رسائی کے لنکس

’ان دو پُرانے اتّحادی ملکوں کے مابین اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور پچھلے ہفتے سعودی انٹلی جنس کے سربراہ نے خبردار کیا کہ بعض امور میں امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کیا جائے گا‘: انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون

عربوں کو امریکہ اور ایران کے درمیان ’دیتانت‘ پر کیوں تشویش ہے، اس عنوان سےمروان بشاراہ ’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون‘ میں لکھتے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب کے مابین یہ تناؤ، جو مشرق وسطیٰ کی طرف واشنگٹن کی پالیسی کی وجہ سے کئی ماہ سے چل رہا تھا، پچھلے ہفتے کُھل کر سامنے آگیا۔

پہلے تو شام میں امریکہ کی طرف سے کوئی کاروائی نہ ہوئی۔ پھر، عرب اسرائیلی تنازعے میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد، جولائی میں مصر کے فوجی انقلاب کے بعد، امریکہ نے مصر کی فوجی امداد سے ہاتھ کھینچ لیا، اور اب صدر اوباما علی الاعلان سعودی عرب کے حریف، ایران کے ساتھ مصالحت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ چنانچہ، اب ان دو پُرانے اتّحادی ملکوں کے مابین اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اور پچھلے ہفتے سعودی انٹلی جنس کے سربراہ نے خبردار کیا کہ بعض امور میں امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کیا جائے گا۔

اس کے چند ہی روز بعد سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نشست کی پیش کش کو ٹُھکراکر خود اپنے سفارت کاروں کو ورطہٴحیرت میں ڈال دیا، یہ قدم شام کے بُحران پر دنیا بھر کی طرف کوئی کاروائی نہ ہونے کے خلاف غصّے کا اظہار تھا۔ مضمون نگار کی دانست میں یہ قدم ایک تو امریکہ کی شام، مصر اور فلسطین کے معاملوں کی طرف امریکی پایسیوں پر دنیائے عرب کی بڑھتی ہوئی مایوسیوں کی علامت ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ امریکہ کے تناؤ کے امکانی خاتمے پر اُس کی انتہائی بد گُمانی کی۔

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ عرب ملکوں کو ڈر ہے کہ امریکی ایرانی مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیل خطے میں واحد جوہری طاقت رہ جائے گا، جس کا فلسطین پر قبضہ جاری رہے گا۔ جب کہ تعلقات کی بہتری کی وجہ سے ایران پر مغربی تعزیرات ختم ہوجائیں گی اور امریکہ بادل ناخواستہ اس خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو نفوذ کو قبول کرے گا۔ البتہ، مضمون نگار کی دانست میں جلد ہی اس وقت جو چیز اس وقت عظیم سفارتی کامیابی معلوم ہو رہی ہے، اُس کی اصل حقیقت ایک آتش فشاں پہاڑ پر قدم رکھنے سے زیادہ کُچھ نہ ہوگی۔جس سے ایران اور سعودی عرب کے مابین فرقہ ورانہ خلیج مزید گہری ہو جائے گی۔

مضمون نگار کا کہنا ہےکہ اگرچہ شیعہ سنی اختلا ف 1300 سال پرانا ہے، لیکن موجودہ تشدّد کے پیچھے سیاسی اغراض کارفرما ہیں جس کی سنگینی غیر ملکی مداخلت کاری کی وجہ سےبڑھ جاتی ہےاس خطے کے 22 ممالک کی 37 کروڑ آبادی بحر اوقیانوس سے لے کر بحرہند تک پھیلی ہوئی ہے اور ان کے درمیان بہت سارے امور پر اختلافات ضرور ہیں۔ لیکن، وہ عمومی طور پر پُورےخطے کو وسیع پیمانے کی تباہی لانے والے ہتھیاروں سے پاک رکھنا چاہتے ہیں اوراس کا اطلاق اسرائیل اور ایران دونوں پر ہوتا ہے۔

اس خطے کے مستقبل اور سلامتی کو یقینی بنانےکےلئے اس کی سٹرٹیجک اہمیت اور وسیع رقبے کے پیش نظر عرب ملکوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔ اور اُن کی دشمنی مول لینا خطرناک ہوگا، اور جیسا کہ صدر اوباما نے اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں کہا تھا، یہ بات امریکہ کے مفاد میں ہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ پُرامن اور خوشحال ہوں۔، چنانچہ، ان کے لئے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں جو سودا طے پائے، وُہ بھی اس کے حصّہ دار ہوں، اور اُنہیں اس سے کوئی گھاٹا نہ ہو۔

سعودی عرب میں جہاں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے ، ہفتے کے روز ساٹھ اولالعزم خواتین نے اس امتناع کے خلاف احتجاجاً گاڑی چلائی۔ لیکن، جیسا کہ ’نیو یارک پوسٹ‘ اخبار کہتا ہے، پولیس نے اُن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ حالانکہ، اُنہیں نہ صرف گرفتار کیا جا سکتا تھا، بلکہ اُن کی ملازمت بھی چھن سکتی تھی۔ لیکن، ان سرگرم خواتین کا کہنا تھا کہ اُن کے لئے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ عورتوں پرحکومت کے ظلم کے خلاف یہ قدم اُٹھا ئیں۔

سعودی عرب میں عورتوں کے گاڑی چلانے کے خلاف کوئی قانون تو نہیں ہے۔ لیکن، حکام انہیں گاڑی چلانے کا لائسنس نہیں دیتے۔ او ر ہفتے کو جن خواتین نے گاڑی چلانے کی جسارت کی اُن سب کے پاس غیر ممالک سے حاصل کردہ لائسنس تھے۔

سنہ 1990 میں بھی 50 عورتوں نے گاڑی چلانے کی جسارت کی تھی۔ لیکن، اُنہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن کے پاسپورٹ ضبط کرلئے گئے تھے اور اُن کو ملازمت سے بھی نکال دیا گیا تھا۔۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے ہفتے کو خواتین کے گاڑی چلانے پر فوری طور پر کُچھ نہیں کہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ 90 سالہ شاہ عبداللہ نے آٹھ سال قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا ایک دن آئے گا جب سعودی عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی جائے گی۔ اور انہیں کی بادشاہت کے دور میں ملک میں خواتین کے لئے چند یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں اورعورتوں کو ملازمت دینے کی پابندیوں کو قدرے نرم کیا گیا ہے۔

’نیو یارک ڈیلی نیوز‘ اخبار میں امریکی سیکیورٹی ایجنسی کے سابق ملازم، ایڈورڈ سنو ڈن کے بارے میں ایک کالم میں کہا گیا ہے کہ اُسے غدّار کہنا صحیح نہیں ہے۔

کالم نگار، بِل ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ اُس کی شروع شروع میں جو مذّمت کی گئی تھی وُہ زیادتی تھی۔ سنو ڈن کا اصرار ہے کہ اس نے نہ تو روسیوں اور نہ ہی چینیوں کو نہائت خفیہ مواد تک رسائی دی ہے اور کالم نگار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ سنوڈن کے پاس جو معلومات تھیں اُن کو اُس وکی لیکس کے طرز پر تھوک کے بھاؤ نہیں فراہم کیا۔ بلکہ، یہ احتیاط برتی کہ اسے ذمہ دار خبری اداروں کو دیا جائے، مثلاً واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز اور گارڈین۔
XS
SM
MD
LG