رسائی کے لنکس

’نیو یارک ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو سال کے بُحران اور ایک دوسرے پرالزم تراشی کے بعد یہ قدم پاکستانی فو ج کے لئے حمایت کو معمول پر لانے کی ایک کوشش ہے

’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلّقات معمول پر آنے کی ایک علامت یہ ہے کہ محکمہٴ دفاع ، پینٹگان نے بڑی خاموشی کے ساتھ کانگریس کو یہ اطلاع کر دی ہے کہ وہ پاکستان کو لگ بھگ ستّر کروڑ ڈالر کی رقم ادا کر رہا ہے۔یہ رقم افغانستان کی سرحد کے ساتھ ایک لاکھ چالیس ہزار فوج متعین کرنے کے معاوضے کے طور پر دی جا رہی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ تقریباً دو سال کے بُحران اور ایک دوسرے پرالزم تراشی کے بعد یہ قدم پاکستانی فو ج کے لئے حمایت کو معمول پر لانے کی ایک کوشش ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پاکستان کو غیر ملکی اور فوجی امداد کے سب بڑے حامی سینیٹر جان کیری کو صدر براک اوبامہ ملک کا وزیر خارجہ نامزد کرنے والے ہیں۔سینیٹر کیری، جو اس وقت سینیٹ کی خارجہ تعلّقات کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ بارہا پاکستان کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی کے فرائض سرانجام دے چُکے ہیں۔ اور اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے فوراً بعدبھی وہ پاکستان گئے تھے، وُہ اس قانون کو مرتّب کرنے والوں میں شامل تھے جس کے تحت پاکستان کے لئے پانچ سال کے لئے ساڑھے سات ارب ڈالر کی غیر فوجی امداد کی منظوری دی گئی تھی۔

امریکہ سالانہ لگ بھگ دو ارب ڈالر کی سیکیورٹی امداد بھی فراہم کرتا ہے جس میں سے تقریباًٍ آدھی رقم اُن اخراجات کی ادائیگی کے لئے دی جاتی ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے پر پاکستان کو اُٹھانے پڑتے ہیں۔اب تک ان میں سے کئی ادائیگیاں روکی گئی تھیں جس کی جُزوی وجہ سی آئی اے کے ایک اوپریشن میں اوسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات تھےاور ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستان نے پچھلے سال افغانستان جانے والا رسد کا راستہ بند کر دیا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ سینیٹر جان کیری کی وزیر خارجہ کے لئے نامزدگی کا پاکستان میں خیر مقدم کیا جائےگا جہاں اُنہیں پاکستان کے ہمدردقانون ساز کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور جہاں اُنہوں نے اعلیٰ سویلین اور فوجی عہدہ داروں کے ساتھ مراسم قائم کر رکھے ہیں۔

البتہ، وزیر خارجہ مقرّر ہونے پر اُن کو جنوبی ایشیا کے مشکل ترین سفارتی مسائل سے عہدہ برآ ہونا پڑے گا، جن میں سے ، اخبار کے مطابق، وُہ کرادار شامل ہے جو پاکستان افغانستان کو طالبان کے ساتھ ایک سیاسی سمجھوتہ کرانے میں ادا کر سکتا ہے۔

اخبار کہتاہے کہ امریکہ نے اس قسم کا سمجھوتہ کرانے کی جو کوشش کی تھی اُس میں وہ ناکام ہو گیاہے جس کے بعد وہ پیچھے ہٹ گیا ہے اوراب پاکستان کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ اور، جیسا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر شیری رحمان نے کہا ہے پاک امریکی تعلقات اب زیادہ مستحکم سطح پر استوار ہو رہے ہیں۔ ایک سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کے حوالے سے اخبار نے کہا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کےاتنے قریب آگئے ہیں کہ آٹھ برس میں کبھی نہ تھے۔

رسالہ ’ٹائم‘ صدر اوبامہ کو پھر اس سال کی شخصیت قرار دیا ہے۔ سنہ 2009 میں بھی اِس رسالے نے مسٹر اوبامہ ہی کو اس اعزاز کے لئے نامزد کیا تھا۔

نیو یارک کا اخبار’ نُیوز ڈے‘ کہتا ہے کہ اس سال کے لئے پاکستان کی پندرہ سالہ لڑکی ملالہ یُوسف زئی کا نام بھی اس اعزاز کے لئے زیر غور تھا جسے اکتوبر کے مہینے میں طالبان نے جان سے ماردینے کی کوشش کی تھی، کیونکہ وُہ تعلیم نسواں کی حمائت میں سرگرم تھی اور جس کا آج کل انگلستان کے ایک اسپتال میں علاج ہو رہا ہے اور جو اس حملے کے بعد اب بچوں کے حقوق کی ایک علامت بن گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG