رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات


فائل

فائل

ایک نجی ادارے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پورے پاکستان میں پچھلے سال، 687 افراد فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاک ہوئے، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے تجزیہ کار، ٹِم کریگ کی پاکستان میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاکتوں پر یہ رائے ہے کہ اس کی وجہ سے ملک کے استحکام کے بارے میں نئے اندیشے پیدا ہو رہے ہیں۔ شیعہ مسلک سے تعلّق رکھنے والوں اور دوسری اقلیّتوں کے خلاف تشدّد کی یہ وارداتیں ملک کے بڑے شہروں میں پھیل رہی ہیں، اور ان میں، ملک کے پیشہ ور طبقے کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو عشروں سے فرقہ وارانہ تشدّد سے نمٹنا پڑا ہے۔ لیکن، پچھلے سال اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، اور رواں سال کی ابتداٴ میں صورت حال اتنی ہی گھمبیر ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ نقاب پوش مسلّح افراد، شیعہ ڈاکٹروں، وکیلوں اور کالج کے پروفیسروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ 6 جنوری کو ایک خود کُش بمبار نے ایک شمال مغربی قصبے میں، جہاں کی آبادی زیادہ تر شعیوں پر مشتمل ہے، ایک سکول میں گُھسنے کی کوشش کی، جسے ایک نویں جماعت کے ایک طالب علم نے اپنی جان پر کھیل کر سکول کے سینکڑوں طلبہ کو بچایا۔ اور اس لڑکے کو اب قومی ہیرو کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح، صُوفی مسلمانوں سیمت دوسری اقلیتوں کو ایسے ہی جان لیوا حملوں کا سامنا رہتا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستان میں یہ ہنگامے بڑے نازُک مرحلے پر ہو رہے ہیں۔ امریکی لیڈروں کو پاکستان سے یہ توقّع ہے کہ وہ رواں سال کے دوران، جب بیشتر نیٹو افواج کا پڑوسی افغانستان سے انخلاٴ ہو رہا ہے، خطے میں استحکام برقرار رکھ سکے گا۔ لیکن، مبصّرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کی فرقہ وارارنہ کشیدگی پھیل کر افغانستان پہنچ سکتی ہے، جہاں امن و امان کی صورت حال پہلے ہی سے دگرگُوں ہے اور فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگیاں پہلے ہی سے موجود ہیں۔

اخبار نے پاکستانی پارلیمنٹ کے ایک سابق رکن شیخ وقاص اکرم کے حوالے سے بتایا ہے کہ کوئی بھی بات صحیح نہیں ہو رہی۔ اُن کا تعلُق پنجاب سے ہے، جہاں فرقہ وارارنہ کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔

’پاکستان انسٹی چُیوٹ فار پِیس سٹڈیز‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، پورے پاکستان میں پچھلے سال، 687 افراد فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاک ہوئے، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔ اگرچہ، یہ تعداد اُن 4725 اموات سے پھر بھی کم ہے، جو دہشت گردوں کے حملو ں میں پچھلے سال ہوئیں۔ لیکن، اس ادارے کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ بدامنی پورے ملک میں پھیل رہی ہے اور گُنجان آباد علاقوں میں تو معمول بن گئی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسی ماہ سنسی پھیل گئی تھی، جب ایک صوفی بزرگ کے مزار پر چھ لاشیں پائی گئیں، جن کے گلے کاٹے گئے تھے اور دو کے سر کاٹے گئے تھے۔ چند روز بعد، مردان میں ایک اور صوفی درگاہ پر دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

اخبار کہتا ہے کہ شیعہ پیشہ وروں کو نشانہ بنانے کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہدف بننے والوں میں کراچی کا ایک ممتاز شاعر، لاہور کا ایک معروف ڈاکٹر، اور گجرات کا ایک یونیورسٹی لیڈر شامل ہیں۔ نئے سال میں شیعوں پر حملے جاری ہیں۔ ملتان میں ایک ڈاکٹر کو اسپتال سے گھر جاتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح، پشاور کے ایک بنک مینیجر کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

اس خطے میں، تشدّد کی وارداتوں پر نظر رکھنے والے ایک ادارے کے مطابق، 1989 ءمیں فرقہ وارانہ تشدد کی وارداتوں میں 18 افراد اُن میں ہلاک ہوئے تھے، جس میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ اور پچھلے دو سال کے دوران، یہ تعداد پانچ سو بھی بڑھ گئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ملک کی 66 سالہ تاریخ میں شیعوں اور سنّیوں کے مابین، شاز ہی کوئی تناؤ ہوتا تھا۔ لیکن، 1980 ءکی دہائی میں حکومت نے ایسی تنظیموں کے قیام کی اجازت دے دی، جن پر سنّیوں کا غلبہ ہے۔

اور، اخبار نے پاکستانی عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدّد کی وارداتوں میں ستمبر 2001 ء میں امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد اضافہ ہوگیا، جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا، اور اس کے لشکری سرحد عبور کر کے پاکستان منتقل ہو گئے۔

اخبار ’کینسس سٹار‘ نے ایک طنزیہ ادارئے میں امریکی کانگریس کو لکھ پتیوں کا کلب قرار دیتے ہوئے، کہا ہے کہ ہم میں سے بیشتر کو اب یہ اندازہ تو تھا کہ ارکان کانگریس ملک کے باقی عوام سے مختلف ہیں۔ لیکن، اب ان کے اثاثوں کے بارے میں اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ اُن میں سے آدھے سے زیادہ لکھ پتی ہیں۔

کانگریس کے مجموعی 531 ارکان میں سے 268 کی اوسط مالیت دس لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ ہے۔ چنانچہ، کانگریس کا انتخاب لڑنے کے لئے لکھ پتیوں کے کلب کی رکنیت یا ملک کے سب سے اُوپری دس فیصد طبقے کا فرد ہونا فائدہ مند بات ہے۔ اور اس فضاٴمیں رہنے والوں کے لئے اس بات کا اندازہ کرنا شائد مشکل ہو سکتا ہے کہ باقی ماندہ عوام بالخصوص غریب اور سفید پوش لوگوں کی کیسے گُذر بسر ہوتی ہوگی، جو اپنے مفادات کے تحفّظ کے لئے ہمدردی کے پہلے سے زیادہ مستحق ہیں۔ بالخصوص، جب کانگریس بے روز گاری کے بیمے، اُجرت کی کم سے کم شرح، فُوڈ سٹیمپس یا خوراک کی شکل میں غریبوں کی امداد اور ٹیکسوں کی پالیسی پر غور کر رہی ہو۔ کیونکہ، اخبار کے بقول، سیاست دان آسانی سے یہ بُھول جاتے ہیں کہ وُہ عوام کے نمائیندے ہیں۔ اُس کارپوریٹ سیکٹر کے نہیں جو جُزوی طور پر اُن کی دولت کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ، لکھ پتیوں کے اس کلب کو مبارک باد ۔ لیکن، ہم جیسے باقیماندہ لوگوں کا بھی خیال رہے۔
XS
SM
MD
LG