رسائی کے لنکس

اخباری رپورٹ کے مطابق، کُنڑ کے ایک مقامی ملّا نے حال ہی میں فتویٰ دیا ہے کہ افغان شہریوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وُہ افغان فوجیوں اور پولیس والوں پر حملے کریں، کیونکہ، وُہ کافر ہیں

’انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیوں‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی فوج اپنے آپ کو سنہ 2014 میں غیر ملکی فوجوں کے ملک سے انخلا ٴکے بعد کے حالات سے نمٹنے کے لئے کس طرح تیار کر رہی ہے۔

اخبار میں فوج کی ایک برگیڈ کی مثال دی گئی ہےجو کُنّڑ کے فساد زدہ صُوبے کے گشت پر ہے اور جہاں کے ایک مقامی ملّا نے حال ہی میں فتویٰ دیا ہے کہ افغان شہریوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وُہ افغان فوجیوں اور پولیس والوں پر حملے کریں، کیونکہ وُہ کافر ہیں۔

اِس برگیڈ کا کمانڈر ایک سکول کی عمارت میں جمع قبائیل سے سلام دُعا کے بعد مخاطب ہو کر کہتا ہے: ’آؤ، فیصلہ کریں کہ باغیوں کے برعکس ہم فوجی کیا کرتے ہیں۔ ہم امن کے خواہاں ہیں۔ ہم پُختہ سڑکیں اور بجلی چاہتے ہیں۔ لیکن، اس کے برعکس، باغی کیا کرتے ہیں ۔ وُہ سڑکیں برباد کرتے ہیں ، اور سکول تباہ کرتے ہیں۔ اور ہماری مسجدوں میں آکر خود کشی کرتے ہیں۔ اب آپ خود ہی انصاف کریں کہ مسلمان کون ہے‘۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ برگیڈ کمانڈر طالبان کے خلاف ایک متوازی جنگ، یعنی پروپیگنڈہ کی جنگ لڑ رہاہے۔اور اُسے اُمید ہے کہ وہ یہ حقیقت اُجاگر کرکے، اسلام کے ساتھ اپنے فوجیوں کی عقیدت کا اعادہ کر کے اور اب اس سال میدان جنگ میں امریکی فوجوں کی عدم موجودگی کی طرف توجّہ دلا کر یہ امید کر سکتا ہے کہ اس طرح عوام میں باغیوں کی مقبولیت ختم ہو جائے گی۔

لیکن، اخبار کی نظر میں یہ مقصد خاصہ بلند بانگ ہے، کیونکہ افغان فوج کے بارے میں ابھی بھی شکوک و شبہات ہیں، جو طالبان کی معزولی کے بعد کے ابتدائی برسوں کے دوران، نظم و ضبط سے عاری، نشہ اور چوری کرنے والے رنگروٹوں سے ترتیب دی گئی تھی۔ اگرچہ، بُہت سے افغاوں کو اعتراف ہے کہ اِس معاملے میں پہلے سے بہت بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ لیکن، ابھی بھی شکوک و شبہات موجود ہیں کہ اِس فوج میں اپنے بل بوتے پر ملک کو محفوظ بنانے کی استعداد ہے۔ جب کہ خود مغربی فوجیں پچھلے ایک عشرے کے دوران بغاوت کو فرو کرنے میں ناکام ہو چُکی ہیں۔

چنانچہ، اخبار کے خیال میں، افغان کمانڈروں کے لئے مقامی لیڈروں کا اعتماد حاصل کرنا ایک مسلسل چیلنج بنا رہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکی فوجوں کےمقابلے میں افغان فوج کو دیہات کے لوگوں کے ساتھ اُن کی مشترک قدروں میں زباں، تمدّن، رسم و رواج اور سب سے اہم بات مذہب ہے۔

