رسائی کے لنکس

اخباری رپورٹ کے مطابق، اِس کی کامیابی کا دارومدار اس پر ہوگا کہ مسٹر اسد کس حد تک تعاون کرتے ہیں، جن کی فوجوں کے ہاتھوں اب تک اس بے رحم خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں

امریکہ اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے اسلحہ خانے کو ختم کرنے پر جو سمجھوتہ طے پایا ہے، اُس پر ’نیو یارک ٹائمز‘ کا ایڈیٹوریل بورڈ کہتا ہے کہ صدر اوبامہ اس کے بدلے جس محدود فوجی حملے پر غور کر رہے تھے، اُس کے مقابلے میں اس سمجھوتے کی وجہ سے حیرت انگیز حد تک ایسے ہتھیاروں کے دوبارہ استعمال کو روکنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

لیکن، اِس کے باوجود، صدر بشارالاسد کے زہریلی گیس کا اثاثہ، جو واشنگٹن اور ماسکو کے تخمینوں کے مطابق 1000 ٹن ہے، اتنا زیادہ ہے کہ اقوام متحدہ کو کڑی نگرانی اور دل جمعی سے کام کرنا پڑے گا اور اس کی کامیابی کا دارومدار اس پر ہوگا کہ مسٹر اسد کس حد تک تعاون کرتے ہیں، جن کی فوجوں کے ہاتھوں اب تک اس بے رحم خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

ان میں وہ 1400 لوگ شامل ہیں جو اگست میں، امریکہ کے بقول، زہریلی گیس کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

جیسا کہ وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے، اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک دائرہٴ کار سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے طے پائے گا اور دنیا کو زیادہ دیر اس کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا کہ مسٹر کیری اور اُن کے روسی ہم منصب سرگے لاؤراف کے اس اعلان کردہ سمجھوتے پر عمل درآمد ہوگا کہ نہیں جس کے تحت شام کو ایک ہفتے کے اندر اپنے کیمیائی اسلحے خانے کی مکمل فہرست فراہم کرنی ہوگی، جسے بلا روک ٹوک معائنہ کرنے کی بین الاقوامی انسپکٹروں کو اجازت ہوگی۔ اور سنہ 2014 تک تمام کیمیائی ہتھیاروں اور اس سے متعلّقہ سازو سامان کو نیست و نابود کرنا ہوگا۔

اخبار کہتا ہے کہ اس حتمی تاریخ تک یہ کام مکمل کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا ضروری ہے، جو صدر اسد کے تعاون کے باوجود خانہ جنگی کی وجہ سے اتنا آسان کام نہیں ہوگا۔

اخبار کہتاہے کہ اس سمجھوتے کی وجہ سے مسٹر اسد فوری امریکی فوجی کاروائی سے بچ گئے ہیں۔ لیکن، اُنہیں اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کے ساتھ پورا تعاون کرنا ہوگا۔ ورنہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق، ان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جاسکے گی اور صدر اوبامہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی فوجی کاروائی ابھی منسوخ نہیں کی گئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ آگے بہت سی غیر یقینی باتو ں کا سامنا رہے گا جن میں سے ایک یہ ہے کہ شامی حزب اختلاف کی حمائت میں انتظامیہ کو کیا کرنا ہوگا۔ لیکن، اب جب روس اور امریکہ کے مابین ایک سمجھوتہ ہوگیا ہے، اس بات کی امید رکھنے کی معقول وجہ ہے کہ اس تعاون کے نتیجے میں شام میں ایک مجموعی امن سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔

اخبار کے بقول، صدر اوبامہ کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اس مرحلے پر فوجی کاروائی پر ایک سفارتی سمجھوتے کو ترجیح دی ہے اور شام کے اس بحران سے ایران کے نئے صدر حسن روحانی پر واضح ہو جانا چاہئے کہ مسٹر اوبامہ، جنہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف فوجی کاوائی کے امکان کی بات کی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے حل کے معاملے میں سنجیدہ ہیں، اور مسٹر اوبامہ کا یہ انکشاف حوصلہ افزا ہے کہ مسٹر روحانی کے ساتھ اُن کا بالواسطہ طور پر پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

اسی موضوع پر ’یو ایس اے ٹوڈے‘ ایک ادارئے میں کہتا ہےکہ پچھلے ہفتے شام میں حالات نے خارجہ پالیسی کے ایک سانحے سے ایک قطعی طور پر غیر متوقع کامیابی کی جانب اس تیزی کے ساتھ پلٹا کھایا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، اور ناہی اس کے نتیجے کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا ممکن ہے۔

لیکن، اخبار کا خیال ہے کہ بشارا الاسد کے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے سے متعلق امریکہ اور روس کے درمیان اختتام ہفتہ جس معاہدے کا دائرہٴکار طے پایا ہے۔ اُس سے شام کی لاینحل گُتھی کی نوعیت کئی اہم اعتبار سے بدل گئی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اس سے نہ تو شام کی خانہ جنگی ختم ہوگی اور ناہی اسد کی بے رحم جنگی مشین، جس پر شام کی باغی اور اور اُن کے امریکی حامی برہم ہیں۔ ایک امریکی حملہ اب خارج ازامکان ہے، اور اگر کیمیائی ہتھیاروں کے سمجھوتے پر عمل درآمد ہوگیا تو یہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہوگا جس سے ایک خوف ناک خطرہ ٹل جائے گا۔ اور وسیع پیمانے کی تباہی لانے والے ہتھیاروں پر روک لگانے کی عالمی کوششوں کو تقویت پہنچے گی۔

اخبار کے خیال میں، شام پر امریکہ حملہ رکوا کر اور شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر تیار کرکے روسی صدر پوٹن کو دہری کامیابی ہوئی ہے۔ ایک تو شام روس کے زیر اثر رہے گا۔ اور دوسرے کیمیائی ہتھیار اُن اسلامی انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں گے جو ایک روز اُنہیں خود ماسکو کے خلاف استعمال کر سکتے تھے۔

امریکی ریاست کالا راڈو میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے جو زبردست سیلاب آئے ہیں، ’سینٹ لوُئی پوسٹ ڈسپیچ‘ اخبار کے مطابق، اُنہوں نے راکی مونٹِن پہاڑ کے دامن کو جنّت نما علاقے سے آفت زدہ خطّے میں بدل دیا ہے جہاں تقریباً 1500 مکان بالکل تباہ ہوگئے ہیں اور ساڑھے سترہ ہزار کو نقصان پہنچا ہے۔ اور ہنگامی امداد فراہم کرنے والے عہدہ داروں کے بقول گیارہ ہزار سات سو افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جب کہ 1253 افراد کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ فورٹ مارگن کے مشرق میں کی پہاڑی بستیوں میں متعدد افراد سیلاب کے پانی کی وجہ سے باقی دنیا سے کٹ گئے ہیں۔ مزید بارشوں کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات میں اضافہ ہو رپا ہے۔
XS
SM
MD
LG