رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: دوسرا صدارتی مباحثہ

  • واشنگٹن

U.S. President Barack Obama (R) speaks as Republican presidential nominee Mitt Romney (L) listens during the second U.S. presidential debate in Hempstead, New York, October 16, 2012.

U.S. President Barack Obama (R) speaks as Republican presidential nominee Mitt Romney (L) listens during the second U.S. presidential debate in Hempstead, New York, October 16, 2012.

جہاں پہلے مباحثے میں تبصرہ نگاروں اور رائےعامہ کی نظر میں مِٹ رامنی کو فاتح قرار دیا گیا تھا، دوسرے مباحثے کے بارے میں مبصرین اور رائے عامہ کے جائزوں میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے برتری حاصل کی ہے

رواں سال کے صدارتی انتخابات کا دوسرا مباحثہ منگل کی شام کو ہوا، جو دو ہفتے قبل کے مباحثے کے مقابلے میں اِس اعتبار سے مختلف تھا کہ اِس میں صدر براک اوباما کی کارکردگی کہیں بہتر تھی اور جہاں پہلے مباحثے میں تبصرہ نگاروں اور رائےعامہ کی نظر میں مِٹ رامنی کو فاتح قرار دیا گیا تھا، دوسرے مباحثے کے بارے میں مبصرین اور رائے عامہ کے جائزوں میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے برتری حاصل کی ہے۔

’ڈیلی بیسٹ‘ کے اینڈریو سِلون کا کہنا ہے کہ اِس مباحثے میں صدر اوباما ہر اعتبار سے مِٹ رامنی پر چھائے رہے یعنی ٹھوس حقائق، انداز اور سٹائل کے اعتبار سے، اور متعدد تبصرہ نگاروں نے اِس سے اتفاق کیا ہے۔

اِسی طرح سے، ’واشنگٹن پوسٹ‘ کےتجزیہ نگار عذرا کلائین کہتے ہیں کہ پہلے مباحثے میں مِٹ رامنی کی برتری کی حد میری توقعات سے زیادہ تھی۔ لیکن، دوسرے مباحثے میں مسٹر اوباما کی کامیابی تو متوقع تھی ہی،لیکن یہ کامیابی اِس سے بھی کہیں زیادہ تھی۔

اخبار کے سیاسی نامہ نگار جیف گرین فیلڈ کہتے ہیں کہ اگر پہلے صدارتی مباحثے میں مسٹر اوباما کی کارکردگی اتنی ہی اچھی ہوتی تو اِس انتخاب کا فیصلہ جب ہی ہوگیا ہوتا۔
’فلاڈیلفیا انکوائرر‘ کہتا ہے کہ اِس مباحثے کے آغاز ہی سے صدر اوباما نےمسٹر رومنی کے کاروباری ریکارڈ کو ہدف ِ تنقید بنایا اور کہا کہ مسٹر رامنی کامنصوبہ پانچ نکاتی نہیں، بلکہ ایک نکاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ، معاشرے کے سب سے اوپری طبقے کے لیے خصوصی قوائد ہوں۔

اُنھوں نے اُن پر ایسی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے کا الزام لگایا جو روزگار غیر ممالک کو بھیجتے ہیں۔ یا پھر ایسی کارپوریشنیں حاصل کرنے کا الزام لگایا جو ہزاروں کی روزی مارتے ہیں، اُن کو پینشن سے محروم کرتی ہیں، تاکہ اپنا منافع بڑھا سکیں۔

مسٹر رامنی نے اِس کے جواب میں ، صدر اوباما پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے 2008ء میں کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کیے، خسارے کی رقم کو نصف کرنا، بیروزگاری کی شرح پانچ اعشاریہ چار فی صد تک نیچے لانا اور امی گریشن کے قانون میں اصلاح کرنا۔

مسٹر اوباما نے مِٹ رامنی کے اقتصادی منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹیکسوں کے بارے میں اُن کی پالیسی اور دفاعی اخراجات بڑھانے کے منصوبے کی وجہ سے ملک میں اسی کھرب ڈالر کا خسارہ ہوجائے گا۔

’نیو یارک ٹائمز ‘ نے دوسرے مباحثے میں صدر اوباما کی بہتر کارکردگی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے بڑے مؤثر انداز میں اِس بات کی وضاحت کردی کہ اُنھوں نے کس طرح ملک میں اقتصادی نمو کے عمل کا دوبارہ آغاز کیا۔

لیکن، اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے اگلے چار سال پہلے چار برسوں کے مقابلے میں کس طرح زیادہ کامیاب ہوں گے، خاص طور پر کانگریس میں وہ ری پبلکن پارٹی کی مخالفت پر کس طرح غلبہ پائیں گے۔

’یو ایس اے ٹوڈے ‘کہتا ہے کہ منگل کی رات کےصدارتی مباحثے پر رائےعامہ کا جو استصواب کیا گیا اس میں صدر اوباما کو مِٕٹ رامنی پر بھاری برتری حاصل ہوگئی تھی۔

رائے شماری میں شرکت کرنے والوں نے 39فی صد کے مقابلےمیں 46فی صد کے تناسب سے صدر براک اوباما کے حق میں رائے دی۔ لیکن، اِس کے ساتھ ساتھ اقتصادی امور میں اُنھوں نے 18پوائنٹوں کے فرق سے مسٹر رامنی کے حق میں فیصلہ کیا۔

غیر جانبدار ووٹروں میں جو استصواب کرایا گیا اُس میں مسٹر اوباما کی برتری اِس سے بڑھ کر تھی، یعنی 36کے مقابلے میں 58پوائنٹس کی برتری۔

اخبار کے بقول، کیلی فورنیا میں ’سروے یو ایس‘ نے اُن ووٹروں کا سروے کیا ہے جنِھوں نے اِس مباحثے کا مشاہدہ کیا تھا اور اُن کی رائے میں مسٹر اوباما نے 36فی صد کے مقابلے میں 58فی صد سے سبقت حاصل کر لی ہے۔

منگل کے مباحثے کے بارے میں ’وال سٹریٹ جرنل‘ کہتا ہے کہ یہ مباحثہ امریکی صدارتی انتخابی مہم کی تاریخ میں سب سے زیادہ جاندار مباحثہ تھا۔
XS
SM
MD
LG