رسائی کے لنکس

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے مغربی اور افغان عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اِن خفیہ رابطوں سے مسٹر کرزئی کے ان اقدامات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، جن کا بظاہر مقصد امریکی اتّحادیوں کو ناراض کرنا ہے

’پاکستان طالبان مذاکرات میں تاخیر‘۔ اِس عنوان سے ’کرسچن سائینس مانٹر‘ ایک تجزئے میں کہتا ہے کہ اسلام آباد میں پہلا اجلاس منگل کو نہ ہو سکا، کیونکہ حکومت مزید وضاحت چاہتی ہےکہ طالبان کے مذاکراتی وفد میں کون ہیں، اور اُنہیں کیا اختیار حاصل ہے۔

ہر فریق کا مدّعا کیا ہے؟ اِس پر اخبار نے وزیر اعظم نواز شریف کا یہ بیان دُہرایا ہے کہ وُہ امن کو آخری موقع دینا چاہتے ہیں، جب کہ شدّت پسندوں کے بارے میں اخبار کا اندازہ ہے کہ وہ ایک تو اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے اور اپنے لیڈروں کے لئے آنے جانے کی آزادی۔

اخبار کہتا ہے کہ امن کی اس کوشش سے اُن مبصرین کو حیرت ہوئی ہے، جن کا خیال تھا کہ طالبان کی طرف سے دو ماہ کے خوفناک حملوں کے بعد حکومت ایک نیا فوجی آپریشن شروع کرے گی۔ لیکن، نواز شریف، جن کا انتخابی مہم کے دوران ایک وعدہ یہ تھا کہ وہ طالبان کے سے جنگ بندی چاہتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ وہ مذاکرات کو آخری موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن، یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات کس نہج پر چلیں گے اور دونوں میں سے ہر فریق کتنی رعائت دینے کے لئے تیار ہے، تاکہ اس جنگ کو بند کیا جائے، جس میں اب تک دسیوں ہزاروں شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

صدر حامد کرزئی کا طالبان کے ساتھ خفیہ رابطہ۔ اس عنوان سے ’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس خفیہ رابطے کا مقصد امریکی اور مغربی اتحادیوں سے بالا بالا، طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ طے کرنا ہے۔ اس طرح، امریکہ کے ساتھ تعلّقات جو پہلے ہی کشیدہ تھے اور خراب ہو گئے ہیں۔

اخبار نے مغربی اور افغان عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان خفیہ رابطوں سے مسٹر کرزئی کےان اقدامات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، جن کا بظاہر مقصد امریکی اتّحادیوں کو ناراض کرنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں مسٹر کرزئی نےواشنگٹن کے ساتھ سیکیورٹی کے ایک طویل وقتی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے، جن کے لئے انہوں نے خود مذکرات کئے تھے۔

اُنہوں نے اصرار کیا کہ کٹّر طالبان جنگجؤوں کو جیل سے رہا کیا جائے، اور پھر انہوں نے نام نہاد امریکی جنگی جرائم کے بارے میں مسخ کردہ شہادتوں کی تشہیر کی۔

اخبار کہتا ہے کہ واقف کار لوگ بتاتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ خفیہ رابطوں سے انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے۔ البتہ، ان کی وجہ سےامریکہ اور مسٹر کرزئی کے مابین جو تھوڑا بہت اعتماد بچ گیا تھا، اس کو سخت دھچکہ پہنچا ہے، اور افغانستان کی جنگ کا اختتام جو پہلے ہی سے پیچیدہ تھا، اور بھی زیادہ دھماکہ خیز ہو گیا ہے۔

امریکی کانگریس میں اس جنگ کے لئے جو حمائت موجود تھی، اُس میں شدید کمی آئی ہے، اور امریکی عہدہ دار کہتے ہیں کہ اب وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا کرزئی حکومت کے ساتھ یا آنے والے انتخابات کے بعد نئی حکومت کے ساتھ وُہ سیکیورٹی کے شعبے میں کم سے کم تعاون برقرار رکھ سکیں گے یا نہیں۔

اخبار یاد دلاتا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی واحد معتبر چینیل کی دریافت کا سہرا اُن امریکی اور جرمن سفارت کاروں کو جاتا ہے، جو قطر میں امن مذاکرات شروع کرانے کے لئے دو سال کوشش کرتے رہے۔ لیکن، جس کے لئے اُنہیں مسٹر کرزئی کی ناراضگی مول لینی پڑی جو سمجھتے تھے کہ انہیں بیچ میں سے نظرانداز کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے درپردہ اس کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔

اور جب طالبان کا قطر میں ایک باقاعدہ دفتر بھی کُھل گیا، تو اُنہوں نے امریکہ کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کیا اور چند روز بعد یہ دفتر بند ہو گیا، جو مسٹر کرزئی کی نظر میں امریکہ کی ایک سازش تھی، تاکہ ان کے بغیر ہی پاکستان اور طالبان کے ساتھ ایک سودا ہو جائے۔ لیکن، اسی بیچ میں، اخبار کے بقول، افغان عہدہ دار بھی ملّا عمر کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے۔ اور مسٹر کرزئی اسی گمان میں رہے کہ ان کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ لیکن، متعدد سرکردہ افغان عہدہ دار وں کا تاثُّر اس سے برعکس تھا۔ اور، کابل اور واشنگٹن میں بعض سرکردہ امریکی عہدہ داروں کا بھی یہی تاثُّر تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ مجوزہ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے، مسٹر کرزئی کے انکار سے بد دل ہو کر صدر وبامہ نے افغانستان میں امریکی مشن کے مستقبل غور کرنے کے لئے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کا ایک اجلاس طلب کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG