رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی کے جو اشتہار اور پلیکارڈ نظر آتے ہیں اُن میں قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے لڑنے والے امّید وار بے نظیر بُھٹو کی تصویر کو سب سے اعلیٰ پوزیشن دیتے ہیں، جو عام حالات میں دوسری پارٹیوں کے اشتہاروں میں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے زندہ امیدوار وں کے لئے مخصوص ہوتی ہے: اخباری رپورٹس

پاکستان کی رواں انتخابی مہم پر ’واشنگٹن پوسٹ‘ اخبار کہتا ہے کہ اُس ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کی سب سے زیادہ ہردلعزیز سیاست دان کے لئے مئی کے انتخابات کے لئے ہونے والے جلسے جلوسوں اور مباحثوں میں شرکت کرنا ممکن نہیں ہوگا، جس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کا انتقال ہو چُکا ہے۔

لیکن، اِس کے باوجود، اخبار کہتا ہے، بے نظیر بُھٹو، جن کا پانچ سال سے زیادہ سے عرصے سے انتقال ہو چکا ہے، ابھی بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی پہچان ہیں۔ پارٹی کو پانچ سال کے اقتدار کے بعد وسیع پیمانے پر ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔

اِس پارٹی کے اشتہاروں میں اور اُس کے بینروں پر اُسی خاتون کا چہرہ سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں پارٹی کے جو اشتہار اور پلیکارڈ نظر آتے ہیں اُن میں قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے لڑنے والے امّید وار بے نظیر بُھٹو کی تصویر کو سب سے اعلیٰ پوزیشن دیتے ہیں، جو عام حالات میں دوسری پارٹیوں کے اشتہاروں میں وزیر اعظم کے عہدے کے لئے زندہ امید وار وں کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے اشتہاروں اور کتابچوں میں اُن کے والد ذوالفقار علی بُھٹو کی یاد کو بھی تازہ کیا جاتا ہے، جنہوں نے اس پارٹی کی داغ بیل ڈالی تھی اور جو بعد میں وزیر اعظم اور صدر کے عہدوں پر فائز رہے۔ اور جب دونوں مرحوم لیڈروں کا نام تقریروں یا تحریروں میں آتا ہے تو دونوں کے ساتھ شہید کے لقب کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کو 1977ء میں اقتدار سے ہٹانے کے دو سال بعد تختہٴ دار پر لٹکایا گیا تھا۔ آج اُن کی قدّآدم شبیہوں کا انتخابات کےاس موسم میں خوب مظاہرہ کیا جارہا ہے ، جو اس سوشلسٹ اصلاح پسند لیڈر کے ترکے کی براہ راست تصویری اپیل کا کام کرتی ہے۔

عثمان خالد پاکستانی فوج کے ایک سابق برگیڈئر جنرل ہیں جنہوں نے بُھٹّو کی پھانسی کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا۔ اُنہوں نے اخبار کو بتایا کہ آپ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ بھٹّو نے میرے لئے جو کُچھ کیا اُس کے لئے میں اُن کی قبر کو بھی ووٹ دوں گا۔ اور جیسا کہ پیپلز پارٹی کا نعرہ ہے، بُھٹّو آج بھی زندہ ہے، بُھٹّو کل بھی زندہ ہوگا۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے اخبار کی اس خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ سی آئی اے دس سال سال تک نقدی سے بھرے ہوئے تھیلے اُن کے دفتر میں پھینکتی آئی ہے اور کہا ہے کہ اس پیسے کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا اور اُنہوں نے ان ادائگیوں کے لئے امریکہ کا شُکریہ ادا کیا۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر کرزئی نے سی آئی اے کی طرف سے اس طرح ملنے والی رقم کو چھوٹی سی رقم قرار دیا۔ اگرچہ اُنہوں نے اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔ لیکن افغان صدر کے سابقہ اور موجودہ مشیروں نے کہا ہے کہ پچھلے ایک عشرے کے دوران سی آئی اے نے جتنی نقدی فراہم کی ہے اُس کی مجموعی مالیت کروڑوں ڈالر بنتی ہے ،اور یہ نقدی جنگی سرداروں ، قانون سازوں اور اُن لوگوں میں بانٹی گئی جن پر مسٹر کرزئی انحصار کر تے رہے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ اس طرح پیسے کے استعمال کو امریکی حکومت کے تمام شعبوں میں پسند نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں نے سی آئی اے کی طرف سے إ ن نقد ادائگیوں پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ،جن کی وجہ سے بعض لوگوں کے خیال میں کرپشن پھیلی۔ اُنہوں نے یہ بات رازداری میں کی کیونکہ سی آئی اے کا یہ قدم کلاسی فائڈ یا خُفیہ کے زُمرے میں آتا ہے، جب کہ کئی دوسروں نے کُھل کر بات کی۔ یُوٹاہ کے ری پبلکن رکن کانگریس مین جے سن چےفیز نے ، جو افغانستان کی جنگ کے خلاف ہیں، کہاہے کہ اُنہیں پہلے ہی سے اس کا شُبہ تھا، لیکن صدر کرزئی کی طرف سے اس کے کھلم کھلا اعتراف نے ہمیں ایک انوکھی دُنیا میں پہنچا دیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر کرزئی کے اس اعتراف کی ،جو انہوں نے ہیلسنکی کے دورے میں کیا ہے، اور بھی مثالیں ہیں۔ سنہ 2010 میں مسٹر کرزئی کا ایک اعلیٰ مشیر ایران سے نقدی سے بھرے ہوئے تھیلے وصول کر رہا تھا۔تو مسٹر کرزئی نے ان خبروں کی تصدیق کی تھی اور ایران کا شکریہ ادا کیا تھا۔ ایران نے پچھلے سال یہ ادائیگیاں بند کی تھیں جب مسٹر کرزئی نے ایران کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔
XS
SM
MD
LG