رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: طالبان سے مذاکرات ناکامی کے قریب


مہمند ایجنسی

مہمند ایجنسی

’عسکریت پسندوں کا یہ ٹولہ، جو خالد خراسانی نامی لیڈر کی کمان میں سر گرم ہے، حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے خلاف ہے۔ اس نے ان فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں ایک وڈیو جاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے ان فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو جائے گی‘: لاس انجلس ٹائمز

پاکستان کے جو تقریباً دو درجن فوجی سنہ 2010 ءسےطالبان کی حراست میں تھے، اُن کی اچانک اور بےداردانہ ہلاکت پر ’لاس انجلس ٹائمز‘ اخبار کہتا ہے کہ اُس کے نتیجے میں حکومت پاکستان کے اس انتہا پسند تنظیم کے ساتھ ایک صلحنامے کے لئے مذاکرات ناکامی کے دہانے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ شمال مغربی پاکستان کے مہمند قبائیلی علاقے سے ایک جنگجو تنظیم نے فرنٹیئر کور کے ان قیدی سپاہیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جنہیں وہ سنہ 2010 میں ایک فوجی چوکی پر حملے کے دوران، پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس تنظیم نے، جو کالعدم پاکستان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم ہے، یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کی یہ کاروائی اُس کے اُن حامیوں کی موت کے بعد انتقام کے طور پر کی گئی ہے، جو پاکستانی فوج کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

اخبار کہتا ہے کہ عسکریت پسندوں کا یہ ٹولہ، جو خالد خراسانی نامی لیڈر کی کمان میں سر گرم ہے، حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے خلاف ہے۔ اس نے ان فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں ایک وڈیو جاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے ان فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو جائے گی۔

اخبار نے اسلام آباد میں سیکیورٹی سے وابستہ عہدہ داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اس دعوے کو درست تصوّر کرتے ہیں۔ اگرچہ، وہ اس کی توثیق نہیں کرسکتے کہ کل کتنے فوجی ہلاک کئے گئے ہیں۔

حکومت اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان پشاور سے 35 میل مشرق میں اکوڑہ خٹک میں جو اجلاس ہونے والا تھا، اُسے منسوخ کردیا گیا ہے۔ اور اخبار نے طالبان کے وفد کے رکن محمد ابراہیم خان کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعطّل پیدا ہو گیا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستانی طالبان کے مرکزی ترجمان نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر رپورٹروں کے ساتھ گفتگو میں الزام لگایا ہے کہ پچھلے تین روز میں کراچی شہر اور نوشہرہ میں 23 جنگجؤوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ایک پاکستانی سیکیورٹی اہل کار نے جس کو اپنا نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں تھی، طالبان کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے، اسے پروپیگنڈے کی ایک چال سے تعبیر کیا، جس کا مقصد اپنی مذموم حرکت کے لئے جواز فراہم کر نا تھا۔

اخبار ’ڈلس مارننگ نیوز‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ اگلے چند سال کے دوران لگ بھگ دس لاکھ افراد امریکہ کی فوج سے فارغ کر دئے جائیں گے، جس کی وجوہات میں وفاقی بجٹ میں کٹوتیاں، افغانستان میں موجود امریکی فوج میں بھاری تخفیف اور ملک کی مسلّح افواج کی مجموعی تعداد میں کمی کرنا شامل ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ پوری قوم میں سابق فوجیوں کی حمائت کے لئے خیر سگالی کا زبردست جذبہ موجود ہے۔ لیکن، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اُنہیں بھاری مسائیل کا سامنا ہے۔ مثلاً، نائن الیون کے بعد سابق فوجیوں میں سے 25 ہزار سے زیادہ ایسے افراد ہیں، جن کے پاس رہنے کو گھر نہیں ہے، یا انہیں اپنے گھر سے نکالے جانے کا اندیشہ ہے۔ سابق فوجیوں میں خود کشی کی وارداتوں کا تناسب بڑھ رہا ہے اور اس کی موجودہ یومیہ اوسط بیس کے لگ بھگ ہے، جبکہ نوجوان سابق فوجیوں میں بے روز گاری کی شرح قومی اوسط سے اب بھی زیادہ ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ لام سے واپس وطن آنے والے بیشتر فوجی اچھے لوگ ہوتے ہیں، جن کی خواہش محض یہ ہوتی ہے کہ انہیں اچھی ملازمت یا اچھی تعلیم میسّر آئے۔

اخبار کو یہ اندیشہ ہے کہ امریکی پبلک،13 سال کے جنگ کے دور کے بعد یہ خیال کرکے آرام سے نہ بیٹھ جائے کہ اب مسائیل حل ہو گئے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسائیل تو اب شرو ع ہوئے ہیں۔ فوج اور سول حلقوں کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سابق فوجیوں کو روزگار فراہم کرنا قوم کی ایک ترجیح ہونی چاہئے، اچھا روزگار خاندانی اور مالیاتی استحکام پیدا کرتا ہے جو اچھی تعلیم کے ساتھ مل کر سول معاشرے کے ساتھ ایک پُل کا کام دے گا۔

شمالی کوریا میں حقوق انسانی کی صورت حال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے اُس ملک کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم ٹھہرایا ہے۔ ’لاس انجلس ٹائمز‘ کہتا ہے کہ 400 صفحات پر پھیلی ہوئی اس رپورٹ میں الز ام لگایا گیا ہے کہ اس ملک کے حاکموں نے؛ اور غالباً لیڈر کِم جانگ ان کے حُکم پر، انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ لوگوں کو اذیتیں پہنچائی ہیں، اُنہیں بُھوکوں مارا ہے اور طرح طرح کے ظُلم ڈھائے ہیں۔

اس رپورٹ کے ساتھ کِم جان ان کے نام تین صفحوں پر مشتمل ایک خط بھی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اُس کی ذات کو ان مظالم کے لئے ذمّہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG