رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: امریکی معیشت کا فروغ


نیو یارک اسٹاک ایکس چینج

نیو یارک اسٹاک ایکس چینج

نئے اعداد و شمار سامنے آنے سے، ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اور تاجر برادری کی طرف سے موسم گرما کے دوران خرید کے عمل میں اچھا اضافہ ہوا

’وال سٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران، امریکی معیشت کی سالانہ شرح نمُو نے چار اعشاریہ ایک فیصد کی صحتمند حد کو چُھو لیاِ ہے، جس سے یہ امید بڑھ گئی ہے کہ سالہا سال کی سُست روی کے بعد، یہ شرح زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

سابقہ اندازوں میں جولائی سے لے کر ستمبر کے عرصےتک کی شرح تین اعشاریہ چھ بتائی گئی تھی۔ لیکن، نئے اعداد و شمار سامنے آنے سے، ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اور تاجر برادری کی طرف سے موسم گرما کے دوران خرید کے عمل میں اچھا اضافہ ہوا۔ چنانچہ، نئے تخمینوں کے مطابق، مجموعی قومی پیداوار کی توسیع سنہ 2011 کی تیسری سہماہی کے بعد تیز ترین رفتار سے ہوئی ہے۔

قومی معیشت کے بارے میں یہ نئی رپورٹ اس بات کی تازہ ترین علامت ہے کہ اس سال کے دوسرے نصف حصّے کے دوران، امریکی معیشت زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے لگی ہے۔ جب پہلے کے مقابلے میں زیادہ امریکیوں کو روزگار مُیّسر آیا ہے، اور اس سال کے اوائیل میں ٹیکسوں میں جو اضافہ ہوا تھا، اس کے ساتھ عوام نے سمجھوتہ کر لیا ہے۔

اب، اخبار کی نظر میں، دیکھنا یہ ہے کہ آیا معیشت واقعتہً ایک صحت مند دور میں داخل ہو گئی ہے، جس میں روزگار کے مواقع بڑھ جانے سے صارفین اور کاروباری طبقے کی جانب سے خرچ کی مد میں زیادہ پیسہ جائے گا اور اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

فیڈرل رزرو کے عہدہ داروں کا اس ہفتے کہنا تھا کہ اُنہیں سنہ 2014 کے دوران، معیشت میں جس شرح نمو کی توقع ہے وہ دو اعشاریہ آٹھ اور تین اعشاریہ دو کے درمیان ہوگی۔

اس کے ساتھ ساتھ ،فیڈرل رزرو کے سبکدوش ہونے والے سربراہ بین برننکی نے اعلان کیا ہے کہ مرکزی بنک بانڈز کی خریداری میں ماہوار 85 ارب ڈالر کی اوسط سے کمی کرے گا۔ اور یہ بھی حالیہ مہینوں میں روزگار کے مواقع بڑھنے اور اور صارفین کے اخراجات میں اضافے کے تناظر میں، رجائیت کی ایک اور علامت ہے۔

پچھلے دنوں، ایک امریکی وفاقی عدالت نے یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ امیریکن نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کو ملک کے تمام ٹیلیفون ریکارڈز کی چھان بین کرنے کا جو کُلّی اختیار دیا گیا ہے، وُہ غالباً غیر آئینی ہے۔ اور، تقریباً یقینی طور پر آئین کی چوتھی ترمیم کے منافی ہے، جس میں غیر معقول تلاشیوں کی ممانعت کی گئی ہے۔

اُس کے بعد، ’یو ایس اے ٹوڈے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، صدر اوبامہ کے ایک ریویو بورڈ نے تسلیم کرلیا ہے کہ امریکیوں اور ساری دنیا کے لوگوں کی جو جاسوسی کی گئی ہے، اُس میں یہ ایجنسی حدّ سے زیادہ تجاوّز کر گئی ہے۔ اس بورڈ نے اپنی رپورٹ میں چالیس سفارشات کی ہیں، تاکہ سیکیورٹی کے آن لائن آلات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس ایجسنسی میں اور غیر ملکی انٹلی جنس پراور شہری آزادیوں پر نظر رکھنے والے اداروں میں بھی تنظیمی اصلاحات نافذ کی جائیں۔ لیکن، رپورٹ میں اس کی گنجائش باقی چھوڑی گئی ہے، جس کی رُو سے یہ ایجنسی مستقبل میں پھر وسیع پیمانے کی جاسوسی کر سکتی ہے۔ لیکن، ایجنسی کی اُس وسیع پیمانے کی جاسوسی کے آئینی جواز کے بارے میں کُچھ نہیں کہا گیا ہے، ۔جس کو اس وفاقی عدالت نے چیلنج کیا ہے۔

صدر کے اس پینل نے عوام میں اس بڑھتےہوئے اتفاق رائے کو تسلیم کیا ہے کہ امریکی معاشرے میں الیکٹرانک آلات کی مدد سے لوگوں پر نظر رکھنے کی کوئی گّنجائش نہیں ہے۔ اور، اُس نے بعض دلچسپ سفارشات بھی کی ہیں۔

اخبار نے وہائٹ ہاؤس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر اوبامہ اگلے چند ہفتوں کے دوران ان سفارشات کا جائزہ لیں گے۔انہوں نے اس پینل کے پانچ ارکان کے ساتھ اس رپورٹ پر تفصیلی بحث کی ہے۔

ترجمان نے واضح کر دیا کہ انٹلی جنس کے اہل کاروں کو ان کے اختیارات سے محروم نہیں کیا جارہا۔

امیریکن سول لبرٹیز یونین کے اگزیکٹِو ڈئریکٹر انتھونی رومے رو نے کہا ہے کہ اُن کا ادارہ نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے دیکھ بھال کے پروگرام کو غیرآئینی سمجھتا ہے، جس پر روک لگنی چاہئے اور انہوں نے صدر اوبامہ سے اس پینل کی سفارشات کو من و عن قبول کرنے پر زور دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG