رسائی کے لنکس

پچھلے 12 سال کے دوران امریکہ نے پاکستان کو تقریباً 26 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے،تاکہ اس ملک میں استحکام آئے اور انسداد دہشت گردی کی کاوشوں میں اُس کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے: واشنگٹن پوسٹ

اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے امریکی سیکیورٹی ایجنسی کے سابق ملازم، ایڈورڈ سنوڈن سے حاصل کردہ مزید دستاویزوں کی تفصیلات شایع کی ہیں جِن کے مطابق، پچھلے 12 سال کے دوران امریکہ نے پاکستان کو تقریباً 26 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، تاکہ اس ملک میں استحکام آئے اور انسداد دہشت گردی کی کاوشوں میں اس کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔

لیکن، اخبار نے امریکی عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب جب کہ اوسامہ بن لادن کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور القاعدہ کی کمر توڑ دی گئی ہے، امریکی انٹلی جنس اداروں کی توجہ نئے خطرات کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔ پاکستانی سرزمین کے جس خطے پر سی آئی اے کے ڈرون طیارے گشت کرتے آئے ہیں، یہ نئے خطرے اس خطے سے ماورا پیدا ہوئے ہیں۔

اخبار نے سابق پاکستانی سفیر حسین حقّانی کے حوالے سے بتایا ہےکہ اگر امریکہ اپنی دیکھ بھال کی صلاحیتوں میں توسیع کر رہا ہے، تو اس کا صرف یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ بد اعتمادی، اعتماد کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔

لیکن، اخبار کے بقول، امریکی سلامتی کونسل کی ایک خاتون ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ ایک طویل المیعاد اشتراک کا عہد کر چکا ہے اور ہم ایسے تعلقات کی تعمیر میں پورے طور سے مصروف ہیں جِن کی بنیاد باہمی مفادات اور باہمی احترام پر ہے۔

ترجمان کیٹلِن ہیڈن نے کہا کہ ایک سٹرٹیجک مکالمہ جاری ہے جس کا مقصدحقیقت پسندانہ انداز میں بُہت سے باہمی کلیدی امور سے نمٹنا ہے، یعنی سرحدوں کے انصرام سے لے کر انسداد دہشت گردی تک، جوہری سلامتی سے لے کر تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے تک۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر سلامتی کے جو چیلنج درپیش ہیں اُن کا مقابلہ کرنے میں دونوں کا مفاد ہے اور امریکہ اس سلسلے میں پاکستان کی پیشہ درانہ اور فرض شناس سیکیورٹی افواج کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اُس نے امریکی عہدہ داروں کے ساتھ صلاح مشورے کے بعد ان دستاویزوں کی بعض تفصیلات صیغہٴ راز میں رکھنے کی فیصلہ کیا، ان عہدہ داروں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ایسا کرنے سے بعض کاروائیوں اور بعض ذرائع کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ سالہا سال کی سفارتی کشمکش کے بعد اب امریکہ اور پاکستان کے مابین کشیدگی کے اسباب معدوم ہونا شروع ہوئے ہیں، ڈرون طیاروں کے حملوں کی تعداد کم ہوگئی ہے اور اوسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لئے پاکستان پر اُس خفیہ حملے کو بھی دو سال ہو چکے ہیں جس پر اسلام آباد برہم ہوا تھا۔ اور سالہا سال کی سفارتی کشمکش کے بعد، دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کے اسباب معدوم ہونا شروع ہوئے ہیں۔

اخبار نے سابق سفیر حقّانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ پاکستان کا غصّہ ٹھنڈا پڑ چکا ہے، ایبٹ آباد پر حملے کے بارے میں عام تاثُر کے برعکس اس کے مضمرات زیادہ دورس ثابت ہوئے ہیں، مسٹر حقّانی، جو اب بوسٹن یونیورسٹی میں بین الاقوای تعلّقات کے پروفیسر ہیں، کہتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین میں بن لادن کی برآمدگی نے امریکہ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہاہے اس کا ادراک پاکستان کی مملکت کو اُتنا نہیں ہےجتنا کہ فرض کرلیا گیا تھا اور یہ حقیقت پاکستان کی اپنے جوہری اسلحہ خانے کی حفاظت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں تشویش میں اضافے کا باعث بنی ہے۔

اخبار ’ار زونا ری پبلک‘ کہتا ہے کہ شام پر اگر حملہ کرنا ہے تو یہ داخلی پالیسی کا معاملہ نہیں ہے، اور صدر اوبامہ پر یہ فر ض عائد ہوتا ہے کہ وہ کانگریس میں اس کی وضاحت کریں ،کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جنگ کرنا کس لحاظ سے اس قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔

اخبار کا خیال ہےکہ مسٹر اوبامہ کو اس کی بھی وضاحت کرنی ہوگی ، کہ دو سال کی بر بریت کی نوعیت ، جس میں ایک لاکھ انسانی جانیں ہلاک کی گئیں کیونکر بدل گئی، جب اس سفّاک قصّاب نے زیادہ خوفناک ہتھیاروں کا استعمال کیا۔اٹھارہ ڈیموکریٹوں سمیت ایوان نمائیدگاں کے 116 ارکان نے صدر کا نام ایک خط میں زور دے کر کہا ہے، کہ شام میں امریکی فوجی طاقت کے استعمال سے پہلے اُنہیں کانگریس سے مشورہ کرنا چاہئے اور اجازت لینی چاہئے۔

اِسی موضوع پر ’شکاگو ٹربیون‘ اخبار کہتا ہے کہ صدر اوبامہ کے لئے دانشمندی کی بات یہ ہوگی کہ وُہ شام کی خانہ جنگی سے کناری کش رہیں۔خاص طور پر اس حققیقت کے پیش نظر کہ اس سے امریکہ کی سیکیورٹی بالکل متاثّر نہیں ہوتی ۔ اور امریکہ کتنی بھی معقول کوشش کرے ۔ اس سے فرق نہیں پڑے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوبامہ جنگ اور امن کے اہم معاملات میں کانگریس کے کردار صحیح کردار کا احترام کرتے ہیں، اور وہ اتنے مضبوط ہیں کہ بچگانہ طنزوں کو نظر انداز کریں گے۔
XS
SM
MD
LG