رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ہلاکتیں


فائل

فائل

پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سیکیورٹی اہل کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس بمباری میں 35 جنگجؤوں کو ہلاک کیا گیا ہے، جس کی غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکتی، کیونکہ پاکستان کے شُمال مغربی علاقوں تک رسائی انتہائی محدود ہے

اخبار ’لاس انجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے پے در پے دہشت گرد حملوں کے بعد، حکومت پاکستان کی اُن کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں، اور پاکستانی جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے قبائیلی علاقوں میں ان جنگجؤوں کی کمین گاہوں پر بمباری کی ہے، جس میں کم از کم 35 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس کاروائی کا فوری محرک ان باغیوں کی تحویل میں 23 پاکستانی نیم فوجی اہل کاروں کی ہلاکت کی اطلاع تھی، جس کی وزیر اعظم نواز شریف نے مذمّت کی ہے۔ اور، اخبار کا خیال ہے کہ طالبان ٹھکانوں پر ہوائی حملو ں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف حکومت جو اب تک اپنی طاقتور فوج کی طرف سے باغیوں کے خلاف زیادہ فیصلہ کُن کاروائی کرنے کے دباؤ کے خلاف ڈٹی رہی ہے، بالآخر شائد اس بات پر تیار ہوگئی ہو کہ اُن کے خلاف زیادہ سخت رویّہ اختیار کرنا چاہئے۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سیکیورٹی اہل کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس بمباری میں 35 جنگجؤوں کو ہلاک کیا گیا ہے، جس کی غیر جانب دار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکتی، کیونکہ پاکستان کے شُمال مغربی علاقوں تک رسائی انتہائی محدود ہے۔

اخبار نے شمالی وزیرستان کے انتظامی صدر مقام، میرم شاہ کے مکینوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ بمباری مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کے آدھ گھنٹے بعد شروع ہوئی اور ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ایک مقامی باشندے ضمیر گل نے ٹیلیفون پر ’لاس انجلس ٹائمز‘ کو بتایا کہ پاکستانی جنگی طیاروں نے میر علی، داتا خیل، اور شوال کے علاقوں پر بمباری کی جہاں کے مکین، اُس کے بقول، وہاں سے ڈر کے مارے پہلے ہی بھاگ گئے تھے۔ شوال میں جو افغان سرحد سے ملحق ایک پہاڑی علاقہ ہے، ایک احاطے پر حملے میں پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

اخبار نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ یہ کاروائی پاکستانی طالبان کے اعلیٰ ترجمان کے اُس بیان کے ایک روز بعد کی گئی ہے، جس میں اس نے اس شرط پر جنگ بندی کرنے کی حامی بھری تھی کہ پہلے حکومت پاکستان اُن جنگجؤوں کو ہلاک کرنا بند کردے، جو اُس کی تحویل میں ہیں۔ ایک بیان میں طالبان نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو 23 پاکستانی فوجی قیدیوں کو اس لئے ہلاک کیا گیا تھا، کیونکہ کراچی اور نوشہرہ میں حکومت کی قید میں 23 باغیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

باغیوں کے ترجمان، شاہد اللہ شاہد نے کسی نا معلوم جگہ سے رپورٹروں کو بتایا، طالبان جنگ بندی کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ حکومت اس کے قیدیوں اور اس کے کارندوں کو ماورائے عدالت ہلاک کرنا اور گرفتار کرنا بند کر دے۔

حکومت پاکستان اس کی تردید کر چُکی ہے کہ اس نے کسی باغی قیدی کو ہلاک کیا ہے۔

اسی موضوع پر، ’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا قبائیلی علاقوں پر پاک فضائیہ کی یہ بمباری شمالی وزیرستان کے اِس دُشوار گُزار علاقے میں طالبان کے خلاف ایک بھرپور حملے کا آغاز ہے، جو پاکستان اور افغانستان میں کاروائی کرنے والے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے لئے محفوظ اڈّے کا کام دیتا آیا ہے۔ ایک پاکستانی سیکیورٹی عہدہ دار نے اس شرط پر کہ اُس کا نام صیغہٴراز میں رہے۔

اخبار کو بتایا کہ یہ فضائی کاروائی جنگجوں کے حالیہ تابڑ توڑ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، کیونکہ مذاکرات کے عمل کے ہوتے ہوئے، حکومت اس قسم کے حملے برداشت نہیں کرے گی۔

اخبار کی اطلاع کے مطابق، پاکستانی فضائیہ کی اس بمباری کا ہدف شمالی وزیرستان کے میر ولی ضلعے کے دیہات تھے اور مرنے والوں میں دونوں پاکستانی اور ازبک جنگجو شامل تھے۔ تاہم، اس کی کسی اور ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اخبار نے پاکستانی عہدہ داروں سے جو اعدادوشمار جمع کئے ہیں۔ اُن کے مطابق، ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں پچھلے پانچ ماہ کے دوران 460 افراد کو ہلاک کیا جا چُکا ہے، جن میں 114 فوجی اور 38 پولیس والے شامل ہیں۔ اسی دوران حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرت کرنے کی کوشش کی تھی۔

اخبار کہتا ہے کہ باغیوں کے تشدّد کی کاروائیوں کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مکالمہ کرنے کی پالیسی پر دوبارہ غور کریں۔ بلکہ، اخبار کے بقول، جب 29 جنوری کو مسٹر نواز شریف نے امن مذاکرات کا اعلان کیا تو اس سے بُہت لوگوں کو حیرت ہوئی، کیونکہ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت ایسے اشارے دے رہی تھی کہ شمالی وزیرستان پر فوجی حملے کی تیاری ہو رہی ہے۔

اور آخر میں، ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی یہ خبر کہ نیو یارک کی ایک کمپنی ایک اعلیٰ قسم کی ٹائیلیٹ سروس شروع کرنے والی ہے۔ ’پاش سٹو اینڈ گو‘ نامی یہ کمپنی اپنے گاہکوں کو ایسے باتھ روم فراہم کرے گی۔ جو صاف ستھرے اور باہر کے شور و غوغا سے پاک ہونگے، یعنی نیو یارک جیسے عظیم ترین شہر کے عین شایان شاں اور اِن میں غُسل کی پُر تعیُّش سہولت کے علاوہ پرائیویٹ سٹور روم بھی ہونگے، یہ باتھ روم جون سے دستیاب ہو جائیں گے اور ان کی یومیہ فیس آٹھ ڈالر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ممبرشپ فیس 15 ڈالر سالانہ بھی دینی پڑے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کے بڑے بڑے میٹرو پالٹن علاقوں اور خاص طور پر نیویارک میں کئی برسوں سے صاف اور آرام دہ ٹا ئیلیٹوں کی کمی ایک مسئلہ ہے اور آریگن شہر میں پبلک ٹائیلٹوں کی وکالت کرنے والے ایک ادارے کا یہ موقّف ہے کہ رفع حاجت کی سہولت کی فراہمی ایک انسانی حق ہے۔
XS
SM
MD
LG