چنانچہ، پُورے ملک میں افغان فوجی یہی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، اور اِس مقصد سے اُنہوں نے مذہبی اور تمدّنی امور سے متعلق افسر بھی مقرر کر رکھے ہیں۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں تشدّد کے واقعات کو ختم کرنے کی جو جدوجہد جاری ہے، اُس کو اندر ہی دھچکے لگ رہے ہیں، جیسا کہ پولیس کے اپنے ہی ایک اہل کار کی گرفتاری سے ظاہر ہے۔ شو کمہار شرما نامی اس پولیس اہل کار کو ٹھٹھری میں اس لئے گرفتار کیا گیا، کیونکہ اُس نےگرینیڈ حملہ کرنے کی ایک ناکام کوشش کرائی تھی ،جس کا مقصد متعدد پولیس افسروں کے بقول، یہ تھا کہ علاقے میں تشدد کا سماں جاری رکھ کر تشویش پھیلائی جائے اور اس کو انسپکٹر کی اسامی پرترقی حاصل کرنے میں آسانی ہو۔

اخبار کہتا ہے کہ جنگجؤوں کی سرگرمیوں میں کمی آنے کے بعد ہندوستان نے سری نگر، اور کئی بڑے قصبوں سے اپنی فوج ہٹالی تھی۔ لیکن، اُن میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعداد اب بھی موجود ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ پچھلے ہفتے قُرآن مجید کی مبیّنہ بے حرمتی کے خلاف احتجاجوں کے دوران، پولیس کے ہاتھوں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جس کے بعد، کشمیر میں مظاہرے ہوئے اور تقریباً ایک لاکھ پولیس اہل کار جنگجؤوں کو روکنے کے لئے متعیّن کئے گئے تھے۔

بھارتی کشمیر کے وزیر اعلیٰ عُمر عبداللہ نے ’نیو یارک ٹائمز‘کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ بد قسمتی یہ ہے کہ بعض حلقوں کا ذاتی مفاد اِس میں ہے کہ تشدّد کو برقرار رکھا جائے، اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا کیا کیا جائے جِن کی ترقی کا تعیّن تشدّد کی بنیاد پر ہوتا ہے ، اور جنھوں نے اِس تشدّد کے طفیل دولت کمائی ہے۔

اور فلوریڈا کی ایک جیوری کی طرف سےخود ساختہ محافظ جارج زمر مان کو 17 سالہ سیاہ فام لڑکے ٹرےوان مارٹن کو ہلاک کرنے کے واقعے میں اُس کو برّی الذّمہ قرار دینے اور عدالت کی طرف سے اُس کی مکمّل آزادی کےفیصلے کے بعد امریکہ بھر میں اِس فیصلے کے خلاف برابر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے، ’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتاہے کہ اِن مظاہروں کی قابل توجّہ بات یہ ہے کہ اِن میں کسی قسم کا تشدّد نہیں ہوا ہے اور یہ اُن لوگوں کے لئے فخر کی بات ہے جِنھوں نے اِس تحریک کی قیادت کی ہے۔

اور یہ فہرست سبرینا فُلٹن اور ٹریسی مارٹن سے شروع ہوتی ہے، جو پچھلے سال زمرمان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اس 17 سالہ سیاہ فام لڑکے کے والدین ہیں، اور اگرچہ اُنہیں یقین ہے کہ اُن کے بیٹے کو نسلی تعصُّب کی بناٴ پر نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ کہ ذاتی دفاع کا بہانہ کر کے اُس کی ہلاکت کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔

اِس کے باوجود، اُنہوں نے زمرمان کے خلاف کُھل کر مخاصمت کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ، شروع دِن سے ثابت قدمی کے ساتھ ہر قسم کے تشدّد کی مذمّت کی۔

یہی حال اُن مظاہروں کے منتظم ریورینڈ ایل شارپ ٹن کا ہے جنہوں نےپچھلے ایک سال سے مارٹن خاندان سے ہمدردی کی ہے۔ لیکن، غُصّے اور پُھوٹ کے جذبات کو اُبھارنے سے زیادہ تحمل کا سہارا لیا ہے۔
XS
SM
MD
LG