رسائی کے لنکس

دولت کے ارتکاز کی وجہ سے، اقتصادی کساد بازاری زیادہ کثرت سے ہوتی ہے، خاندانوں کے قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور معاشرے میں قنوطیت اور نااُمّیدی کا غلبہ ہو جاتا ہے

صدر اوبامہ نے ایک حالیہ تقریر میں ملک سے اقتصادی ناہمواریوں کو دور کر نے کی ضرورت پر جو زور دیا ہے اُس پر ’نیو یارک ٹائمز‘ نے ایک خصوصی ادارئے میں صدر کی یہ بات خاص طور پر نوٹ کی ہے کہ وُہ اپنی باقی مدّتِ صدارت اس چیلنج کا مقابلہ کرنے اور معاشی بد حالی کو دور کرنے اور لوگوں کے ترقّی کے مواقع کو بڑھانے پر صرف کریں گے۔

صدر نے کہا تھا کہ اگلے چند برسوں میں ہم ان اہم امور پر جو فیصلے کریں گے اُنہیں سے اس بات کا تعیّن ہوجائے گا کہ آیا ہمارے بچے ایک ایسے امریکہ میں پلیں گے اور بڑھیں گے، جہاں آگے بڑھنے کے مواقع واقعتہً موجود ہیں، اور جیسا کہ مسڑ اوبامہ نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی، 20 فیصد آمدنی والے طبقے میں پیدا ہونے والے بچے کے لئے چوٹی تک پہنچنے کے مواقع پانچ فیصد سے بھی کم ہیں، جبکہ چوٹی کے 20 فیصد طبقے میں پیدا ہونے والے شخص کے لئے اُسی طبقے میں رہنے کے مواقع 66 فیصد ہیں۔

اور اس وقت آبادی کے چوٹی کے 10 فیصد طبقے کو قومی آمدنی کا نصف حصّہ حاصل ہو جاتا ہے۔ یعنی، سنہ 1979 کے مقابلے میں کہیں زیادہ۔ اور دولت کے اس ارتکاز کی وجہ سے اقتصادی کساد بازاری زیادہ کثرت سے ہوتی ہے۔ خاندانوں کے قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور معاشرے میں قنوطیت اور نااُمّیدی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں اکثر و بیشتر حکومت پر سے یہ اعتبار اُٹھ جاتا ہے کہ اس کے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت ہے۔ چنانچہ، صدر ریگن کے دور میں ٹیکسوں میں جو چُھوٹ دی گئی تھی اور اخراجات میں جو تخفیف کی گئی تھی، موجودہ اقتصادی عدم تحفُّظ براہ راست اُسی کا نتیجہ ہے۔

اس کا ایک شاخسانہ تعلیم کی مد میں کٹوتی ہے، جس نے کم آمدنی والے علاقوں کے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کا نقصان کیا ہے۔چنانچہ، اگر ان فیصلوں کو واپس لیا جائے تو اس سے اصلاح احوال میں بڑی مدد ملے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ فی گھنٹہ محنت کی کم سے کم اُجرت کی شرح بڑھانے سے کروڑوں محنت کشوں کی قوّت خرید بڑھ جائے گی، جس سے معاشی نمُو، اور روز گار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح، تعلیم کا معیار بڑھانے اور کام کی جگہوں کے حالات کار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اور جیسا کہ مسٹر اوبامہ نے کہا، اُن کےصحت عامّہ کی نگہداشت کے قانون نے کروڑوں ایسے افراد کو صحت کا بیمہ فراہم کردیا ہے، جو اس سے محروم تھے۔

اخبار نے صدر کو مشورہ دیا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ شرح نمو کے لئے درکار سرمایہ کاری کی جائے۔

یمن کی وزارت داخلہ کی عمارت پر جو کار بم حملہ ہوا ہے اور جس میں اور نقصان کے علاوہ 20 انسانی جانیں گئی ہیں، اُس پر ’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہے کہ کسی تنظیم نے اس کی ذمّہ داری کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ لیکن، قرائن سےظاہر ہے کہ القاعدہ کے عسکریت پسند وں نے یمن کی فوج کو نشانہ بنانے کی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے، اور یمنی فوجی وردی میں ملبوس ان عسکریت پسندوں اور سرکاری فوج کے درمیان اس لڑائی کا آغاز ایک خودکُش بمبار کے اس وزارت کی عمارت کے گیٹ سے ٹکرانے سے ہوا۔ بعض اطلاعات کے مطابق، کم از کم 29 افراد ہلاک اور 70 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔


اخبار کہتا ہے کہ القاعدہ کے عسکریت پسندوں کا ارتکاز یمن کےجنوبی اور مشرقی حصّوں میں ہے۔

انہوں نے سنہ 2011 اور 2012 میں اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کےخلاف بغاوت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے جنوب کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا تھا، جسے حکومت نے بعد پھر اُن سے چھین لیا تھا۔ امریکہ القاعدہ کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے یمن کی امداد کر رہا ہے۔ یمن کی خصوصی فورسز کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اُسے ہتھیار فراہم کر رہا ہے اور یمن کی حکومت کے ساتھ انٹلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کررہا ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائڈن کے ایشیا کے موجودہ دورے پر ’لاس انجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ اس دورے کا مقصد، جس کی کئی مہینوں سے منصوبہ بندی کی گئی تھی، اُس بر اعظم کے ساتھ امریکہ کی تجارت کو فروغ دینا تھا۔ لیکن، اس کے بدلے ان کا یہ دورہ ایک ایسے مشن میں بدل گیا ہے جس کا مقصد چین اور اُس کے پڑوسی ملکوں کے مابین کشیدگی پر قابو پانا اور ایک جنگ کے امکان کو ختم کرنا ہے۔

بیجنگ پہنچنے پر، مسٹر بائڈن نے صدر زی جنگ پِنگ سے ساڑے پانچ گھنٹے کے مذاکرات کئے، جن کے بارے میں امریکی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ اس علاقے کے فکر مند اتحادیوں کو یقین دہانی کرانے کی اور چین کی اعلان کردہ نئی فضائی حدود پر تنازعے کو مزید بڑھنے سے روکنے کی ایک کوشش تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ جو بائڈن چینی صدر کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہونگے کہ وُہ قوم پرستی کے اس رُجحان کو لگام دیں گے، جس کے تحت اُنہوں نے مشرقی اور جنوبی چین کے سمندر کے علاقوں پر چینی ملکیت کے دعوے کا اعلان کرکے اپنے پڑوسیوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جن میں جاپان کے علاوہ، ویت نام، ملائیشیا اور فلیپینز شامل ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کے عہدہ داروں کے حوالے سے، اخبار کہتا ہے کہ ان طویل مذاکرات کے باوجود اس مشکل مسئلے کا کوئی حل نہیں نکلا ہے۔
XS
SM
MD
LG