رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: انتخابی مہم میں تبدیلی کی لہر


ایک انتخابی تقریر میں مسٹر رامنی نے اپنے آپ کو تبدیلی کا نقیب قرار دیا ہے اوراُنھوں نے ووٹروں کی یقین دہانی کردی کہ وُہ اُنھیں واشنگٹن کی موجودہ علّتوں سے نجات دلائیں گے

امریکی صدارتی انتخابات میں اب دو ہفتوں سے بھی کم مدت رہتی ہے اور دونوں صدارتی امید وار بڑے زور و شور سے اپنی انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ’وال سٹریٹ جرنل‘ اخبار کی ایک سُرخی ہے کہ مسٹر رامنی تبدیلی کی جو بات کرتے ہیں اُس کا جواب صدر اوبامہ انتباہ سے دیتے ہیں۔

رینو نیواڈا میں ایک انتخابی تقریر میں مسٹر رامنی نے اپنے آپ کو تبدیلی کا نقیب قرار دیا اورانہوں نے ووٹروں کی یقین دہانی کر دی،، کہ وُہ انہیں واشنگٹن کی موجودہ علّتوں سے نجات دلایئں گے۔

اخبار کہتا ہے کہ یہ وُہی پیغام ہے جوچار سال قبل صدر اوبامہ نے اپنے ووٹروں کو دیا تھا اور اس بات کا قائل کر دیا تھاکہ وُہ پارٹی بازی کی دلدل سے بالا تر ہو کر کام کرنے کے اہل ہیں۔ صدر اوبامہ اب ووٹروں سے کہتے ہیں کہ انہوں نے جس تبدیلی کا عہد کیا تھا ، وُہ وہ پہلے ہی لا چُکے ہیں اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے برعکس مسٹر رامنی جس قسم کی تبدیلی لانا چاہتے ہیں وُہ وہی پالیسیاں ہیں جن پر سابق صدر جارج ڈبلیو بُش عمل پیرا تھے۔

مسٹر اوبامہ اپنے حریف کو یہ طعنہ بھی دیتے ہیں کہ وُہ ٹیکسوں کی کٹوتی موٹر کا روں کی صنعت کو سہارا دینے اور دوسرے ایسے امُور پر وہ اپنے سابقہ موقّف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ سب اعتماد کا معاملہ ہےاور صدارتی مہم کے اس اہم مرحلے پرکوئی اور امر اس سے زیادہ سنگین نہیں ہو سکتا۔

’فلاڈلفیا انکوائیرر‘ تیسرے اور آخری صدارتی مباحثے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتا ہےکہ اس میں صدر اوبامہ کی شخصیت ایک چوکس ا ور مدمّغ سیاست دان کی حیثیت سے اُبھری ہےاور انہوں نے چابکدستی کے ساتھ ایسی پالیسی کی حمائت میں دلائل دیں جو دوست اور دُشمن دونوں پر یکساں طور پر واضح ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اُنھوں نے اس کی بھی وضاحت کر دی کہ ان کی تمام تر فوجی اور سفارتی مساعی ِ امریکی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے عبارت ہیں۔

اِس کے برعکس ، اخبار کہتا ہے مسٹر رامنی نے ایسی قیادت فراہم کرنے کی ایک مبہم سی خواہش کا اظہار کیا جِس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی قوموں کو دہشت گردی سے تائب ہونے پر آمادہ کرنا تھا۔

اخبار نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ مسٹر رامنی نے دفاعی اخراجات میں بھاری اضافے کی وکالت کی۔اور اس کے حق میں یہ دلیل دی کہ امریکہ کے پاس اس وقت سنہ 1917 کے مقابلے میں کم بحری جہاز ہیں اس کے جواب میں مسٹر اوبامہ نے از راہ تفنّن کہا کہ اس طرح تو امریکی فوج میں اس وقت گھوڑوں اور برچھوں کی تعداد بھی کم ہے۔وجہ ظاہر ہے کہ فوج کے طور طریقے بدل گئے ہیں۔

اِسی طرح، اخبار کے خیال میں حکومت کے محاصل میں کٹوتی اور دفاعی اخراجات میں اضافے سے متعلّق رامنی کی تجویز سا بق صدر جارج ڈبلیُو کی تباہ کُن اقتصادی حکمت عملی کی صدائے بازگشت ہے جس نے ملک کو دو ایسی جنگوں میں جھونک دیا، جن کے اخراجات پورے کرنے کے لئے پیسہ ہی نہیں تھااور جس کے نتیجے میں امریکی معیشت پر دباؤ پڑا اور ملک مالی بُحران کا شکار ہوا۔

اِسی درمیان،’وال سٹریٹ جرنل‘ کی یہ اطلاع ہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے رواں انتخابی دوڑ میں صدر براک اوبامہ کو دوبارہ اپنا پسندیدہ امّیدوار قرار دیا ہے۔
مسٹر پاؤل نے، جو سیاسی اعتقادات کے اعتبار سے راسخ العقیدہ ری پبلکن ہیں، چار سال پہلے کے انتخابات میں بھی ری پبلکن امید وار جان میکین کے مقابلے میں مسٹر اوبا مہ کی کُھل کر حمائت کی تھی۔

افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ سرکاری فوجوں کی صفوں میں گُھس کر اُن پرحملہ کرنے کی وارداتوں میں اضافہ ہو گا۔

روزنامہ ’ ایگ زے مٕنر‘ میں ایسو سی ایٹد پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک ایسے حملوں میں نیٹو کے 52 فوجی ہلاک ہو چُکے ہیں۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر طالبان کے رُو پوش لیڈر مُلّا محمّد عمر نے انٹرنیٹ پرایک پیغام میں اپنے پیروکاروں کو ان کارناموں پر مبارک باد دی ہے اور اُنہیں تلقین کی ہے کہ وُہ سرکاری فوجوں میں زیادہ تعدادمیں دھوکے سے شامل ہونے کی یہ روش جاری رکھیں ،اسی دوران بُدھ کو نیٹو نے بتایاکہ جنوبی افغانستان میں ایسے ہی حملے میں اُس کے دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملوں کی وجہ سے نیٹو ممالک میں اس گیا رہ سالہ جنگ کی حمائت گرتی چلی جارہی ہے اور یہ کہ دھوکے سے سرکاری فوج میں اس طرح گُھس جانے والے طالبان نے نہ صرف غیر ملکی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے، بلکہ پچاس افغان فوجیوں کو بھی ہلاک کیا ہے۔

پچھلے ہفتے اقوام متحدہ نے طالبان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ سڑکوں پر خانہ ساز بموں اور سرنگوں کا استعمال بند کریں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں پر صرف ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے بموں کا استعمال کرتے ہیں جنہیں وُہ خاص طور پر نیٹو فوجوں اور ان کی اتّحادی افغان فوجوں کو نشانہ بنانے کے لئے نصب کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG