رسائی کے لنکس

اخبار کہتا ہے کہ مذاکرات کے بارے میں وہائٹ ہاؤس اور محکمہٴ خارجہ کی پوزیشن کی وضاحت دو ہفتے قبل قومی سلامتی کے ایک اجلاس میں کی گئی تھی، جس میں طالبان کے ساتھ قیدیوں کا تبا دلہ شامل ہے

’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ ہے کہ صدارتی انتخابات ختم ہونے کے ساتھ ہی اوبامہ انتظامیہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر توجّہ مرکوز کئے ہوئے ہے، باوجودیکہ امریکی فوج کی طرف سے، بقول اخبار کے، اسے مزاحمت کا سامنا ہے۔ پاکستان کی طرف سے ملےجُلے اشارے مل رہے ہیں، جب کہ امریکی عہدہ داروں کے بقول خود عسکریت پسند اس کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ مذاکرات کے بارے میں وہائٹ ہاؤس اور محکمہٴ خارجہ کی پوزیشن کی وضاحت دو ہفتے قبل قومی سلامتی کے ایک اجلاس میں کی گئی تھی، جس میں طالبان کے ساتھ قیدیوں کا تبا دلہ شامل ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہی پیغام روز وزیر خارجہ ہلری راڈہم کلنٹن نے پیر کے روز برسلز میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کو ایک میٹنگ کے دوران پہنچایا تھا اور پاکستان سے اپیل کی تھی کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ایک علیٰحدہ کوشش میں تعاون کرے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سال پاکستان کے ساتھ تعلّقات میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے، جس کا نقطہٴعروج پاکستان کے راستے افغانستان میں امریکی فوجوں کے لئے سامان رسد کی بحالی پر معاہدہ تھا۔ دونوں فریقوں نےانسداد دہشت گردی میں بڑھتے ہوئے تعاو ن پر زور دیا ہے، اگرچہ امریکہ نےپاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے بند کرنے کے مطالبے کو نظر انداز کیا ہے۔

اخبار کے بقول افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈ ہیڈکوارز کے بُہت سے ارکان کو اس میں شُبہ ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ اپنے تعلّقات کو جنگ کے ایک سیاسی حل کے لئے برُوئے کار لائے گا، اسی لئے انہیں افغانستان میں فوجوں کی واپسی یا سنہ 2014 کے بعد وہاں کُچھ فوج پیچھے چھوڑنے کی منصوبہ بندی کرنے میں پاکستان کو شامل کرنے میں تامّل ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اس بارے میں غیر مربوط اشارے مل رہے ہیں کہ امن مذاکرات کے بارے میں یہ انتظامیہ کتنی سنجیدہ ہے یا طویل وقتی نقطہٴ نظر سے افغانستان میں دس ہزار کی حد تک فوج موجود رہے گی۔

اخبار کہتاہے کہ انتظامیہ نے افغان صدر حامدکرزئی کی ان کوششوں کو سراہا ہےجن کا مقصدطالبان کے ساتھ امن کا سمجھوتہ ہے، چاہے اس کے لئے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مکالمہ کرنا پڑے۔ پاکستان عرصے تک کرزئی کی مقرر کردہ امن کونسل کو دھتکارتا رہا ہے، لیکن پچھلے مہینے اس نے اس کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربّانی کی اسلام آباد میں آؤبھگت کی اور کم از کم بارہ طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا۔

اخبار کہتا ہے کہ ایک مشکل یہ رہی ہے کہ طالبان لیڈر بار بار کرزئی سےبات چیت کرنے سے انکار کرتے آئے ہیں، کیونکہ انہیں اصرا ر ہے کہ وہ امریکہ کے پٹھو ہیں اور یہ کہ وہ صرف واشنگٹن سے بات کریں گے۔

