رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: چیف جسٹس عہدے سے سبک دوش


جسٹس افتخار محمد چودھری نے اُس اختیار کا بھی بھرپور استعمال کیا جس کے تحت عدالت ازخود نوٹس لے کر ایسے مقدّمے قائم کیے جاسکتے ہیں، جو اُن کی نظر میں واجب تھے

پاکستان کے چیف جسٹس، افتخار محمد چوہدری کے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے پر ’لاس انجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ اس متنازعہ جج کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ صدر پرویز مشرّف کو اقتدار سے ہٹانے میں اور اس کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی کا دائرہ وسیع کرنے میں اُن کا کردار تھا، اگرچہ بعض ناقدین کو اُن سے یہ شکائت رہی ہے کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز بھی کرتے رہے۔

اخبار کہتا ہے کہ 65 سالہ چیف جسٹس اپنے پیچھے ایک ملا جُلا ترکہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اُن کا یہ کارنامہ مسلّم ہے کہ اُنہوں نے عدلیہ کو مستحکم کیا اور اور اسے ایک ایسی قوّت میں بدل دیا جس کو دونوں سیاست دان اور بیوروکریٹ تسلیم کرتے ہیں۔

لیکن، اُن کی وجہ سے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو استعفیٰ دینا پڑا تھا، کیونکہ اُنہوں نے اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سپریم کورٹ کے کہنے پر کرپشن کا مقدّمہ دوبارہ شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اخبار نے سیاسی تجزیہ کار رضا رومی کے حوالے سے بتایا ہے کہ افتخار چوہدری کی وجہ سے سپریم کورٹ ضرور طاقت ور ادارہ تو بن گئی، لیکن وُہ نہ تو عدلیہ میں اہم اصلاحات کرنے اور نا ہی عرصہٴدراز کے پرانے مقدّموں کو بھگتانے میں کامیاب ہوئے۔ وُہ آئینی حکمرانی کے اصول پر ڈٹے رہے۔ لیکن، اُن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے طرز عمل کی وجہ سے پارلیمنٹ کا کردار گہنا گیا۔

اخبار کہتا ہے کہ جینیوا میں 60 ممتاز ججوں اور وکلاٴ پر مشتمل قانون دانوں کے انٹرنیشنل کمشن نے اس ماہ کہا ہے کہ افتخار چوہدری کی قیادت میں حقوق انسانی کو تقویت تو پہنچائی گئی، لیکن مقدّمات کے انتخاب میں جس عدم مطابقت سے کام لیا گیا، اس کی وجہ سے جانب دارانہ مداخلت کا الزام لگ سکتا ہے۔

اخبار نے یاد دلایا ہے کہ جنرل مشرف نے، جو فوجی بغاوت کرکے بر سر اقتدار آئے تھے، دو مرتبہ افتخار چوہدری کو چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹایا تھا۔ لیکن، دونوں بار، عام پبلک کی حمائت کے نتیجے میں بحال کر دیا تھا، خاص طور پر 1999 ءمیں قوم کی وکلاٴ کی احتجاجی تحریک کے بعد ۔

اخبار کہتا ہے کہ افتخار چوہدری کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اُنہوں نے کرپشن، غیر قانونی حراست اور حقوق انسانی جیسے امُور میں اپنے اعلیٰ عہدے کا استعمال کیا۔ لیکن، ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ سیاست کے ایسے پہلوؤں میں بھی الجھنے لگے جو عدلیہ کے اختیار سے ماورا ہیں۔

اُنہوں نے اس اختیار کا بھی بھرپور استعمال کیا جس کے تحت عدالت ازخود نوٹس لے کر ایسے مقدّمے قائم کر سکتی ہے جو اس کی نظر میں واجب ہوں۔ چنانچہ، اخبار کہتا ہے کہ اس کے نتیجے میں، حقوق انسانی سے متعلّق مقدّموں کا ڈھیر لگ گیا۔ سنہ 2004 میں اُن کا یہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے اس قسم کے مقدّموں کی تعداد 450 تھی جو سنہ 2011 میں بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

اخبار نے افتخار محمد چوہدری کی الوداعی تقریر سے یہ حوالہ خاص طور پر نقل کیا ہے جس میں انہوں نے لکھے پڑے لوگوں کے جرائم کو بدباطن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب قومی خزانے سے اربوں کھربوں روپیہ خرد برد کیا جاتا ہے، تو اس کا خمیازہ عامتہ النّاس کو بُھگتنا پڑتا ہے۔

اور، اب کُچھ ذکر جنوبی افریقہ کے عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا کا۔ اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق، ان کی میت کے دیدار کے لئے لوگ جوق در جوق آہستہ آہستہ ان کے تابوت کے سامنے سے گُذر رہے ہیں جو ملک کے دارالحکومت پری ٹوریا میں ان کی تدفین سے پہلے تین دن تک وہاں اسی بلڈنگ کے سامنے رکھا رہے گا، جہاں منڈیلا نے 19سال قبل جنوبی افریقہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اُٹھایا تھا۔ تابوت کے شیشے کے ڈھکنے سے نیلسن منڈیلا کا سر اور ان کے کاندھے نظر آرہے ہیں اور وہ ایک ہرے رنگ کی قمیض میں ملبو س ہیں۔

منڈیلا کا جسد خاکی اتوار کو وہاں سے ہٹایا جائے گا اور انہیں اُن کےآبائی گاؤں میں دفن کیا جائےگا۔
XS
SM
MD
LG