رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: طالبان باغیوں سے امن مذاکرات


طالبان دفتر، دوحہ

طالبان دفتر، دوحہ

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، اُن میں ابتدا ہی سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مناقشے سے نجات پانا کس قدر مشکل ہوگا

پاکستان کی نئی حکومت نے مُلک کے طالبان باغیوں کے ساتھ امن کا کوئی سمجھوتہ کر نے کی جو کوششیں شروع کر رکھی ہیں، ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، اُن میں ابتدا ہی سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مناقشے سے نجات پانا کس قدر مشکل ہوگا، جس سےجوہری ہتھیاروں سے لیس اس ملک کے استحکام کو خطرہ ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی انتخابی مہم کا ایک مقصد پاکستانی طالبان کے سالہا سال کے اُس تشدّد سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا، جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد50000 تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں 5000 فوجی شامل ہیں۔

اخبار کے خیال میں نواز شریف کی یہ کوشش ملک کی بے جان معیشت میں نئی رُوح پُھونکنے کے لئے اہم ہے۔ شائد اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کی مدد سے پڑوسی ملک افغانستان کے طالبان کو حمائت کے اہم ذریعے سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ وُہ بھی ایسے وقت جب امریکی فوجیں وہاں سے نکالی جا رہی ہیں۔

اخبار کےمطابق، اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ کے اندر طالبان سے مذاکرات کے لئے ملک کی 12 بڑی سیاسی پارٹیوں کو آمادہ کرنا نواز شریف کی بڑی کامیابی تھی۔ لیکن، امن کی یہ کوشش شروع ہونے سے پہلے ہی مسائل پیدا ہوگئے۔ طالبان نے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کی جائے۔ اُن کے قیدی رہا کئے جائیں اور تمام قبائیلی علاقے سے فوج ہٹائی جائے۔ پھر انہوں نےسڑ ک پر نصب کئے گئے بم کی مدد سے ایک پاکستانی جنرل کو ہلاک کر دیا۔ اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ بلکہ، باغیوں کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے برملا کہا کہ یہ حملے جاری رہیں گے۔ اور یہ کہ جنگ جاری ہے۔ اور جنگ بندی نہیں ہوئی ہے۔ جس پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے تنبیہ کی کہ ان کی پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل فوج کسی کی دھونس میں نہیں آئے گی۔ اور کہا کہ اس فوج میں دہشت گردوں کے علاقے میں جا کر لڑنے کی اہلیت ہے اور وہ ایسا کرے گی۔

اخبار کہتا ہے کہ سابقہ اور موجودہ سرکاری عہدہ داروں کو شکائت ہے کہ نواز شریف نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ ملک میں جو 40 سے زیادہ جنگجو تنظیمیں موجود ہیں، اُن کا کیا جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستان کی امن کی اس کوشش سے کئی ماہ قبل امریکہ نے بھی افغان صدر حامد کرزئی اور افغان طالبان کے درمیان مکالمہ شروع کرانے کی کوشش کی تھی۔ اورامریکی عہدہ داروں کی جون میں قطر میں طالبان نمائندوں سے ملاقات ہونے والی تھی جو ہو نہ سکی۔ لیکن، اوبامہ انتظامیہ کو اب بھی امید ہے کہ یہ ملاقات کسی مرحلے پر ضرور ہوگی۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کہتا ہےکہ افغان اور پاکستانی طالبان کا دعویٰ ہے کہ اُن کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ لیکن، سرحد کے آرپار اُن کا کافی آناجانا ہے۔ بلکہ، افغان باغیوں کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ اُن کے پاکستان کے اندر محفوظ ٹھکانے ہیں۔ اور بعض تجزیہ کاروں کو تشویش ہے کہ سنہ 2014 میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے چلے جانے کے بعد پاکستانی طالبان حامد کرزئی کی حکومت کا تختہ اُلٹنے میں افغان باغیوں کو مدد بہم پہنچائیں گے۔ اس کے برعکس، ایک اور تشویش یہ ہےکہ افغان طالبان کو افغان سر زمین سے کھدیڑ دیا جائے گا۔ اور اُنہیں پاکستان کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ دونوں ملکوں میں تشدّد کو ختم کرنے میں قبائیلی سرداروں کو شائد اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ اُن میں سے بعض نے طالبان لیڈروں کے ساتھ الگ الگ ایسے امن معاہدے کر رکھے ہیں جنہیں وُہ شائد بدلنے کےلئے اُس وقت تک تیار نہ ہوں جب تک اُنہیں وسیع تر مذاکرات میں شامل نہیں کیا جاتا۔

باور کیا جاتا ہےکہ ایران جوہری معاملے پر ایک سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ، اُس کےخلاف لگائی گئی تعزیرات ختم ہوں۔ ’نیو یارک ٹائمز‘ کے دو سٹافر تہران سے ایک مراسلے میں بتاتے ہیں کہ ایرنی لیڈروں کو صدر اوبامہ کی طرف سے جو خط موصول ہوا ہے۔، اُس میں انہیں کُچھ لچک نظر آرہی ہے، جس بنا پر وہ اپنے جوہری پروگرام پر فوری طور پر ایک معاہدہ کرنے کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار ہو گئے ہیں، تاکہ یہ تباہ کُن تعزیرات ختم ہو جائیں۔

مراسلے میں ایرانی قیادت کے ایک ممتاز مشیر، کےحوالے سے بتایا گیا ہے کہ مسٹر اوبامہ کا یہ خط نئے صدر حسن روحانی کو تین ہفتے قبل ملا تھا جس میں تعزیرات میں نرمی کی پیشکش کی گئی تھی، بشرطیکہ تہران بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کرنے اور بغیر کسی ابہام کے اپنے وعدے پورا کرنے کے لئے تیار ہو۔

مراسلے کے مطابق، ایرانی قیادت کیلئے مسٹر اوبامہ کی یہ پیشکش حوصلہ افزا ہے کہ پانچ بڑی طاقتوں کے ساتھ دفتر شاہی انداز میں طویل مذاکرات کے بدلے دُوبدُو بات چیت ہو۔

آگے چل کر مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر اوبامہ کے ڈیڑھ صفحے پر مُشتمل خط کے جواب میں، ایرانی قیادت نے اتنی ہی طوالت کا اسی قسم کا جوابی خط بھیجا ہے، جس سے کسی سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG