہوئے جذبات کے دوران ایک توازُن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کا کہنا ہے کہ ایک سویلین حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا اور امکانی طور پر حزب اختلاف کو اقتدار کی منتقلی پاکستان میں جمہوریت کو تقویت پہنچانے کا باعث بنیں گے۔
XS
SM
MD
LG