رسائی کے لنکس

’صدر کے ساتھ پبلک کا ابتدائی رومانس معدوم ہو چکا ہے۔ اور دوبارہ منتخب ہونے کا جو مختْصر لمحہ اُنہیں نصیب ہوا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔اور اب ایجنڈے کا تعیّن وہائٹ ہاؤس سے نہیں بلکہ حالات سے ہوتا ہے‘: لاس انجلس ٹائمز

صدر براک اوبامہ کا عہد صدارت چھٹے سال میں داخل ہو گیا ہے، جس پر معروف تجزیہ کار، ڈائیل مک مے نس ’لاس انجلس ٹائمز‘ میں ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ جس امریکی صدر کو دُوسری میعاد صدارت نصیب ہو، تاریخ بتاتی ہے کہ اُس کا چھٹا سال خال ہی اُس کے لئے مہربان ثابت ہوتا ہے۔ صدر کے ساتھ پبلک کا ابتدائی رومانس معدوم ہو چکا ہے اور دوبارہ منتخب ہونے کا جو مختْصر لمحہ اُنہیں نصیب ہوا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔اور اب ایجنڈے کا تعیّن وہائٹ ہاؤس سے نہیں بلکہ حالات سے ہوتا ہے۔

کئی صدور، مثلاً رچرڈ نکسن، رانلڈ ریگن اور بل کلنٹن کے لئے یہ وہ وقت تھا، جب اُن کے خلاف سکینڈل پھیلے، اوبامہ کو بھی اپنی نوع کے مسائیل سے پالا پڑا ہے۔ لیکن، صحت عامّہ کی نگہداشت سے متعلّق ان کے قانون کے نفاذ کو جن دُشواریوں سے گزرنا پڑا ہے، وہ بھی اعتماد کو ڈگمگانے کے لئے کُچھ کم نہ تھیں، اور اگر ماضی سے کوئی سبق ملتا ہے، تو اغلب یہی ہے کہ اُن کے لئے حالات خراب ہونے کے بعد ہی ٹھیک ہونگے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ درمیانی مدت کے انتخابات میں برسر اقتدار صدر کی پارٹی کانگریس میں کُچھ نشستیں کھو دیتی ہے، جس سے اس کا کام اور بھی مُشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا کتنا امکان ہے کہ مسٹر اوبامہ اس رُجحان کو روکنے میں کامیاب ہونگے۔ اور وہ اپنے چھٹے سال کو کامیابی میں بدل دیں گے، جب کہ اس سال کےا ٓغاز پر اُن کی مقبولیت کا گراف راے عامہ کے ہر جائزے کی رو سے گرا ہوا ہے۔

صحت عامہ کے قانون کے نفاذ میں جو گڑبڑ ہوئی ہے اس سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے، اور یہ مسائیل آسانی سے حل نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود، کالم نگار کا خیال ہے کہ بعض ایسے عوامل ہیں، جن کی بنا پر حالات تباہ کن نہیں ہونگے۔ جیسے کہ ان کے ناقدین کو نظر آرہا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ملک کی معیشت بھاری کساد بازاری سے نکل کر بالآخر، اب دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہے۔

متعدد پیش گوئیوں کے مطابق، اس سال ملک کی شرح نمو تین فیصد رہے گی، جو ایک اچھی شرح ہے اور ملک کی بیروزگاری گھٹ کر ساڑھے چھ فی صد رہ جائے گی اور چونکہ معیشت میں اب اتنی تقویت آگئی ہے، صدر اوبامہ کا منصوبہ یہ ہے کہ مزدوری کی شرح بڑھا کر 10 ڈالر دس سینٹ فی گھنٹہ کر دی جائے۔ اسی طرح، کالم نگار کا کہنا ہے کہ اگر مسٹر اوبامہ دونوں پارٹیوں کی حمائت سے امی گریشن اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو جائیں، تو وہ اسے اپنے کارناموں میں شمار کر سکتے ہیں۔

خارجہ پالیسی میں ایک اور سنگ میل، افغانستان سے باقیماندہ 47 ہزارامریکی فوجیوں کا انخلاٗ اس سال پورا ہوجائے گا اور صدر اوبامہ عوام کو جتا سکیں گے کہ انہوں نے سنہ 2008 میں دونوں جنگیں ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وُہ انہوں نے پورا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اوبامہ انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے، اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین قیام امن، اور شام کی خانہ جنگی ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو سب مشکل کام ہیں، لیکن اگر ان میں سے ایک میں بھی کامیابی ہوتی ہے، تو یہ ایک غیر متوقع کارنامہ مانا جائے گا۔

رواں سال انتخابات کا بھی سال ہے۔ اور صدر اوبامہ کی انتخابی مہم چلانے کی مہارت مسلّم ہے۔ لیکن، مک مے نس کا کہنا ہے کہ صدر کے سابقہ برسوں کے مقابلے میں رواں سال میں توقّعات محدود ہیں۔ لیکن، اگر صدر نے اس سال معیشت صحت مند رہی، ان کی صحت کی نگہداشت قانون برقرار رہا اور سینیٹ پر ڈیمو کریٹوں کا غلبہ رہا، تو یہ صدر کے لئے کامیابی کی بات ہوگی۔

ادھر، ’نیشنل سیکیورٹی ایجنسی‘ کے ٹیلیفونوں سے انٹلی جنس معلومات جمع کرنے کے اختیارات پر روک لگانے کی کوششوں کے خلاف صدر اوبامہ جس طرح ڈٹ گئے ہیں، اُس پر اخبار ’نیو یارک نیوز ڈے‘ نے ایک ادارئے میں کہا ہے کہ ملک کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے اُنہیں کرنا بھی یہی چاہئے۔

ایک وفاقی جج نے یہ فیصلہ صادر کیا ہے کہ اس ایجنسی کی ٹیلیفونوں سے متعلق میٹا ڈیٹا یا معلومات حاصل کرنا غالباً آئین کی خلاف ورزی ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے ایک خصوصی عدالت سے جج کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ البتّہ، اس جج نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس ایجنسی نےنائن الیون کے ہائی جیکروں میں سے ایک کی ٹیلی فون کال کا سُراغ لگا لیا تھا۔ لیکن، اس کےنفس مضمون اس کے پلے نہیں پڑا تھا۔ کیونکہ، آج کل جو میٹا ڈیٹا دستیاب ہے وہ اس وقت میسّر نہیں تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ اس ایجنسی کے سابق کارکُن، ایڈوارڈ سنوڈن نے، جو اب روس میں جلاوطنی کے دن بتا رہے ہیں، جانتے بو ُجھتے ہوئے خفیہ دستاویزوں کے ایک پلندے کو افشاٴ کیا ہے، جس سے امریکی حکومت کے مفادات کو نقصان پہنچنے کے علاوہ اور کوئی مقصد برآمد نہیں ہوا ہے، اور ’گارڈین‘ اخبار کے بقول، ایسی 58 ہزار دستاویزوں کا محض ایک فی صد منظر عام پر آیا ہے۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ نے وزیر خارجہ جان کیری کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ماہ جینیوا میں شام کے امن مذاکرات میں ایران کو مدعو کرنے کا امکان ہے۔ ایک امریکی عہدہ دار کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے جس میں اس کانفرنس میں ایرانیوں کو مدعو کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

روس اور شام کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے ایران کی شمولیت کی حمائت کی ہے، لیکن فرانس اور سعودی عرب اس کے خلاف ہیں، مسٹر کیری کے اس بیان سے پہلے امریکہ بھی اس کے خلاف تھا۔
XS
SM
MD
LG