کیا شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والی ہے؟ ’ لاس انجلس ٹائمز ‘ نے ایک سینئر امریکی عہدہ دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایسی انٹلی جنس رپورٹیں ملی ہیں کہ شام کی فوج باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے اور یہ فوج بعض ایسے اقدام کر رہی ہے جن سے ایسا لگ رہا ہے کہ ان ہتھیاروں کا استعمال ہونے والا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ شام کے بارےمیں معلوم ہے کہ اُس کے پاس ’ مسٹرڈ گیس‘ اور ’اعصابی گیس ‘ کے ذخیرے موجود ہیں اور امریکی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی سیارچوں اور دیکھ بھال کے دوسرے آلات کی مدد سے ان ذخیروں پر نظر رکھی جا رہی ہے کہ کہیں یہ زہریلے ہتھیار بنکروں سے نہ نکالے جائیں۔ اخبار کہتا ہے کہ چونکہ شامی فوج باغیوں کی پیشقدمی کو روکنے میں ناکام رہی ہے ، اس لئے ان خوفناک ہتھیاروں کو اُن کے خلاف استعمال کرنے کی سوچ رہی ہوگی۔

پیر کو پراگ کے دورے کے بعد وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے جو انتباہ کیا تھا اُس کا اعادہ کرتے ہوئے وہائٹ ہاؤس نے واضح کردیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک ریڈ لائن ہوگی جس کے بعد واشنگٹن کی طرف سے جوابی کاروائی ہو سکتی ہے۔ پیر ہی کے روز صدر اوبامہ نے ایک تقریر کے دوران کہا تھا : ’ میں اسد اور اُن کی کمان کے تحت کام کرنے والوں کو یہ بات ذہن نشیں کرا دینا چاہتا ہوں کہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قطعی طور پر ناقابل قبو ل ہے اور نا قابل قبول ہوگا۔ اور اگر آپ نے اُنہیں استعمال کرنے کی افسوس ناک حماقت کی تو اس کے نتائج ہونگے ۔اور آپ کا احتساب کیا جائے گا۔ہم بیسویں صدی کے بد ترین ہتھیاوروں کے استعمال سے اکیسویں صدی کو تاریک بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

اخبار’ فنانشل ٹائمز‘ میں سابق وزیر محنت اور ممتاز ماہر معاشیات رابرٹ رائش نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کو درپیش مالی مشکل سے بچنے کے لے اخراجات میں تخفیف کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا تو اس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب ترین لوگوں کو بھگتنا پڑے گا۔ارکان کانگریس اور وہائٹ ہاؤس کے مابین اس مشکل سے بچنے کے لئے بات چیت جاری ہے تاکہ اس سال کے خاتمے تک ٹیکسوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی کرنےپر سمجھوتہ ہو جائے۔ کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ آفیس نے خبر دار کیا ہے کہ اگر سمجھوتہ نہ ہو سکا تو ملک دوبارہ کساد بازاری کا شکار ہو جائے گا۔

رابرٹ رائش کہتے ہیں کہ سمجھوتے کی صورت ٹیکسوں اور اخراجات میں اصلاح کرنے سے ممکن ہوگی۔ لیکن، اگر اخراجات کم کرنے پر زیادہ زور دیا گیا تو اقتصادی نمو سُست پڑ جائے گی اور سستے داموں چیزیں فروخت کرنے والے سٹوروں اور ریستورانوں میں کم تنخواہ پانے والے ملازموں کو نقصان پہنچے گا، جس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کے اخراجات میں تخفیف کرنے سے مجموعی مانگ میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نزلہ کم تنخواہ والوں پر گرتا ہے۔

اُدھر ایک سینسس رپورٹ کے مطابق پہلے کے مقابلے میں زیادہ امریکی گھرانے آج کل خوراک کے لئے سرکاری امداد پر تکیہ کئے ہوئے ہیں ، اور سنہ 2011سے تیرہ فی صد امریکی گھرانوں کو کسی نہ کسی وقت فُوڈ سٹیمپس یا غذائی امداد ملتی رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG