رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: طالبان کے ساتھ ناکام امن مذاکرات


فائل

فائل

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شمالی وزیرستان وہ علاقہ ہے جہاں سے پچھلے ایک عشرے کے دوران، پاکستانی طالبان اور ان سے وابستہ دوسرے ٹولوں نے پاکستان کے بیشتر علاقے میں دہشت پھیلائی ہے

’انٹرنیشنل نیو یارک ٹائمز‘ میں پاکستان کی موجودہ صورت حال پر، امریکی بحریہ کی یونی ورسٹی کے پروفیسر، حیدر علی حسین ملک کا ایک مضمون چھپا ہے، جس میں انہوں نے حکومت پاکستان کی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی پالیسی سے سخت اختلاف کرتے ہوئے، کہا ہے کہ یہ امن مذاکرات ناکام ہو جائیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ امن کی یہ حکمت عملی، کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو اُن کے خلاف فوجی کاروائی بند کر دی جائے گی، لاحاصل ہے۔

اُن کا وزیر اعظم نواز شریف کو یہ مشورہ ہے کہ اُنہیں مذاکرات کو حتمی طور پر خیرباد کہنا چاہئے اور اپنی فوج کو حکم دینا چاہئے کہ وہ موسم بہار میں برف پگھلنے کے ساتھ ہی طالبان کو اُن کے پہاڑوں میں مضبوط گڑھ سے نکال باہر کرنے کے لئے زبر دست حملہ شروع کرے۔ ان کے خیال میں، یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے یہ عسکریت پسند پاکستانی عوام اور افغانستان کے لئے، اور رسد کے راستے کے لئے سب سے زیادہ خطرہ بنے ہوئے ہیں، اور اس کام میں امریکہ کو فوج کی امداد کرنی چاہئے۔

مضمون نگار یاد دلاتے ہیں کہ پچھلے ایک عشرے کے دوران، اسی شمال مغربی علاقے سے پاکستانی طالبان اور ان سے وابستہ دوسرے ٹولوں نے پاکستان کے بیشتر علاقے میں دہشت پھیلائی ہے۔

اُنہوں نے اٹھارہ ہزار سے زیادہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، جن میں ساڑھے پانچ ہزار پولیس والوں اور فوجیوں کے علاوہ شیعہ برادری کے 2000 افراد شامل ہیں۔ دریائے سندھ کی مغربی جانب ایک محاصرے کی سی کیفیت ہے، باوجودیکہ وہاں پاکستانی فوج کی چھاؤنیاں موجود ہیں۔

مضمون نگار کا کہنا کہ پاکستانی طالبان امریکہ اور ہندوستان سے تو نفرت کرتے ہی ہیِں، لیکن پاکستان سے ُانہیں اب زیادہ نفرت ہے، اور القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور دوسرے خونخوار جتھوں کے ساتھ مل کر پاکستانی طالبان نے شیعووں، ہندوستانیوں، امریکیوں، افغانوں اور پولیو کے خلاف مہم چلانے والوں کا قتل عام کیا ہے۔ اور اس پر پاکستان نے جس رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے، مضمون نگار کی نظر میں اُس کی بنیاد اس خود فریبی پر تھی کہ پاکستانی فوج اور شہریوں کے خلاف لڑنے والے طالبان بُرے تھے اور ہندوستان سے لڑنے والے اچھے۔ حالانکہ، دونوں میں مشکل ہی سے کوئی فرق ہے۔
کیونکہ، ہندوستانیوں کے مقابلے میں، انہوں نے کئی گُنا زیادہ پاکستانیوں کو تہِ تیغ کیا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے، مضمون نگار کا کہناہے کہ سنہ 2008 میں ممبئی پر دہشتگردانہ حملہ کرنے والے لشکر طیبہ نے شیعہ برادری کے لوگوں کو نشانہ بنانے والے موت کے سوداگروں کی حمائت کی ہے۔ اسی طرح، حقانی نیٹ ورک نے، جس نے افغانستان میں ہندوستانی اثرونفوذ بڑھنے کے خلاف کام کیا ہے، القاعدہ اور پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

مضمون نگار نے یاد دلایا ہے کہ جب 1999ء میں طالبان نے سوات کی وادی پر قبضہ کر کے پو لیس والو ں کے گلے کاٹنے شروع کئے، عورتوں کو سر عام دُرّے لگانے شروع کئے اور ملالہ یوسف زئی جیسی لڑکیوں کو سکول جانےسے روکا۔ تو نئی تربیت نئے حربوں اور امریکی جنگی سامان سے لیس پاکستانی فوج نے اس وادی پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ اور جو 20 لاکھ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے تھے، واپس آگئے۔ اور، مضمون نگار کے بقول، بیشتر پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ وادی سوات کی یہ مثال طالبان کے گڑھ شمالی وزیرستان میں دُہرائی جائے۔29 جنوری کو مذاکرات کی حمائت میں تقریر کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اس کا خود اعتراف کیا، جب انہوں نے کہا کہ اگر آج دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو ساری قوم اس پر لبّیک کہے گی۔

مضمون نگار کا امریکہ کو مشورہ ہے کہ موسم بہار کے حملے کی تیاریوں کے ساتھ اُسے پاکستان کو انٹلی جنس اور دیکھ بھال کی پیش کش کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کی بحالی کے لئے انسانی بنیاد پر امداد کی پیشکش کرنی چاہئے، جو لڑائی میں بے گھر ہو جائیں گے۔ یہ موقع ہےُ، جب اُسے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لئے، پاکستانی جمہوریت کے لئے اس بدتریں اندرونی خطرے سے نمٹنے کے لئے اُس کی مدد کرنی چاہئے۔

یوکرین میں مغرب نواز احتجاجی مظاہرین روس کی طرف جھکاؤ رکھنے والی وکٹر یاناکووچ کی حکومت کا جو تختہ اُلٹا ہے اُس پر ’ڈلّس مارننگ نیوز‘ اخبار ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ کمزور ہی سہی یہ تبدیلی ایک پیش رفت ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں کے بے شمار لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے معاملات میں رُوس کا عمل دخل کم سے کم ہو۔

اخبار کا خیال ہے کہ حکومت کے سنگین کریک ڈاؤن کی وجہ سے بیسیوں افراد کا خون بہایا گیا ہے،جس کے لئے یاناکووچ کو گرفتار کرکے اُن پرمقدّمہ چلنا چاہئے۔

ادارئے میں مغربی طاقتوں اور خاص طور پر امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وُہ ایسے آئینی اصلاحات کی حمائت کریں جن سے احتجاجی مظاہرین کے مطالبات پورے ہوں، اور یوکرین کی خود مختاری کی ضمانت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، یوکرین کے اتحاد کو کوئی زک نہ پُہنچے، جس کےمعنی یہ ہوتے ہیں کہ روس کی ہم نوا اقلیّت کی آواز کو نہ دبایا جائے۔
XS
SM
MD
LG