رسائی کے لنکس

’مستقل جلاوطنی، خوف اور فرار کی زندگی کے مقابلے میں سنوڈن بہتر زندگی کا مستحق ہے، اس نے چاہے جُرم کیا ہو۔۔۔ٴ اور، وقت آگیا ہے جب امریکہ کو سنوڈن کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا چاہئے، یا اُسے معاف کردینا چاہئے، تاکہ وہ وطن واپس آسکے‘: نیو یارک ٹائمز

امریکہ کی ’نیشنل سیکیورٹی ایجنسی‘ کے سابق کارکُن، ایڈورڈ سنو ڈن برابر اخباری مضامین اور اداریوں کا ایک اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اور، مقتدر روزنامے ’نیو یارک ٹائمز‘ نے بُدھ کو رات دیر گئے سنو ڈن پر ایک خصوصی اداریہ شائع کیا جس میں پُر زور الفاظ میں سنوڈن کے ساتھ انصاف برتنے کی وکالت کی گئی ہے۔

’بد عنوانیوں کا پردہ چاک کرنے والا ایڈورڈ سنوڈن‘ کے عنوان سے، اخبار کا ایڈیٹوریل بورڈ اس ادارئے میں کہتا ہے کہ سات ماہ قبل دُنیا کو یہ معلوم ہونا شروع ہوا کہ امریکہ اور باقیماندہ دنیا کے اربوں لوگوں کی زندگیوں تک اس سیکیورٹی ایجنسی کو کتنی رسائی حاصل ہے، جو اُن کی ٹیلیفون کالوں، اُن کے اِی میل پیغامات، اُن کے دوستوں اور ملنے والوں کے بارے میں معلومات جمع کرتی ہے، اور اس بارے میں بھی کہ وہ اپنے شب و روز کس طرح گُذارتے ہیں۔ اور عام پبلک کو تفصیل سے اس کی آگہی میسّر آئی کہ یہ ایجنسی اپنے اختیار سے کس درجہ تجاوُز کر رہی ہے اور اس کا ناجائز استعمال کر رہی ہے۔

اس پر نہ صرف عام لوگ، بلکہ ارکانِ کانگریس تک آگ بگولا ہو گئے، اور بالآخر شائد کانگریس ہی کو اسے لگام دینی پڑے گی۔ دو وفاقی جج پہلے ہی اس ایجنسی پر آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام دے چُکے ہیں۔ اور اس سلسلے میں صدر اوبامہ نےجو پینل مقرّر کیا تھا، اُس نے بھی، نہ صرف ایجنسی کو فرد کی رازداری کی خلاف وزری کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے، بلکہ اس کے طریق کار کو اچھی طرح درُست کرنے پر زور دیا ہے۔

اور، اخبار کہتا ہے کہ یہ سب کُچھ ان معلومات کی بدولت ممکن ہوا، جو سنوڈن نے صحافیوں کو فراہم کیں۔ ایجنسی کے اس سابق ملازم نے خفیہ دستاویزوں کا ایک بھاری پُلندہ چُرا کر طشت از بام کر دیا، کیونکہ وُہ ایجنسی کی زیادتیوں سے بد دل ہوگیا تھا۔

سنوڈن نے اب جان بچا کر روس میں رہائش اختیار کی ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ سنو ڈن کی افشا کردہ معلومات کی قدر و قیمت کے پیش نظر سنوڈن مستقل جلاوطنی، خوف اور فرار کی زندگی کے مقابلے میں بہتر زندگی کا مستحق ہے، اس نے چاہے جُرم کیا ہو۔ لیکن، اس نے اپنے ملک کے لئے عظیم خدمت سر انجام دی ہے، اور وقت آگیا ہے جب امریکہ کو سنو ڈن کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنا چاہئے، یا اُسے معاف کردینا چاہئے، تاکہ وہ وطن واپس آسکے۔

آگے چل کر، اِس خصوصی ادارئے میں کہا گیا ہے کہ مسٹر سنوڈن کے ناقدین یہ کہتے نہیں تھکتے کہ مسٹر سنوڈن نے امریکہ کے انٹلی جنس اوپریشنز کو سنگین نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن، کسی نے اس بات کا ذرّہ بھر ثبوت نہیں دیا ہے کہ ان انکشافات سے ملک کی سیکیورٹی کو واقعتہ ًً نقصان پہنچا ہے۔

اسی موضوع پر، ’ٹلسا ورلڈ‘ اخبار نے ایک مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر سنوڈن کی یہ دلیل کھوکھلی ہے کہ خفیہ دستاویزات کو افشا کرنے کے پیچھے یہ جذبہ کارفرما تھا، تاکہ حقیقت سامنے آئے، اور اس بنا پر اُسے معافی ملنی چاہئے۔ سنوڈن کی دلیل کو نہ تو سینیٹ اور نہ ہی ایوان نمایندگاں میں قبولیت حاصل ہو سکی ہے۔ اور ناہی وہائٹ ہاؤس میں۔

اخبار کہتا ہے کہ ملازمت اختیا کرنے پر سنوڈن نے ملک کا تحفّظ کرنے اور اس کے رازوں کو سربستہ رکھنے کا حلف اٹھایا تھا۔ اس کے لئے، ممکن تھا کہ وہ ارکان کانگریس کو اعتماد میں لے کر اُنہیں یہ سب کُچھ بتاتا۔ اس کے لئے یہ بھی ممکن تھا کہ پبلک میں اس کا افشا کرتا اور اپنے موقف کا دفاع کرنے کے لئے اپنے ملک میں رہتا۔ اس کی بجائے، وہ روس بھاگ گیا، جہاں وہ اب تک موجو د ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگر سنوڈن کو یقین ہے کہ اس نے جو کُچھ کیا وُہ بالکل صحیح تھا، تو اُسے نتائج کی پرواہ کئے بغیر کٹہرے میں کھڑے ہو کر اپنا دفاع کرنا چاہئے۔


کُچھ روز قبل، ’لاس انجلس ٹائمز‘ کے ایک کالم میں بھی ایڈوارڈ سنوڈن کو معاف کرنے کی وکالت کی گئی تھی۔

مضمون نگار کا موقف تھا کہ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ سنوڈن نے خفیہ دستاویزوں کو منظر عام پر لا کر صدر سمیت واشنگٹن کی بُہت ساری مقتدر شخصیات کی سُبکی کی ہے۔ لیکن، معافی دینے کے حق میں تاریخی مثالیں موجود ہیں، اور ایسی دلائل بھی جو ملک کے لئے بہتر ہیں۔
XS
SM
MD
LG